حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی - فتاویٰ جات…

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ کا فتوٰی


صفحہ 1 از 5

جو لوگ ایمان و اسلام کا اظہار کرتے ہیں، اور نماز، روزہ وغیرہ کے پابند ہیں مگر اسلام کے کسی قطعی اور یقینی حکم میں تاویلاتِ باطلہ کر کے تصریحات کتاب وسنت اور اجماع امت کے خلاف اس کا مفہوم بدلتے ہیں، ان کو کافر و مرتد قرار دینے پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کلمہ گو اہلِ قبلہ ہیں اور کلمہ گو اہلِ قبلہ کی تکفیر باجماع امت ممنوع ہے۔۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس جگہ اہلِ قبلہ کے مفہوم کو واضح کیا جائے ۔ اصل اس باب میں حضور اکرمﷺ کی دو حدیثیں ہیں۔ ایک وہ جو بخاری و مسلم وغیرہ میں اطاعت امراء کے بارے میں سیدنا انسؓ سے منقول ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں من شهدان لا اله الا الله واستقبل قبلتنا وصلى صلوتنا وأكل ذبيحتنا فهو مسلم الاان ترواكفر أبواهحا عندكم من الله فيه برهان۔

 ترجمہ: جو شخص لا اله الا اللہ کی شہادت دے، اور ہمارے قبلہ کی استقبال کرے، اور ہماری نماز پڑھے، اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو یہی مسلمان ہے مگر یہ کہ دیکھو تم کفر صریح تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس میں دلیل ہو ۔ 

اور دوسری روایت ابو داؤد کتاب الجہاد میں ہے۔ جس کا متن یہ ہے ۔ عن انس قال قال رسول الله ثلاث من أصل الإيمان الكف عمى قال لا اله الا الله ولا تنظر بذنب ولا تخرجه من الاسلام يعمل۔

ترجمہ: سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں اصل ایمان ہیں، رکنا اس شخص سے جو لا الہ الا اللہ کہے اور یہ تکفیر کرو اس کی کسی گناہ کے سبب ،اور نہ اسے خارج از اسلام قرار دو کسی عمل کے سبب ۔

اس میں سے پہلی حدیث میں تو ختم کلام پر خود ہی تصریح کر دی گئی ہے کہ کلمہ گو کو اس وقت تک کافر نہ کہا جائے گا جب تک اس سے کوئی قول یا فعل موجبِ کفر صریح اور ناقابلِ تاویل یقینی طور پر ثابت نہ ہو جائے ۔

اور دوسری حدیث شریف کے الفاظ میں اس کی تصریح ہے کہ کسی گناہ یا عمل کی وجہ سے خواہ وہ کتنا ہی سخت ہو، کافر نہ کہا جائے گا لیکن بااتفاق علمائے امت گناہ سے مراد اس جگہ کفر کے سوا دوسرے گناہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عملی خرابیاں فسق و فجور کتنا ہی زیادہ ہوں ان کی وجہ سے اہلِ قبلہ کو کافر نہ کہا جائے گا۔ نہ یہ کہ وہ تعلیمات اسلام کے خلاف عقائد کا اظہار بھی کرتا رہے تب بھی اس کو کافر نہ سمجھا جائے۔ 

مانعین زکوٰۃ اور مدعی نبوت مسیلمہ،کذاب اور اس کی جماعت کافر و مرتد قرار دے کر ان سے جہاد کرنے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع اس کی کھلی ہوئی شہادت ہے کہ اہلِ قبلہ جن کی تکفیر ممنوع ہے۔ اس کا مفہوم یہ نہیں کہ جو قبلہ کی طرف منہ کر لے یا نماز پڑھ لے۔ اس کو کسی عقیدہ باطلہ کی وجہ سے بھی کافر نہ کہا جائے ۔ بلکہ معلوم ہو اس کلمہ گو یا اہلِ قبلہ یہ دو اصطلاحی لفظ ہیں ان کے مفہوم میں صرف وہ مسلمان داخل ہیں جو شعائر اسلام نماز وغیرہ کے پابند ہونے کے ساتھ ساتھ موجبات کفر اور عقائد باطلہ سے پاک ہوں ۔ اہلِ قبلہ کا یہ مفہوم تمام علمائے امت کی کتابوں میں بصراحت و وضاحت موجود ہے۔ ذیل میں چند اقوال ائمہ اسلام کے پیش کئے جاتے ہیں۔ جن سے دو چیزوں کی شہادت پیش کرنا مقصود ہے۔

  1. اہلِ قبلہ کا صحیح مفہوم۔
  2.  اصل موضوع بحث پر شہادت کہ اسلام کے قطعی اور یقینی احکام میں قرآن وسنت اور اجماعِ امت سے ثابت شدہ مفہوم کے خلاف کوئی مفہوم قرار دینا بھی تکذیب رسولﷺ کے حکم میں ہے۔ اور ایسی تکذیب کو زندقه والحاد کہا جاتا ہے۔ 

محقق ابن امیر الحاجؒ جو حافظ ابن حجرؒ اور شیخ ابن ہمامؒ کے شاگرد اور محقق ہیں۔ شرح تحریر الاصول میں اہلِ قبلہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

هو المرافق على ماهو من ضروريات الاسلام كحدوث العالم وحشر الاجساد من غير ان يصدر عنه شيء من موجبات الكفر قطعا من اعتقاد راجع الى وجود الله غير الله تعالى او حلوله في۔

بعض اشخاص الناس او انكار نبوة محمدﷺ او ذمه او استخفافہ وغیر ذٰلک المخالف فى الأصول صراحا (الی ان قال) وقد ظهر من هذا ان عدم تكفير أهل القبلة بذنب ليس على عمومه الاان يحمل الذنب على ماليس بكفر فيخرج الكفر به كما اشار اليه السبكيؒ

ترجمہ: اہلِ قبلہ وہ ہے جو موافق ہو تمام ضروریاتِ اسلام کے۔ جیسے عالم کا حدوث ، اور حشر اجساد، اس طرح ہے کہ اس سے کوئی چیز موجبات کفر میں سے صادر نہ ہو مثلاً ایسا اعتقاد جو مفضی ہو حق تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خدا کے ماننے کو اور خدا تعالیٰ کے کسی شخص میں حلول کرنے کو یا نبوة محمدﷺ کے انکار کو یا آپﷺ کی مذمت یا آپﷺ کے استخفاف کو۔ اور اسی طرح کی اور باتیں (یہاں تک کہ) مصنف فرماتے ہیں کہ اس سے ظاہر ہو گیا کہ اہلِ قبلہ کی کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرنے کی حدیث اپنے عموم پر نہیں ہے۔ ہاں اگر گناہ سے مراد کفر کے علاوہ لیا جاے۔ جیسا کہ علامہ سبکیؒ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے تو عموم مراد ہو سکتا ہے۔

نیز شرح مقاصد میں عدم تکفیر اہلِ قبلہ کی توضیح کرتے ہوئے لکھا ہے قال المبحث السابع في حكم مخالف الحق من أهل القبلة ليس بكافر مالم يخالف ماهو من ضروريات الدين کحدوث العالم وحشر الاجساد قال الشارح: ومعناه ان الذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الاسلام كحدوث العالم وحشر الاجساد و ما يشبهه ذلك واختلفوا في أصول سواها كمسئلة الصفات وخلق الافعال وعموم الإرادة وقدم الكلام وجواز الرؤية ونحو ذلك مما لا نزاع فيه ان المحقق فيه واحد هل يكفر المخالف للحق بذلك الاعتقاد و بالقول به ام لا ، فلا نزاع في كفر اهل القبلة المواظب طول العمر على الطاعات باعتقاد قدم المعالم ونفى الحشر ونفي العلم بالجزئيات ونحو ذلك و كذا بصدورشی ، من موجبات الكفر عنه۔

ترجمہ: ساتواں مبحث اس شخص کے حکم میں جو مخالف حق ہو، اہلِ قبلہ میں سے کہ وہ کافر نہیں، جب ایک مخالفت نہ کرے کسی چیز کی ضروریاتِ دین میں سے جیسے عالم کا حادث ہونا اور حشر و نشر۔

صفحہ 1 از 5