حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی - فتاویٰ جات…

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی


صفحہ 2 از 5

شارح فرماتے ہیں اور معنیٰ اس کے یہ ہیں کہ جو لوگ ضروریاتِ اسلام پر تو متفق ہیں، جیسے حدوث عالم اور حشر وغیرہ، اور ان کے سوا دوسرے اصول میں اختلاف کرتے ہیں۔ جیسے مسئلہ صفات اور خلق افعال، اور عموم ارادہ اور کلام اللہ کا قدیم ہونا ، اور روئیۃ اللہ کا جواز وغیرہ جس میں کوئی نزاع اس امر میں نہیں ہے کہ اس میں حق ایک ہی ہے۔ تو کیا اس اعتقاد اور اس کا قائل ہونے کی وجہ سے اس مخالفِ حق کی تکفیر کی جائے گی یا نہیں؟ سو کوئی اختلاف نہیں ہے ایسے اہلِ قبلہ کی تکفیر میں جو تمام عمر طاعات پر مداومت کرنے کے ساتھ قدم عالم اور نفی حشر اور علم بالجزئیات وغیرہ کا قائل ہو، اور اسی طرح موجباتِ کفر میں سے کسی چیز کے صدور سے اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ۔

اور حضرت ملا علی قاریؒ کی شرح فقہ اکبر میں ہے اعلم ان المراد باهل القبلة الذين اتفقوا على ما هو من ضروريات الدين كحدوث العالم وحشر الاجساد و علم الله تعالى بالجزئيات وما اشبه ذلك من المسائل المهمات فمن واظب طول عمره على الطاعات والعبادات مع اعتقاد قدم العالم ونفى الحشر أو على علمه سبحانه وتعالى بالجزئيات لا يكون من أهل القبلة وان المراد باهل القبلة عند اهل السنة انه لا يكفر مالم يوجد شي ، من امارات الكفر ولم يصدر عنه شي ، من موجباته۔

ترجمہ: جاننا چاہٸے کہ اہلِ قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو تمام ضروریاتِ دین پر متفق ہیں، جیسے حدوث عالم اور حشر و نشر اور علم اللہ تعالیٰ بالجزئیات وغیرہ۔ پس جو شخص تمام عمر طاعات و عبادات کا پابند ہونے کے باوجود قدم عالم اور نفی حشر یا نفی علم اللہ تعالیٰ بالجزئیات کا معتقد ہوں، وہ اہلِ قبلہ نہیں ہے۔ اور مراد اہلِ قبلہ سے اہل سنت کے نزدیک یہ ہے کہ اس کی تکفیر اس وقت تک نہ کی جائے گی، جب تک علامات کفر میں سے کوئی چیز اس میں نہ پائی جائے۔ اور جب تک اس سے موجباتِ کفر میں سے کوئی بات سر زد نہ ہو۔

اور فخر الاسلام بزدویؒ کی کشف الاصول حساب الاجماع جلد، 3 صفحہ، 238 میں، نیز امام سیف الدین آمدی کی کتاب الاحكام في أصول الاحكام میں اور غاية التحقيق شرح اصول اسامی میں ہے۔ ان غلا فیه (اي في هواه) حتى وجب اكفاره به لا يعتبر خلافه ووفاقه ايضاً لعدم دخوله في مسمى الأمة المشهود لها بالعصمة وان صلى الى القبلة واعتقد نفسه مسلما لان الأمة ليست عبارة عن المصلين إلى القبلة بل عن المؤمنين وهو كافر وان كان لا يدرى انه كافر۔

ترجمہ: اگر غلو کیا اپنی خواہشات نفسانیہ میں حتیٰ کہ واجب ہو گئی اس کی تکفیر اس کی وجہ سے اجتماع میں اس کے خلاف یا مخالفت کا اعتبار نہ ہوگا ، اوراگرچہ وہ قبلہ کی طرف نماز پڑ ھتا ہو، اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو ۔ کیونکہ اُمت قبلہ کی طرف نماز پڑھنے والوں کا نام نہیں ہے، بلکہ مؤمنین کا نام ہے۔ اور وہ کافر ہے، اگرچہ اس کو اپنے کافر ہونے کا علم نہ ہو۔

اور رد المحتار باب الاسامة میں علامہ شامیؒ نے بحوالہ شرح تحریر الاصول ابن ہمامؒ لکھا ہے لا خلاف في كفر المخالف في ضروريات الاسلام وان كان من اهل القبلة المواظب طول عمره على الطاعات كمافی شرح التحرير۔

ترجمہ: جو شخص ضروریاتِ اسلام کا مخالف ہو، اس کے کفر میں کوئی اختلاف نہیں ، اگرچہ اہلِ قبلہ میں سے ہو، اور تمام عمر طاعات پر پابند رہے ۔

اور البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے والحاصل ان المذهب عدم تكفير احد من المخالفين فيماليس من الأصول المعلومة من الدين ضرورة۔

ترجمہ: اور حاصل یہ ہے کہ مذہب یہ ہے کہ منافقین میں سے کسی کی تکفیر نہ کی جائے ، جو اصول دین کے سوا کسی چیز میں مخالف ہیں۔

اور شرح عقائد نسف کی شرح نبراس میں ہے

 اهل القبلة في اصطلاح المتكلمين من يصدق بضروريات الدين أي الأمور التي علم ثبوتهما في الشرع واشتهر فمن اذكر شيئا من الضروريات كحدوث العلم وحشر الاجساد وعلم الله سبحانه و تعالي بالجزئيات وفرضية الصلوة والصوم لم يكن من أهل القبلة ولو كان مجاهداً بالطاعات وكذلك من باشر شيئاً من امارات التكذيب كسجود المصنم والاهانة بامر شرعي والاستهزاء عليه فليس من أهل القبلة ومعنى عدم تكفير اهل القبلة ان لا يكفر بارتكاب المعاصي ولا بانكار الأمور الخيفة غير المشهورة۔

ترجمہ: اہلِ قبلہ متکلمین کی اصطلاح میں وہ ہے، جو تمام ضروریاتِ دین کی تصدیق کرتا ہو، یعنی ان امور کی جن کا ثبوت شریعت میں معلوم و مشہور ہے۔ پس جو انکار کرے کسی چیز کا ضروریاتِ دین میں سے جیسے حدوث عالم اور حشر اور علم اللہ تعالیٰ یا جزئیات اور فرضیت نماز و روزہ تو وہ اہلِ قبلہ سے نہ ہوگا، اگرچہ وہ طاعات کا پابند ہو۔ اور اسی طرح وہ شخص بھی اہلِ قبلہ میں سے نہ ہو گا جو کسی ایسے فعل کا ارتکاب کرے جو کہ تکذیب کی کھلی علامت ہے، جیسے بت کو سجدہ کرنا یا کسی ایسے امر کا ارتکاب کرے کہ جس سے امر شرعی کا استہزا اور اہانت ہو، وہ اہلِ قبلہ نہیں ہے۔ اور اہلِ قبلہ کی تکفیر نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ارتکاب معاصی سے اس کی تکفیر نہ کی جائے یا امور خفیہ غیر مشہورہ کے انکار سے اس کی تکفیر نہ کی جائے۔ اور علم عقائد کی معروف و مستند کتاب مواقف میں ہے:

لا یکفر اهل القبلة الأفيما فيه انكار ما علم مجينه به بالضرورة او اجمع عليه کاستحلال المحرمات۔

ترجمہ: اہلِ قبلہ کی تکفیر نہ کی جائے گی مگر اس صورت میں کہ اس میں ضروریاتِ دین کا انکار یا ایسی چیز کا انکار لازم آئے جس پر اجماع ہو چکا ہے۔ جیسے حرام اشیاء کو حلال سمجھنا۔

اور شرح فقہ اکبر میں ہے ولا يخفى ان المراد بقول علمائنا لا يجوز تكفير اهل القبلة بذنب ليس مجرد التوجه إلى القبلة فان الغلاءة من الروافض الذين يدعون أن جبرئيل عليه السلام غلط في الموحى فان الله تعالى ارسله الى علىؓ وبعضهم قالوانه الٰه وان صلوا الى القبلة ليسوا بمؤمنين وهذا هو المراد بقوله صلى الل عليه وسلم من صلى صلوتنا وأكل ذبيحتنا فذلك مسلم۔

ترجمہ: یہ بات مخفی نہیں ہے کہ ہمارے علماء کے اس قول کی مراد کہ اہلِ قبلہ کی تکفیر کسی گناہ کے سبب جائز نہیں محض قبلہ کی طرف رخ کر لینے کی نہیں ۔ کیونکہ بعض متشدد روافض ایسے ہیں جو مدعی ہیں کہ حضرت جبرائیلؑ نے وحی لانے میں غلطی کی۔

صفحہ 2 از 5