امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل: - ردِ رافضیت |…

امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آٹھویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 5

کئی صحابہ نے مختلف لڑائیوں میں اپنی جانیں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نثار کی تھیں ۔ بعض شہید ہوئے اور بعض کے اعضاء تک شل ہو گئے۔ مثلاً طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔[صحیح بخاری، کتاب المغازی باب ﴿ اِذْ ہَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْکُمْ....﴾ (حدیث:۴۰۶۳)۔]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و نصرت مسلمانوں پر واجب ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ مکہ مکرمہ میں بستر پر لیٹنا جان نثاری تھی ؛ اور اس میں فضیلت کا پہلو موجود ہے تب بھی یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوئی خصوصیت نہیں ؛ بلکہ دوسرے لوگ بھی اس میں آپ کے شریک ہیں ۔اس لیے کہ دوسرے کئی صحابہ کرام نے بھی کئی مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جان نثاری کا حق اداکیا ہے ۔ تو پھر جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوئی خطرہ ہی نہ تھاتو یہ کیسے خصوصیت ہوئی؟

سیرت ابن اسحاق میں ہے -حالانکہ ابن اسحاق کا شمار متولین علی رضی اللہ عنہ اور ان کی جانب میلان رکھنے والوں میں ہوتا ہے - اس نے ہجرت کی رات مکہ مکرمہ میں اپنے گھرسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خروج اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کو بستر پر لیٹانے کا واقعہ لکھا ہے؛[وہ لکھتا ہے ] : جبرائیل امین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا آج رات آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں ۔ رات کے اندھیرے میں کفار آپ کے دروازے پر جمع ہو کر انتظار کرنے لگے کہ جب سو جائیں تو آپ پر حملہ کردیں ۔

ان کو کھڑے دیکھ کر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا:’’ میرے بستر پر میری سبز حضرمی چادر اوڑھ کر سو جائیں کفار آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔‘‘ [سیرۃ ابن ہشام(ص:۲۲۲) ، مسند احمد(۱؍۳۴۸)]

واقعہ ہجرت:

محمد بن کعب القرظی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ:

’’ جب کفار مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں جمع ہوئے تو ان میں ابوجہل بھی تھا۔ اس نے کہا: محمد کہتا ہے:’’ اگر تم ان کی پیروی کرو گے تو عرب و عجم کے بادشاہ بن جاؤ گے اور موت کے بعد جب دوبارہ زندہ ہو گے توتمھیں ایسے باغات ملیں گے جیسے اردن کے باغات ہیں اور اگر تم نے ان کی پیروی نہ کی تو وہ تمھیں ہلاک کر ڈالیں گے اور بعد از موت جب اٹھائے جاؤ گے تو تمھیں آگ میں جلایا جائے گا۔‘‘

راوی کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے اور مٹھی بھر مٹی ان پر دے ماری، پھر فرمایا: ہاں میں یوں ہی کہتا ہوں ۔ابوجہل کو مخاطب کرکے فرمایا: تو بھی آگ میں جلنے والوں میں سے ایک ہے۔ اللہتعالیٰ نے کفار کی قوت بصارت سلب کرلی اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکے۔ یہ مٹی ان سب آدمیوں کے سر پر پڑی۔کوئی بھی ایسا نہیں بچا جس کے سر پر وہ مٹی نہ پڑی ہو ۔ اور وہ ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ پھر ایک شخص ان کے پاس آیا؛جوان کے ساتھ نہیں تھا؛ اس نے کہا :’’تم یہاں کس کا انتظار کر رہے ہو؟ ‘‘

انھوں نے کہا :’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا۔‘‘

وہ کہنے لگا: ’’ اللہ کی قسم! محمد جا چکے ہیں تم اپنے مقصد میں ناکام ہوئے۔ جاتے جاتے وہ تمہارے سروں پر خاک بھی جھونک گئے ہیں ۔‘‘کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے۔

چنانچہ کفارمیں سے ہر آدمی نے اپنا ہاتھ اپنے سر میں ڈالا تو دیکھا کہ ان کے سر پر مٹی پڑی ہے۔ پھر وہ گھر میں ادھر ادھر جھانکنے لگے کیا دیکھتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ آپ کی چادر اوڑھے سوئے ہیں ۔ وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر تانے سو رہے ہیں ۔ اتنے میں صبح ہو گئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے؛ تو کفار نے کہا:’’ اس شخص نے سچی بات کہی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے چلے گئے ہیں ۔ تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی:

﴿وَ اِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ﴾ [الأنفال:۳۰] [سیرۃ ابن ہشام‘ ص:۲۲۱]

’’اوریادکریں جب کافر آپ کے خلاف تدابیرکر رہے تھے کہ آپ کو قید کریں یا قتل کریں یا مکہ سے نکال دیں وہ تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیر کر رہاتھا اور اللہ بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘

نیز یہ آیت بھی نازل ہوئی : ﴿اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ﴾ [الطور ۳۰]

’’یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں ۔‘‘

اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو ہجرت کی اجازت عطا فرمائی۔اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ان لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوئی غرض نہیں تھی۔‘‘

مذکورہ صدر روایت سے یہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا کہ:

’’ میرے بستر پر میری سبز حضرمی چادر اوڑھ کر سو جائیں کفار آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے۔‘‘

بنا بریں حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدہ کی روشنی میں ہر طرح سے مسرور و مطمئن تھے۔

چوتھی بات:....خود اس روایت میں اس کے جھوٹ ہونے کے وہ دلائل موجود ہیں جو کسی پر بھی مخفی نہیں رہ سکتے۔ اس لیے کہ ملائکہ کے بارے میں ایسی باطل باتیں نہیں کہی جاسکتیں جو ان کی شایان شان نہ ہوں ۔ان میں سے کوئی ایک بھوکا نہیں تھا کہ دوسرے کو کھانے میں ترجیح دیتا۔اور نہ ہی ان کے لیے کوئی خوف تھا کہ امن والا خوف والے کوترجیح دیتا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف یہ بات کیسے منسوب کی جاسکتی ہے کہ اس نے فرشتوں سے کہا : تم میں سے کون ہے جو اپنے ساتھی کی زندگی کوترجیح دے؟ نیز فرشتوں کے مابین اصل میں کوئی مواخات نہیں ۔ بلکہ جبریل کی اپنی خاص ذمہ داری ہے ؛ میکائیل کی اپنی خاص ذمہ داری ہے جو جبریل کی نہیں ۔جیسا کہ احادیث مبارکہ میں آتا ہے ؛کہ وحی لیکر آنا اور مدد لیکر نازل ہونا جبریل امین کی ذمہ داری ہے۔ اور روزی اور بارش پہنچانا میکائیل کی ذمہ داری ہے۔

صفحہ 2 از 5