امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 4 از 5

امام قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے؛ وہ کہتے ہیں :ہم سے حسین نے حدیث بیان کی؛ ان سے حجاج نے ان سے ابن جریج نے ؛وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں ؛ عکرمہ کہتے ہیں :’’یہ آیت حضرت صہیب اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہما کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب بدر والوں نے ابو ذر رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا مگر وہ ان سے چھوٹ کر بارگاہ نبوی میں پہنچ گئے۔ جب واپس لوٹے تو کفار پھر آڑے آئے؛ یہ واقعہ مرّ الظہران نامی جگہ پر پیش آیا۔آپ پھر ان سے چھوٹ گئے۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوگئے۔جب کہ حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر والوں نے پکڑ لیا تھا۔ آپ نے فدیہ دے کر ان سے رہائی حاصل کرلی۔ پھر ہجرت کرتے ہوئے نکل پڑے کہ قنفذ بن نفیل بن جدعان نے آپ کو پکڑ لیا۔ آپ کے پاس جو مال رہ گیاتھا ؛ وہ اسے دیکر جان چھڑائی۔ علاوہ ازیں آیت کے الفاظ عام ہیں اور رضائے الٰہی؛اور اطاعت و جہاد فی سبیل اللہ کے لیے اپنی جان کو فروخت کرنے والا ہر شخص اس میں داخل ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ بیعت الرضوان میں شمولیت کرنے والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت کی بیعت کی تھی۔[تفسیر میں یہ کہا ہے۔تفسیر قرطبی میں ہے: کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرکے آئے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ان کا پیچھا اور تعاقب کیا۔ تو وہ اپنی سواری سے نیچے اتر پڑے اور ترکش میں موجود تمام تیر نکال لیے، اور اپنی قوس تیرکمان پکڑ لی اور فرمایا : تم جانتے ہو میں تم سے زیادہ تیر چلانے میں ماہر ہوں ، اللہ تعالیٰ کی قسم !تم مجھ تک نہیں پہنچ سکو گے یہاں کہ میں اپنے ترکش کے سارے تیر پھینک دوں ۔ بعد ازاں میں اپنی تلوار سے لڑوں گا جب تک اس کی کوئی شے میرے ہاتھ میں باقی رہی پھر اس کے بعد تم جو چاہو کرو۔ تو انہوں نے کہا : ہم تجھے نہیں چھوڑ سکتے کہ تم غنا اور خوشحالی کی حالت میں ہم سے چلے جاؤ حالانکہ تم ہمارے پاس محتاج بن کرافلاس کی حالت میں آئے تھے۔ لیکن اگر تم مکہ میں موجود اپنے مال پر ہماری راہنمائی کرو تو ہم تمہارا راستہ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے اسی مال کی شرط پر آپ سے معاہدہ کیا، تو آپ نے اسے پورا کردیا۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی : [ تفسیر طبری، ج ۳، ص۱۹۵] اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی جو جنگ میں گھس جاتا ہے، ہشام بن عامر قسطنطینہ میں لشکر میں داخل ہوئے اور خوب قتال کیا، یہاں تک کہ شہید کردیے گئے توحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ﴾ اور حضرت ابو ایوب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [تفسیر طبری، جلد ۳، صفحہ ۳۹۵] اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت غزوہ رجیع کے شہدا کے بارے میں نازل ہوئی اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ہے : وہ مہاجرین وانصار ہیں ۔ بخاری ح:۴۱۶۹، مسلم، ح: ۱۸۶۰]

یہ قول ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ ان کا فرمان ہے کہ: اس آیت کے نزول کا سبب حضرت صہیب رضی اللہ عنہ تھے ۔‘‘

آٹھویں بات:....اس آیت کے الفاظ مطلق ہیں ۔ اس میں کسی کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ہر وہ انسان جو اپنے آپ کو اللہ کی رضامندی کے لیے بیچ ڈالے وہ اس آیت کے عموم میں داخل ہے۔ اور سب سے پہلے جو اس میں داخل ہونے کے بڑے حق دار ہیں وہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ کی راہ میں پیش کر دیا تھا؛ اور اس وقت میں ہجرت کی جب دشمن ہر طرف سے آپ کی تلاش میں تھا۔

نویں بات:....رافضی مصنف کا یہ قول کہ : ’’ یہ فضیلت کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوسکی ۔یہ آپ کی افضلیت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اس سے پتہ چلا کہ آپ ہی امام ہوں گے۔‘‘

جواب:....اس میں شبہ نہیں کہ غار میں جو فضیلت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوئی اس میں وہ دیگر صحابہ سے منفرد ہیں ۔ کتاب و سنت اور اجماع اس پر دلالت کرتے ہیں ۔جو فضیلت آپ کے لیے ثابت ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما اوردوسرے صحابہ کرام کے لیے بھی ثابت نہیں ۔پس اس بنا پر آپ ہی امام ہوئے۔ اسی طرح واقعہ ہجرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا شرف بھی صرف حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا۔ لہٰذا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ برحق تھے۔ یہ وہ سچی دلیل ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ (التوبۃ:۴۰)

’’ اگر تم اس کی مدد نہیں کرتے تو اللہ نے اس کی مدد کی تھی جب کفار نے ان کو نکال دیا تھا وہ دو اشخاص کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے اور اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔‘‘

اس طرح کی فضیلت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے کبھی بھی ہرگزحاصل نہیں ہوسکی ۔ بخلاف اپنی جان نثار کرنے کے۔ اس لیے کہ کئی ایک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جانثاری کا حق ادا کیا تھا۔ ہر مسلمان پر ایسا کرنا واجب ہے ۔ یہ صرف اکابر صحابہ کرام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

فضیلت خصوصیات کی بنا پر ثابت ہوتی ہے ؛ مشترکہ امور کی بنا پر نہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی نے کوئی تکلیف نہیں دی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں دیگر صحابہ کو جسمانی تکلیفیں پہنچی تھیں ۔

کبھی ان کو مارا گیا ؛ کبھی زخمی ہوئے ؛ اور کئی حضرات قتل کردیئے گئے۔ پس جو اپنی جان پیش کرے اور اسے اذیت بھی دی جائے وہ اس آدمی سے بڑھ کر ہے جو اپنی جان تو پیش کرے ؛ مگر اسے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔

صفحہ 4 از 5