سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کا لشکر حضر موت اور…

سیدنا مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کا لشکر حضر موت اور کندہ کے ارتداد کا قلع قمع کرنے کے لیے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

گیارہ فوجی دستوں میں سب سے آخر میں مدینہ سے نکلنے والا دستہ سیدنا مہاجر بن ابی امیہؓ کا لشکر تھا۔ آپؓ کے ساتھ مہاجرین و انصار کی جماعت تھی۔ جب آپؓ مکہ سے گزرے تو والی مکہ سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت خالد بن اسیدؓ آپؓ کے ساتھ شامل ہو گئے اور جب آپؓ کا گزر طائف سے ہوا تو سيدنا عبد الرحمٰن بن ابی العاص رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کو لے کر آپؓ کے ساتھ ہو لیے اور جب آپؓ کی ملاقات نجران کے علاقہ میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلیؓ سے ہوئی تو ان کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا اور سيدنا عکاشہ بن ثور رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لیا، انہوں نے تہامہ کے کچھ لوگوں کو جمع کر رکھا تھا پھر آپؓ کی جماعت میں فروہ بن مسیک المرادی بھی داخل ہو گئے جو مذحج کے مضافات میں تھے اور آپؓ کا گزر بنو حارث بن کعب کے پاس سے نجران میں ہوا، وہاں آپؓ کو حضرت مسروق عکی رضی اللہ عنہ ملے ان کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔

(تاریخ الردۃ للکلاعی: صفحہ 154، 158)

نجران میں حضرت مہاجر رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ فوج کا ایک حصہ نجران و صنعاء کے مابین اسود عنسی کی بکھری ہوئی جماعت کا خاتمہ کرنے پر مامور ہوا، جس کی قیادت خود سیدنا مہاجرؓ نے سنبھالی اور دوسرے حصہ کی قیادت اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کو سونپی اور اس کی ذمہ داری تہامہ یمن کو باقی مرتدین سے صاف کرنا تھا۔

(طبقات فقہاء الیمن: صفحہ 36)

صنعاء میں حضرت مہاجر رضی اللہ عنہ کو استقرار حاصل ہو گیا تو آپؓ نے سيدنا ابوبکرؓ کو خط کے ذریعہ سے اپنی تمام کارروائیوں سے مطلع کیا اور جواب کے انتظار میں لگ گئے اور اسی وقت حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور یمن کے دیگر عمال نے جو رسول اللہﷺ کے دَور سے چلے آرہے تھے سیدنا ابوبکر صديق رضی اللہ عنہ کو خطوط ارسال کیے اور مدینہ واپس آنے کی اجازت طلب کی تو سيدنا ابوبکرؓ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ دیگر عمال کو اختیار دیا کہ چاہیں تو یمن میں باقی رہیں اور چاہیں تو مدینہ واپس آ جائیں لیکن اپنی جگہ کسی کو مقرر کر کے آئیں۔ اختیار ملنے کے بعد تمام ہی لوگ مدینہ واپس ہو گئے۔

(طبقات فقہاء الیمن: صفحہ 36)

اور حضرت مہاجر رضی اللہ عنہ کو حکم ملا کہ عکرمہ سے جا ملو پھر دونوں مل کر حضر موت پہنچو اور زیاد بن لبید کا ساتھ دو، اور ان کو ان کے عہدہ پر باقی رکھتے ہوئے حکم فرمایا کہ تمہارے ساتھ مل کر جو لوگ مکہ اور یمن کے درمیان جہاد کرتے رہے ہیں انہیں لوٹنے کی اجازت دے دو مگر یہ کہ بذات خود جہاد میں شرکت کو ترجیح دیں۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 283)

حضرت زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ حضر موت میں کندہ پر رسول اللہﷺ کی طرف سے والی مقرر ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکرؓ نے ان کو اس عہدہ پر باقی رکھا۔ سیدنا زیاد رضی اللہ عنہ سخت گیر تھے، جس کی وجہ سے حارثہ بن سراقہ نے بغاوت کر دی۔ کلاعی کے بیان کے مطابق جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: آپؓ نے کندہ کے ایک نوجوان کو غلطی سے زکوٰۃ میں سے ایک عیب دار اونٹنی دے دی لیکن جب اس شخص نے اس اونٹنی کو بدلنا چاہا تو آپؓ راضی نہ ہوئے اس نے اپنے ایک سردار حارثہ بن سراقہ سے اس سلسلہ میں تعاؤن چاہا، حارثہ نے جب سیدنا زیادؓ سے اونٹنی بدلنے کا مطالبہ کیا تو حضرت زیاد رضی اللہ عنہ اپنے مؤقف پر مصر رہے، حارثہ کو غصہ آیا، اس نے زبردستی اونٹنی کھول دی، جس کی وجہ سے سيدنا زیاد رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں اور حارثہ کے ساتھیوں کے درمیان فتنہ رونما ہو گیا اور جنگ جاری ہو گئی اور بالآخر حارثہ کو شکست ہوئی، کندہ کے چاروں بادشاہ قتل کر دیے گئے اور سراقہ کی جماعت کی ایک بڑی تعداد کو حضرت زیاد رضی اللہ عنہ نے قید کر لیا اور مدینہ روانہ کر دیا۔ قیدیوں نے اشعث بن قیس سے مدد طلب کی، اس نے عصبیت و حمیت میں آکر بڑی جماعت اکٹھی کی اور مسلمانوں کا محاصرہ کر لیا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 49 الثابتوں علی الاسلام: صفحہ 66)

ادھر سیدنا زیاد رضی اللہ عنہ نے صورت حال سے نمٹنے کے لیے حضرت مہاجر و حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا کہ وہ جلد از جلد مدد کے لیے پہنچ جائیں۔ وہ دونوں اس وقت مآرب میں تھے، یہ خبر سن کر سیدنا مہاجرؓ نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ کو فوج کے ساتھ چھوڑا اور خود تیز رفتار شہسواروں کو لے کر سیدنا زیادؓ کی مدد کے لیے پہنچ گئے اور محاصرہ کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کندہ کے لوگ بھاگ کر ’’نجیر‘‘ نامی اپنے ایک قلعہ میں محصور ہو گئے۔ اس قلعہ میں صرف تین راستے تھے، ایک راستہ پر حضرت زیاد رضی اللہ عنہ اتر گئے اور دوسرے پر سیدنا مہاجرؓ نے نزول فرمایا اور تیسرا راستہ کندہ ہی کے تصرف میں رہا، یہاں تک کہ سيدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ پہنچے اور اس راستے پر قابض ہو گئے اور اس طرح چہار جانب سے قلعہ کا محاصرہ کر لیا اور پھر حضرت مہاجر رضی اللہ عنہ نے میدانی اور پہاڑی علاقہ میں کندہ کے بکھرے ہوئے قبائل کی طرف فوجی دستے روانہ کیے تا کہ انہیں اسلام کی دعوت دیں اور جو انکار کریں ان سے قتال کریں۔ اس طرح صرف قلعہ میں محصور افراد ہی باقی رہے۔

(الیمن فی صدر الاسلام: صفحہ 284 تاریخ الطبری: جلد 4 صفحہ 152)

سیدنا زیاد اور سیدنا مہاجر رضی اللہ عنہما کی فوج پانچ ہزار سے زیادہ تھی، جن میں مہاجرین، انصار اور دیگر قبائل کے لوگ شامل تھے۔ انہوں نے قلعہ پر گرفت سخت کر دی، لوگوں نے بھوک سے زچ ہو کر اپنے سرداروں سے شکایت کی اور مرنے کو ترجیح دی، ان کے سرداروں نے اشعث بن قیس سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں سے امان کا مطالبہ کرے اور مسلمانوں کے فیصلہ پر اترنے کے لیے تیار ہو جائے۔

(تاریخ الطبری: جلد 3 صفحہ 152)

صفحہ 1 از 2