حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی - فتاویٰ جات…

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی


صفحہ 4 از 5

ترجمہ: جیسا کہ حافظ ابن تیمیہؒ کی کتاب الایمان میں ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اہلِ سنت و الجماعت اس پر متفق ہیں کہ اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہ کہیں تو اس جگہ گناہ سے ہماری مراد معاصی مثل زنا و شراب خوری و غیره ہوتے ہیں اور علامہ قونوی نے عقیدہ طحاوی کی شرح میں اس مضمون کو خوب واضح کر دیا ہے۔

ورنہ پھر اس عبارت کے کوئی معنیٰ نہیں رہتے اور لفظ بذنب: کے اضافہ کی (جیسا کہ فقہ اکبر اور شرح تحریر کے حوالہ سے اوپر نقل ہوا ہے) کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔

اب شبہات کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ بعض علماء کی عبارتوں میں اختصار کے مواقع میں بذنب کا لفظ بوجہ مشہور و معروف ہونے کے چھوڑ دیا گیا۔ اور مسلہ کا عنوان عدم تکفیر اہلِ قبلہ ہو گیا۔ حدیث وفقہ سے نا آشنا اور فرض متکلم سے نا واقف لوگ یہاں یہ سمجھ بیٹھے کہ جو شخص قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لے اس کو کافر کہنا جائز نہیں خواہ کتنے ہی عقائد کفریہ رکھتے ہوں، اور اقوال کفریہ بکتا پھرے۔ اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ اگر یہی لفظ پرستی ہے تو اہلِ قبلہ کے لفظوں سے تو یہ بھی نہیں ملتا کہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے بلکہ ان لفظوں کا مفہوم تو اس سے زائد نہیں کہ صرف قبلہ کی طرف منہ کر لے خواہ نماز بھی پڑھے یا نہ پڑھے۔ اگر یہ معنیٰ مراد لئے جائیں تو پھر دنیا میں کوئی شخص کافر ہی نہیں رو سکتا، کیونکہ کبھی نہ کبھی ہر شخص کا منہ قبلہ کی طرف ہو ہی جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ لفظ اہلِ قبلہ کی مراد تمام اوقات واحوال کا استیعاب باستقبال قبلہ نہیں۔

خوب سمجھ لیجئے!

کہ لفظ اہلِ قبلہ ایک شرعی اصطلاح ہے، جس کے معنیٰ اہل اسلام کے ہیں، اور اسلام وہی ہے جس میں کوئی بات کفر کی نہ ہو۔ لہٰذا یہ لفظ اہلِ قبلہ صرف اُن لوگوں کے لئے بولا جاتا ہے جو تمام ضروریاتِ دین کو تسلیم کریں، اور حضور اکرمﷺ کے تمام احکام پر (بشرط ثبوت) ایمان لائیں، نہ ہر اس شخص کیلئے جو قبلہ کی طرف منہ کر لے۔ جیسے دنیا کی موجود عدالتوں میں اہل کار کا لفظ صرف اُن لوگوں کیلئے بولا جاتا ہے جو باضابطہ ملازم اور قوانین ملازمت کا پابند ہو۔ اس کے مفہوم لغوی کے موافق ہر کام والے آدمی کو اہل کار نہیں کہا جاتا۔ اور یہ جو کچھ لکھا گیا علم فقہ و عقائد کی کتابیں تقریبا تمام اس پر شاہد ہیں جن میں سے بعض عبارات درج ذیل ہیں۔

حضرت ملا علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں 

اعلم ان المراد باهل القبلةالذين اتفقوا على ما هو من ضروريات الدين لحدوث العالم وحشر الاجساد و علم الله تعالى بالجزئيات وما اشبه ذلك من المسائل المهمات فمن واظب طول عمره على الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفى الحشر أو نفي علمه سبحانه وتعالى بالجزئيات لا يكون من أهل القبلة وان المراد باهل القبلة عند اهل السنة انه لا يكفر مالم يوجد شيء من امارات الكفر ولم يصدر عنه شي ، من موجباته۔

ترجمہ: خوب سمجھ لو کہ اہلِ قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریاتِ دین پر متفق ہیں، جیسے حدوث عالم اور حشر و نشر اور علم اللہ تعالیٰ بالجزئیات وغیرہ۔

پس جو شخص تمام عمر طاعات و عبادات کا پابند ہونے کے باوجود قدم عالم اور نفی حشر یا نفی علم اللہ تعالیٰ بالجزئیات کا معتقد ہو، وہ اہلِ قبلہ نہیں ہے۔ اور مراد اہلِ قبلہ سے اہلِ سنت کے نزدیک یہ ہے کہ اس کی تکفیر اس وقت تک نہ کی جائے گی، جب تک علاماتِ کفر میں سے کوئی چیز اس میں نہ پائی جائے۔ اور جب تک اس سے موجباتِ کفر میں سے کوئی بات سر زد نہ ہو۔ اور شرح مقاصد مبحث سابع میں مذکورا الصدر مضمون کو مفصل بیان کرتے ہوئے لکھا ہے 

فلا نزاع في كفر اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات باعتقاد قدم العالم ونفى الحشر وعلى العلم بالجزئيات و نحو ذلک و کذالک بصدورشی ، من موجبات الكفر عنه۔

ترجمہ: اس میں کسی کا اختلاف نہیں کہ اہلِ قبلہ میں سے اس شخص کو کافر کہا جائے گا جو اگرچہ تمام عمر طاعات و عبادات پر گزارے مگر عالم کے قدیم ہونے کا اعتقاد رکھے یا قیامت حشر کا یا حق تعالیٰ کے عالم جزئیات ہونے کا انکار کرے، اسی طرح وہ شخص جس سے کوئی چیز موجبات کفر میں سے صادر ہو جائے۔ اور علامہ شامی نے رد المختار باب الامة جلد اول میں حواله تحرير الاصول نقل فرمایا ہے: لاخلاف في كفر المخالف من أهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كما في شرح التحرير۔

ترجمہ: اس میں کسی کا خلاف نہیں کہ اہلِ قبلہ میں سے جو شخص ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر ہو وہ کافر ہے اگرچہ تمام طاعات و عبادات میں گزار دے۔ اور شرح عقائد نسفی کی شرح نبراس میں ہے: اهل القبلة في اصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين أي الأمور التي علم ثبوتها في الشرع واشتهر فمن انكر شيئا من الضروريات كحدوث العلم وحشر الاجساد وعلم الله سبحانه و تعالي بالجزئيات وفرضية الصلوة والصوم لم يكن من أهل القبلة ولو كان مجاهدا بالطاعات وكذلك من باشر شيئا من امارات التكذيب كسجود الصنم والاهانة بامر شرعي والاستهزاء عليه فليس من أهل القبلة ومعنى عدم تكفير اهل القبلة ان لا يكفر بارتكاب المعاصي ولا بانكار الأمور الخيفة غير المشهورة هذا ما حققه المحققون۔

 اہلِ قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ شخص ہے جو تمام ضروریاتِ دین کی تصدیق کرے، پس جو شخص ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا انکار کرے وہ اہلِ قبلہ میں سے نہیں اگرچہ عبادت و اطاعت میں مجاہدات کرنے والا ہو ۔ ایسے ہی وہ شخص جو علامات کفر و تکذیب میں سے کسی چیز کا مرتکب ہو جیسے بت کو سجدہ کرنا یا کسی امر شرعی کی اہانت و استہزا کرنا ، وہ اہلِ قبلہ میں سے نہیں۔ اور اہلِ قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاصی کے ارتکاب کی وجہ سے اس کو کافر نہ کہیں اور نہ ایسے اُمور کے انکار کی وجہ سے کافر کہیں جو اسلام میں مشہور نہیں یعنی ضروریاتِ دین میں سے نہیں ۔(جواهر الفقه: جلد، 1 صفحہ، 30)

ایک جگہ فرماتے ہیں:

صفحہ 4 از 5