حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان - فتاویٰ…

حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کا فرمان


صفحہ 2 از 4

یعنی اور نیکی کی اس شخص نے جس نے وہ کام کیا جس کی تفصیل اس آیت میں آخر تک مذکور ہے۔ تو جو شخص ضروریاتِ دین سے منکر ہو گیا وہ اہلِ قبلہ سے باقی نہ رہا۔ اس واسطے کی ضروریاتِ دین علماء کرام کے نزدیک تین امور میں منحصر ہیں۔ ایک امر یہ ہے کہ مدلول کتاب یعنیٰ صریح معنیٰ کسی آیت قرآن شریف کا بشرطیکہ وہ نص صریح ہو، اس کی تاویل ممکن نہ ہو مثلاً حرام جاننا ماں اور بیٹی کو اور حرام جانتا شراب اور جوا کو، اور یہ ثابت کرنا کہ اللہ تعالیٰ میں صفت علم اور قدرت اور ارادہ اور کلام کی ہے اور یہ جاننا کہ سابقين الأولين مهاجرين والانصار الله تعالىٰ کے نزدیک پسندیدہ ہیں اور یہ عقیدہ رکھنا کہ ان صاحبوں کی اہانت جائز نہیں، اور ان صاحبوں کی شان میں کوئی کلمہ خفیف کہنا جائز نہیں۔ یعنیٰ یہ امور ضروریاتِ دین میں سے ہیں، اس واسطے کہ یہ امور نص صریح قرآن شریف سے ثابت ہیں۔ اور دوسرا امر من جملہ ان تین امور کے یہ ہے کہ مدلول سنت یعنیٰ جو امر حدیث متواتر سے صراحتا مفہوم ہو، وہ حدیث متواتر باعتبار لفظ کے ہو یا صرف باعتبار معنیٰ کے متواتر ہو خواه وہ امر متعلق اعتقاد یا متعلق عمل کے ہو اور خواہ وہ امر فرض ہو یا نقل ہو، اس کی مثال یہ ہے واجب ہو نا محبت اہلٰ بیت کی یعنیٰ حضور اکرمﷺ کی بیبیوں کی اور صاحبزادیوں کی اور واجب ہونا جمعہ اور عیدین کا۔ اور تیسرا امر من جملہ ان تین امور کے اجتماع قطعی ہے، مثلاً خلافت سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور خلافت سیدنا عمر فاروق اعظمؓ کی اور ایسے ہی اور جو امور ہیں۔

اس میں شبہ نہیں کہ جو شخص ایسے امور کا منکر ہو اس کا ایمان قرآن شریف اور پیغمبروں پر صیح نہیں، اس واسطے کہ جب اس کا عقیدہ یہ ہے کہ ایسا امر جس پر امت کا اجماع قطعی ہوا ہے خطا ہے تو وہ شخص اپنے خیال میں اس امت کے تمام لوگوں کو گمراہ سجھتا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ اس کو انکار ہے اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے کنتم خیر أمة أخرجت للناس معنیٰ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے بارے میں فرمایا کہ جس قدر کہ امت ہوئی اُن میں سے تم لوگ بہترین امت ہو تو اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بہترین امت فرمایا اور اس کے خلاف اس شخص کا خیال ہے کہ اس امت کے لوگ گمراہ ہوئے کہ غلط امر کو ان لوگوں نے صحیح سمجھ لیا ہے اور یہ بھی لازم آتا ہے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ کے اس کلام سے بھی انکار ہے و من يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين الخ یعنیٰ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے بارے میں عتاب فرمایا جس شخص کو سیدھی راہ معلوم ہو جائے اور پھر وہ شخص حضور اکرمﷺ کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کی راہ کے سوا کوئی دوسری راہ اختیار کرے اور یہ بھی لازم آتا ہے کہ اس شخص کو حضور اکرمﷺ کی اس حدیث شریف سے انکار ہے۔ لا تجتمع امتى على الضلالة یعنی میری امت کے لوگوں کا اجتماع گمراہی پر نہ ہوگا۔ تو جو شخص ان امور کا منکر ہو وہ اہلِ قبلہ سے نہیں سمجھا جائے گا۔

وقد عرف بعضهم ضروريات الدين بأنها امور يشترك فيمعرفتها المتدين بدين الاسلام وغير المتدين به۔

 ترجمہ: یعنیٰ بعض علماء کرام نے ضروریاتِ دین کی تعریف کی ہے کہ ضروریاتِ دین وہ امور ہیں جن کو وہ لوگ بھی جانتے ہیں جو پابند دین اسلام ہیں اور وہ لوگ بھی جانتے ہیں جو دین اسلام کے پابند نہیں۔

وبالجملة قبولهم لا تكفر احدا من أهل القبلة كلام مجمل باق على عمومه لكن له تفصيل طويل والشان في معرفة من هو من أهل القبلة ومن ليس منهم فلم بعض الفقهاء قد بالغوا في۔

تكفير من ینكر بعض المسائل الاجتهادية الشهيرة عند قوم دون قوم كحرمة لیس المعصفر ونحو ذلك وهو مذهب ركيك جدا و اما من فرق بين الأصول والفروع فكفر فى أحداهما دون الأخرى فان اراد نفس الاعمال فنعم و مرحبا وان اراد اعتقاد وجوبها وسنيتها فلا اذ لا شبهة في أن من انكر وجوب الزكوة أو وجوب الوفاء بالعهد او وجوب الصلوة الخمس أوكون الاذان مسنونا فقد كفر كما يدل عليه قتال مانع الزكوة في صدر الاسلام نعم في بعضها يكون كثرأنا ويلها لكن التاويل غير مسموع في امثال هذه الأمور الجلية كما لم يسمع تاويل مانع الزكوة متمسكين بقوله تعالى "ان صلوتک سكن لهم" وكما لم يسمع تاويل الحرورية في انكار العلم بالجزئيات على الوجه الجزني مع القول بثبوت العلم على وجه کلی فلا ينبغي الاقدام عليه الليس مخالف هذه الاحكام منصر ما نضا جلياً لافي الكتاب ولا في السنة والمتواترة هذا۔(والله تعالى اعلم)

صفحہ 2 از 4