حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان - فتاویٰ…

حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان


صفحہ 4 از 4
  1.  پہلی قسم کفر کی جہل ہے۔ اور کافر جہل سے مراد تکذیب کرنا ہے۔ حضور اکرمﷺ کی صراحتاً ان امور میں جن کے بارے میں معلوم ہو کہ حضور اکرمﷺ نے یہ حکم فرمایا ہے اور یہ عقیدہ باطل ہو کہ حضور اکرمﷺ نے اپنے دعویٰ میں کا ذب تھے (نعوذ باللہ من ذلک) اسی طرح کا کفر ابوجہل کا کفر تھا اور جو کفار اس کے مانند ہوئے ان کا کفر بھی ایسا ہی تھا۔
  2. دوسری قسم کفر کی حجود و عناد ہے اور اس قسم کے کفر سے مراد تکذیب ہے۔حضوراکرمﷺ کے باوجود اس علم کے کہ حضور اکرمﷺ کے اپنے دعویٰ میں صادق ہوئے اور اس طرح کا کفر اہلِ کتاب کا کفر ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی یعنیٰ جو لوگ اہلِ کتاب سے ہیں وہ لوگ حضور اکرمﷺ کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا وہ لوگ اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں، اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کافروں نے انکار کیا اس امر کا، حالانکہ اس امر کا صحیح ہونا یہ لوگ یقیناً جانتے ہیں ۔ یہ انکار صرف بے انصافی اور تکبر سے ہے اور اسی طرح کا کفر ابلیس کا کفر بھی ہے۔ 
  3.  تیسری قسم کفر کی شک ہے جیسا کہ اکثر منافقین کا تھا۔
  4. چوتھی قسم کفر کی کفر تاویل ہے، اور کفر تاویل سے مراد یہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کے کلام کو ایسے معنیٰ حمل کرنا جو فی الواقع اس کلام کا معنیٰ نہ ہوں، یا محمول کرنا اس کلام کو تقیہ اور رعایت مصلحت پر یا ایسا ہی کسی اور امر غلظ پر اس کو حمل کرنا اور چونکہ نماز میں قبلہ رو کھڑا ہونا ایمان کے خاصہ سے ہے خواہ شاملہ ہو یا خاصہ غیر شاملہ ہو۔ اس واسطے اہلِ شرع نے ایمان کی تعبیر اہلِ قبلہ کے لفظ کے ساتھ کی ہے، چنانچہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ کہ میں منع کیا گیا قتل سے نمازیوں کے:

اس حدیث شریف میں مراد نمازیوں سے مسلمان ہیں، حالانکہ نص قرآن شریف سے صراحتاً ثابت ہے کہ اہلِ قبلہ ہی لوگ ہیں جن لوگوں نے تصدیق کی حضور اکرمﷺ کی ان سب امور میں جن کے بارے میں معلوم ہو کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنگ کرنا ماہ حرام میں بند کرنا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ سے اور کفر کرنا ہے اس کی شان میں، اور کفر کرنا ہے مسجد حرام کی شان میں اور نکال دینا مسجد حرام کے لوگوں کو زیادہ برا ہے نزدیک اللہ تعالیٰ کے۔ یہ مسئلہ قابلِ غور ہے۔

(فتاویٰ عزیزی: صفحہ، 395)


صفحہ 4 از 4