امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھبیسویں دلیل: - ردِ رافضیت…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی چھبیسویں دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

پانچویں بات: ....قائل کا یہ کہنا کہ : ’’صدیق صرف تین ہیں ‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے علاوہ کوئی صدیق نہیں تو پھر یہ سراسر جھوٹ اور کتاب و سنت اور مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے۔ اور اس اگر سے مراد یہ ہو کہ اپنی صدیقیت میں یہ تین لوگ کامل تھے ؛ تب بھی یہ خطاء ہے۔اس لیے کہ ہماری امت سب امتوں میں سے بہترین امت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے پیدا کیا ہے؛ توپھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہماالسلام کی تصدیق کرنے والے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والوں سے افضل کیوں کر ہوسکتے ہیں ؟

اللہ تعالیٰ نے آل فرعون کے مؤمن کو صدیق نہیں کہا؛ اور نہ ہی آل یاسین کے فرد کوصدیق کہا ہے ؛ لیکن یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کی تصدیق کی تھی۔لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والے ان سے زیادہ افضل ہیں ۔

قرآن کریم میں بعض انبیاء کو بھی صدیق کہا گیا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان میں فرمایا:

﴿وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰہِیْمَ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا﴾ (مریم:۴۱)

’’ اس کتاب میں ابراہیم( علیہ السلام )کا قصہ بیان کر، بیشک وہ بڑی سچائی والے پیغمبر تھے۔‘‘

[اور حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:]

﴿وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیْسَ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا ﴾ (مریم:۵۶)

’’ اور اس کتاب میں ادریس( علیہ السلام )کا بھی ذکر کر، وہ بھی نیک کردار پیغمبر تھے۔‘‘

[اور حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:]

﴿یُوْسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیْقُ ﴾ [یوسف ۴۶] ’’یوسف!اے دوست۔‘‘

چھٹی بات : عام لوگوں کے حق میں فرمایا:﴿وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ﴾ 

(الحدید:۱۹)

’’جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے وہ صدیق ہیں ۔‘‘

یہ آیت اس امر کی مقتضی ہے کہ ہر وہ شخص جو اللہتعالیٰ اور رسولوں پر ایمان رکھتا ہے وہ صدیق ہے ۔

ساتویں بات:....اگر صدیق ہی امامت کا مستحق ہوسکتا ہے؛ توپھرصدیقیت کے اعتبار سے اس مقام کے سب سے زیادہ حق دار حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔اس لیے کہ بہت سارے دلائل کی روشنی میں خواص و عوام میں تواتر کے ساتھ یہ نام آپ کے لیے ثابت ہے۔ یہاں تک اسلام کے دشمن بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔پس اس لیے امامت و خلافت کے سب سے زیادہ مستحق آپ ہی ہوئے ۔اور اگر صدیق ہونے سے امامت وخلافت لازم نہیں آتی توپھر رافضی کی دلیل باطل ٹھہری۔ [صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب قبح الکذب و حسن الصدق، (ح: ۱۰۵؍ ۲۶۰۷)، واللفظ لہ۔ صحیح بخاری، کتاب الادب، باب قول اللہ تعالیٰ﴿ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ....﴾ (ح:۶۰۹۴)۔]


صفحہ 2 از 2