حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی - فتاویٰ جات…

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی


صفحہ 3 از 5

ان کو حق تعالیٰ نے ان کو سیدنا علیؓ کے پاس بھیجا تھا۔ اور بعض روافض کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ معبود ہے۔ یہ لوگ اگرچہ قبلہ کی طرف نما ز پڑھتے رہیں مگر مؤمن نہیں۔ اور یہی مراد ہے نبی کریمﷺ کے فرمان کی کہ جو ہماری نماز پڑھے اور ہمارا ذبیحہ کھائے۔ تو یہی مسلم ہے۔

اور کلیات ابوالبقاء میں ہے فلا تكفر اهل القبلة مالم يأت بما يوجب الكفر وهذا من قبيل قوله تعالى ان الله يغفر الذنوب جميعاً مع ان الكفر غير مغفور ومختار جمهور اهل السنة من الفقهاء والمتكلمين عدم اكفار اهل القبلة من المبتدعة المأولة في غير الضرورية لكون التاويل شبهة كما في خزانة الجرجاني والمحيط البرهاني و احكام الرازي واصول البزدوي ورواه الكرخي والحاكم الشهيد عن الامام ابي حنيفة والجرجاني عن الحسن بن زياد وشارح المواقف والمقاصد والأمدى عن الشافعي والأشعري لا مطلقات۔

ترجمہ: پس ہم اہلِ قبلہ کی تکفیر نہ کریں گے، جب تک ان سے موجبات کفر کا صدور نہ ہو۔ اور یہ اس طرح ہے جیسے حق تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے باوجود اس کے کی کفر غیر مغفور ہے۔ اور مذہب جمہور اہلِ سنت کا فقها و متکلمین میں سے جو بدعتی تاویلات کرتے ہیں غیر ضروریاتِ دین میں ان کے متعلق یہ ہے کہ ان کی تکفیر نہ کی جائے ، جیسے کہ خزانہ جرجانی اور محیط برھانی، اورا حکام رازی، اور اصول بزدوی میں ہے۔ اور یہی روایت کیا ہے کرخی اور حاکم شہید نے امام ابو حنیفہؒ صاحب سے اور جر جانی نے حسن بن زیاد سے اور شارح مواقف اور المقاصد اور آمدیؒ نے شافعیؒ سے اور اشعریؒ ہے ۔

اور فتح المغيث شرح الفية الحديث میں ہے:

اذلا یکفر احدا من أهل القبلة الابانكار قطعي من الشريعة۔

ترجمہ: ہم اہلِ قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کرتے، مگر بسبب انکار کے کسی قطعی حکم شرع کا۔

اور امام ربانی مجد والف ثانیؒ نے اپنے مکتوبات میں تحریر فرمایا ہے وچوں ابی فرقة مبتدعه اهل قبله اند در تکفیر آنها جرأت نیاید نمود تا زمانی که انکار ضروریات دینیه نمانید ودر متواترات احکام شرعیه نکنند و قبول ما علم مجينه من الدين بالضرورة نكنند۔

ترجمہ: اور چونکہ یہ فرقہ مبتدعہ اہلِ قبلہ ہیں ، اس لئے ان کی تکفیر میں جرأت نہیں کرنی چاہئے، جب تک کہ یہ ضروریاتِ دین کا انکار اور متواترات احکام شرعیہ کا رد نہ کریں ، اور ضروریاتِ دین کو قبول نہ کریں ۔

عقائد عضدیہ میں ہے: لا نكفر احدا من أهل القبلة الابمافيه نفى الصانع المختار او بمافيه شرك او انكار النبوة وانكار ما علم من الدين بالضرورة او انكار مجمع عليه واما غير ذلك فالقائل مبتدع وليس كافر۔

ترجمہ: ہم اہلِ قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں گے مگر اس سبب سے کہ اس میں حق تعالیٰ کے وجود کی نفی ہو، اور یا جس میں شرک ہو یا انکار نبوت ہو یا ضروریاتِ دین کا انکار ہو، یا کسی مجمع علیہ امر کا انکار ہو۔ اور اس کے سوا پس اس کا قائل مبتدع ہے کافر نہیں۔

(جواہر الفقه: جلد، 1 صفحہ، 87)

ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:

یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ اہلِ قبلہ کی تکفیر جائز نہیں اور کتب فقہ و عقائد میں بھی اس کی تصریحات موجود ہیں نیز بعض احادیث سے بھی یہ مسلہء ثابت ہے۔

کمارواه أبو داود في الجهاد عن انس قال قال رسول اللهﷺ ثلاث من أصل الإيمان الكف عمن قال لا اله الا الله ولا تكفر بذنب ولا تخرجه من الإسلام يعمل۔

ترجمہ: سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ حضوراکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایمان کی اصل تین چیزیں ہیں ، ایک یہ کہ جو شخص کلمہ لا الہ الا اللہ کا قائل ہو اس کے قتل سے باز رہو، اور کسی گناہ کی وجہ سے اس کو کافر مت کہو اور کسی عمل بد کی وجہ سے اُس کو اسلام سے خارج نہ قرار دو۔

اس لئے مسئلہ زیر بحث میں شبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جو شخص نماز روزہ کا پابند ہے وہ اہلِ قبلہ میں داخل ہے، تو پھر بعض عقائد میں خلاف کرنے یا بعض احکام کے تسلیم نہ کرنے سے اس کو کیسے کافر کہا جا سکتا ہے؟ اور اسی شبہ کی بنیاد پر آج کل بہت سے مسلمان قسم ثانی کے مرتدین یعنی ملحدین و زنادقہ کو مرتد و کافر نہیں سمجھتے، اور یہ ایک بھاری غلطی ہے جس کا صدمہ براہِ راست اسلام کے اصول پر پڑتا ہے۔ کیونکہ میں اپنے کلام سابق میں عرض کر چکا ہوں کہ اگر قسم دوم کے ارتداد کو ارتداد نہ سمجھا جائے تو پھر شیطان کو بھی کافر نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے ضرورت ہوئی کہ اس شبہ کے منشاء کو بیان کر کے اس کا شافی جواب ذکر کیا جائے اصل اس کی یہ ہے کہ شرح فقہ اکبر وغیرہ میں امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ سے اور حواشی شرح عقائد میں شیخ ابو الحسن اشعریؒ سے اہلِ سنت والجماعت کا یہ مسلک نقل کیا گیا ہے:

ومن قواعد أهل السنة والجماعة أن لا يكفر احد من أهل القبلة كذا في شرح العقائد النسفية صفحہ، 121 وفي شرح التحرير (جلد:3:صفحہ:318)و سياقهما عن أبي حنيفة ولا نكفر اهل القبلة بذنب انتھيٰ فقیدہ بالذنب في عبارة الامام واصله في حديث ابي داٶد كما مراتها۔

ترجمہ: اہلِ سنت و الجماعت کے قوائد میں سے ہے کہ اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کی تکفیر نہ کی جائے (شرح عقائد نسفی) اور شرح تحریر میں ہے کہ یہ مضمون امام اعظم امام ابوحنیفہؒ سے منقول ہے کہ ہم اہلِ قبلہ میں سے کسی شخص کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہیں کہتے ہیں اس میں بذنب کی قید موجود ہے اور غالباً یہ قید حدیث ابوداؤ کی بناء پر لگائی گئی ہے جو ابھی گذر چکی ہے۔ جس کا صحیح مطلب تو یہ ہے کہ کسی گناہ میں مبتلا ہو جانے کی وجہ سے کسی مسلمان کو کافر مت کہو خواہ کتنا ہی بڑا گناہ ہو (بشرطیکہ کفر و شرک نہ ہو) کیونکہ گناہ سے مراد اس جگہ پر وہی گناہ ہے جو حد کفر تک نہ پہنچا ہو ۔

کمافی كتاب الإيمان لابن تيميةؒ حيث قال ونحن اذا قلنا أهل السنة متفقون على أن لا يكفر بالذنب فانما نريد به المعاصی كالزنا والشراب انتهى وأوضحه القونوي في شرح العقيدة الطحاوية۔

صفحہ 3 از 5