حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان - فتاویٰ…

حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان


صفحہ 3 از 4

ترجمہ: یعنیٰ حاصل یہ کہ علماء کرام کا قول ہے کہ اس کو کافر نہیں کہتے جو اہلِ قبلہ سے ہو یہ کلام مجمل ہے اپنے عموم پر باقی ہے لیکن اس کلام میں بڑی تفصیل ہے، بحث اس امر میں ہے کہ کون لوگ اہلِ قبلہ سے ہیں اور کون لوگ اہلِ قبلہ سے نہیں تو بعض فقہاء نے کیوں مبالغہ کیا کہ اس شخص کو کافر کہہ دیا جو منکر ہوا ان بعض مسائل اجتہادیہ کا جو بعض قوم کے نزدیک مشہور نہیں، مثلاً حرام ہونا پہننا، کسم کا رنگا ہوا اور مانند اس کے اور جو امور میں ان کا وہ منکر ہے، اور یہ مذہب نہایت رکیک ہے۔ لیکن جس نے تفریق کی درمیان اصول اور فروع کے پس کافر کہا ایک میں نہیں دوسرے میں تو اگر اس کی مراد کس اعمال ہیں تو یہ بہتر ہے اور اگر اس کی مراد اعتقاد وجوب اعمال و سنیت اعمال ہیں، تو اس میں اس کا خیال صحیح نہیں اس واسطے کہ اس میں شبہ نہیں کہ وہ شخص کافر ہے جو ان امور میں سے کسی امر کا منکر ہو، زکوٰة کا واجب ہونا اور عہد کا ایفا واجب ہونا اور پنج وقتی نماز کا واجب ہونا اور اذان کا مسنون ہونا، اس واسطے کہ مانعینِ زکوٰۃ سے شروع اسلام میں جہاد کیا گیا، البتہ من جملہ ان امور کے بعض امور کے انکار سے کفر تاویلی لازم آتا ہے لیکن ایسے ظاہر امور میں تاویل قابل سماعت نہیں ، جیسا کہ مانعینِ زکوٰة کی تاویل نہ سنی گئی کہ ان لوگوں نے اپنے مدعا کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ کا یہ کلام پیش کیا ان صلوتک سکن لهم تحقیق کہ آپ کی دعا تسکین کے واسطے ہے ان کے اور ضروریہ کی تاویل انکار حکم میں نہ سنی گئی کہ ان لوگوں نے اپنے دعا کے ثبوت میں اللہ تعالیٰ کا یہ کلام پیش کیا ان الحكم الالله یعنیٰ صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کا اعتبار ہے لیکن جو شخص قرآن شریف کو مخلوق کہے یا اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا انکار کرے یا انکار کرے علم بالجزئیات سے بطریق جزئی مگر وہ قائل ہو ثبوت علم کا بطریق کلی تو ایسے شخص کی تکفیر کی جرآت نہ کرنی چاہئے ۔ اس واسطے کہ ان احکام کی مخالفت کیلئے نص جلی میں کوئی صاف حکم نہیں، نہ بظاہر قرآن شریف میں ہے اور نہ حدیث متواترہ میں ہے، اس امر کو بغور سمجھنا چاہئے۔اور اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے۔ 

فان قیل ما الدليل على أن المراد من أهل القبلة هم المصدقون بجميع ضروريات الدين اى دلالة بلفظ اهل القبلة قلنا الدليل عليه الكفر يتقابل الايمان تقابل العدم والملكة اذ الكفر عدم الايمان والمتقابلان بالعدم والملكة لا يكون بينهما واسطة بالنظر الى خصوص الموضوع وان امكن بينهما واسطة بالنظر الى المواقع كالعمى والبصر فان الذي من شانه البصر لا يخلو عن احدهما ولا شبهة ان الايمان مفهومه الشرعي المعتبر به في كتب الكلام العقائد التفسیر و الحديث في تصديق النبیﷺ فيما علم مجینه به ضرورتا عما من شانه ذلك ليخرج الصبي والمجنون والحيوانات والكفر عدم الايمان عما من شانه ذلك التصديق فمفهوم الكفر هو عدم تصديق النبىﷺ فيما علم مجينه به ضرور ت أو هو بعينه ما ذكرنا من أن من انكر واحداً من ضروريات الدين النصف بالكفر نعم عدم التصديق له مراتب اربع فيحصل للكفر ايضا اقسام اربعة الأول كفر الجهل وهو تكذيب النبي ﷺصريحاً فيما علم مجينه به مع العلم بكونه عليه السلام كاذباً في دعواه و هذا هو كفر ابي جهل و آمنوابه والثاني كفر الجحود و العناد وهو تكذيبه مع العلم يكونه صادقاً في دعواه و هو كفر اهل الكتاب كقوله تعالى الذين أتينهم الكتب يعرفونه كما يعرفون ابناء هم وقوله تعالى و جحدوا بها واستيقنتها انفسهم ظلما وعلوا و كفر ابليس من هذا القبيل: والثالث كفر الشف كما كان لاكثر المنافقين والرابع كفر التاويل و هوان يحمل كلام النبي على غير محليه أو على التقية والمراعاة والمصالح ونحو ذلك ولما كان التوجه إلى القبلة من خواص معنى الايمان سواء كان شاملة او غير شاملة عبروا عن الإيمان باهل القبلة كما ورد في الحديث نهيت عن قتل المصلين والمراد المؤمنين مع ان نص القرآن على ان اهل القبلة هم المصدقون بالنبي عو في جميع ما علم مجينه بهو هو قوله تعالي وصد عن سبيل الله وكفربه والمسجد الحرام واخراج أهله منه أكبر عند الله فليتأمل۔

ترجمہ: یعنیٰ اگر یہ شبہ ہو کہ کیا دلیل ہے اس امر پر کہ مراد اہلِ قبلہ سے وہی لوگ ہیں جو تصدیق کر لیں جمیع ضروریاتِ دین کی تو اہلِ قبلہ کے لفظ سے یہ کہاں سمجھا جاتا ہے۔ ہم اس شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ اس امر پر دلیل یہ ہے کہ کفر اور ایمان میں تقابل و عدم ملکہ کا ہے، اس واسطے کہ کفر سے مراد عدم ایمان ہے اور جن دو چیزوں میں عدم تقابل کا ملکہ ہوتا ہے تو ان دونوں چیزوں میں کوئی واسطہ نہیں ہوتا باعتبار خصوص موضوع کے اور اگرچہ ممکن ہے کہ ان دونوں چیزوں میں واسطہ ہو باعتبار واقع کے مانند عمی اور بصر کے اس واسطے کہ جس کی شان میں بصر ہے ، وہ ضرور ہے اس میں یا عمی ہو یا بصر ہو۔ ان دونوں امر میں سے کسی ایک امر سے وہ خالی نہیں ہو سکتا اور اس امر میں کچھ نہیں کی کتب کلام و عقاٸد تفسیر وحدیث میں ایمان کی تعبیر یہ ہے کہ ایمان تصدیق ہے حضور اکرمﷺ کے ان امور میں بداہتاً معلوم ہو کہ حضور اکرمﷺ نے یہ حکم فرمایا ہے۔ اور یہ تصدیق اس شخص کی طرف سے ہو جس کی شان سے یہ ہو کہ وہ تصدیق کر سکتا ہے۔ تو مفہوم کفر کا یہ ہوا عدم تصدیق پیغمبر کی ان امور میں جو بداہتاّ معلوم ہوں کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ہے۔ اور مفہوم کفر کا بعینہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کیا کہ جو شخص ضروریاتِ دین سے کسی ایک امر کا بھی منکر ہو تو اس شخص میں کفر پایا جائے گا۔ البتہ عدم تصدیق کے چار مراتب ہیں ۔ اس اعتبار سے کفر کی بھی چار قسمیں ہیں:

صفحہ 3 از 4