سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کا لشکر حضر موت اور…

سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کا لشکر حضر موت اور کندہ کے ارتداد کا قلع قمع کرنے کے لیے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

جب ان سرداروں کی طرف سے اشعث کو مسلمانوں کے ساتھ مصالحت کی بات چیت کرنے کا اختیار سونپ دیا گیا تو کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ بکثرتِ روایات یہ بتلاتی ہیں کہ اس نے تمام قلعہ والوں کے لیے امان کا مطالبہ نہ کیا، روایات کے مطابق اس نے بہت تھوڑے لوگوں کے لیے امان کا مطالبہ کیا، جن کی تعداد سات اور دس کے درمیان تھی اور شرط یہ تھی کہ قلعہ کا دروازہ کھول دیا جائے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قلعہ میں کندہ کے سات سو افراد قتل ہوئے، اس طرح ان کا مؤقف بنو قریظہ کے یہودیوں کے مؤقف کے مشابہ رہا۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 286 تاریخ الردۃ: صفحہ 167)

کندہ کے ارتداد کا جب قلع قمع ہو گیا تو سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ قیدی اور خمس لے کر مدینہ روانہ ہوئے اور آپؓ کے ساتھ اشعث بن قیس تھا جو اپنی قوم کی نگاہ میں مبغوض قرار پا گیا، خاص کر خواتین کے نزدیک۔ انہوں نے اس کو اپنی ذلت کا سبب شمار کیا۔ اس کی قوم کی خواتین نے اس کو عرف النار (غدار) کا خطاب دیا۔

(حرکۃ الردۃ للعتوم: جلد 10 صفحہ 107)

جب اشعث سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو آپؓ نے اس سے فرمایا: تمہاری یہ کارستانیاں ہیں جنہیں تم جانتے ہو، میں تمہارے ساتھ کیا برتاؤ کروں؟ کہا: آپؓ مجھ پر احسان کریں، ہتھکڑی کھول دیں اور اپنی بہن سے میری شادی کر دیں۔ میں نے رجوع کر لیا ہے اور اسلام قبول کر چکا ہوں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر آپؓ نے ام فروہ بنت ابی قحافہ سے اس کی شادی کر دی اور وہ فتح عراق تک مدینہ میں مقیم رہا۔

(تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 155)

اور ایک روایت میں یوں وارد ہے کہ جب اشعث کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اس کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نہیں بخشیں گے تو اس نے عرض کیا: کیا آپؓ اللہ سے خیر کے طالب نہیں؟ آپؓ مجھے چھوڑ دیجیے، میری غلطی معاف کیجیے اور میرے اسلام کو قبول کیجیے اور میرے ساتھ وہی برتاؤ کیجیے جو مجھ جیسے لوگوں کے ساتھ آپ نے کیا ہے، اور میری بیوی کو میرے حوالے کر دیجیے۔ (اشعث جب رسول اللہﷺ کے دور میں مدینہ حاضر ہوا تھا، اسی وقت ام فروہ سے اس کی شادی ہو گئی تھی لیکن رخصتی پر عمل نہیں ہوا تھا، دوسری مرتبہ مدینہ آنے پر ٹل گئی تھی اور اسی دوران میں رسول اللہﷺ کا انتقال ہو گیا تھا اور اشعث ارتداد کا شکار ہو گیا، اسی لیے اس کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں بیوی ہاتھ سے چلی نہ جائے۔ (الطبری: جلد 4 صفحہ 155)

آپؓ مجھے اللہ کے دین کے لیے میرے وطن والوں سے بہتر پائیں گے۔ سيدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو معاف کر دیا، اس کے عذر کو قبول کیا اور اس کی بیوی کو اس کے حوالے کر دیا، اور فرمایا: جاؤ تم سے خیر ہی خیر مجھے ملنا چاہیے اور دیگر تمام لوگوں کو رہا کر دیا اور لوگ واپس اپنے وطن چلے گئے، پھر مال غنیمت کا خمس سیدنا ابوبکرؓ نے لوگوں میں تقسیم کیا۔

(الطبری: جلد 4 صفحہ 155)


صفحہ 2 از 2