امامت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی چھٹی دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

’’اوراپنے گھروں میں اللہ کی جو آیتیں پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو۔‘‘

پانچویں وجہ:....یہ کہنا کہ ’’ اس سے مراد انبیاء کے گھر ہیں ‘‘ صاف جھوٹ ہے۔ اگر واقعی ایساہوتا تو اہل ایمان کا اس میں کوئی نصیب نہ ہوتا۔جب کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿یُسَبِّحُ لَہٗ فِیْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ oرِجَالٌ لَا تُلْہِیہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ﴾ [النور۳۶]

’’وہاں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرو ۔ایسے لوگ جنہیں تجارت اور خریداری اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی ۔‘‘

یہ آیت ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو ان صفات سے موصوف ہوں ۔

چھٹی وجہ :....اس آیت کریمہ میں ﴿فِیْ بُیُوتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ﴾ لفظ بیوت کو نکرہ موصوفہ لایا گیا ہے ؛ اس میں کوئی تعین نہیں ہے۔جب کہ اس سے آگے فرمایاہے: ﴿اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ ﴾ اگر اس خطاب سے مراد وہ ذکر و اذکاراور نمازیں ہوں جو مساجد کے ساتھ خاص نہیں بلکہ گھروں میں ادا کیے جاتے ہیں ؛ تو اس میں اہل ایمان کے دیگر بہت سارے ایسے گھر بھی داخل ہوتے ہیں جو ان صفات سے موصوف ہیں ؛ تو پھر یہ آیت انبیائے کرام علیہم السلام کے گھروں کے ساتھ خاص نہ ہوئی۔

اگر اس سے مراد پانچ نمازیں اور ان کے ساتھ ذکر و اذکار ہیں ؛ تو پھر یہ آیت مساجد کے ساتھ خاص ہے۔ جب کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے گھروں میں مساجد کی خصوصیت نہیں پائی جاتی۔یہ علیحدہ بات ہے کہ انہیں انبیائے کرام علیہم السلام کے مسکن ہونے کا اعزاز و فضیلت حاصل ہیں ۔

ساتویں وجہ:....شیعہ سے یہ بھی کہا جائے گا کہ اگر انبیائے کرام علیہم السلام کے گھروں سے مراد وہ گھر ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا؛ تو پھرمدینہ طیبہ میں ازواج مطہرات کے گھروں کے علاوہ کسی بھی نبی کا کوئی گھر نہیں تھا۔ تو ان گھروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر داخل نہ ہوا۔اور اگر اس سے مراد وہ گھر ہوں جن میں انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کوئی ایک داخل ہوا ہے تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت سارے صحابہ کرام کے گھروں میں داخل ہوئے ہیں ۔ جو بھی بات مان لی جائے ؛ کسی بھی صورت میں حضرت ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے گھروں کو چھوڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر کی کوئی فضیلت و خصوصیت ثابت نہیں ہوتی ۔ جب آپ کی کوئی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی تو پھر مردوں کے مابین بہت سارے امور مشترک ہوتے ہیں جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی برابر کے شریک ہیں ۔

آٹھویں وجہ :....اس شیعہ سے یہ بھی کہا جائے گا کہ : وہ مرد جن کی صفت اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کی ہے :

﴿رِجَالٌ لَا تُلْہِیہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ﴾ [النور۳۶]

’’ایسے لوگ جنہیں تجارت اللہ تعالیٰ کی یادسے غافل نہیں کرتی ۔‘‘

اس آیت سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ مرددوسرے لوگوں سے افضل ہیں ۔اور ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا وعدہ بھی نہیں کیا ؛ بلکہ ان کے اس فعل پر ان کی تعریف کی گئی ہے۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے کہ جس کسی کی بھی کوئی تعریف کی جائے یا اسے جنت کی خوشخبری سنائی جائے تووہ دوسروں سے افضل ہوجائے گا۔ اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ وہ انسان انبیائے کرام علیہم السلام سے بھی افضل ہو۔

نویں وجہ :....تصور کیجیے اس آیت سے ان لوگوں پر فضیلت ثابت ہوتی ہے جو ان صفات سے موصوف نہیں ہیں ؛ تو پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ صفت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے ؟ بلکہ ہر وہ انسان جسے تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی؛ اور وہ آخرت کے دن کا بھی خوف رکھتا ہے؛ تووہ اس صفت سے موصوف ہے۔آپ پھر یہ کیونکر کہتے ہیں کہ : یہ صفت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ میں پائی جاتی ہے ؟ جب کہ آیت کا لفظ دلالت کرتا ہے کہ وہ بہت سارے لوگ ہیں ؛صرف کوئی ایک مرد نہیں ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آیت کریمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ آپ او ردوسرے لوگ اس صفت میں مشترک ہیں ۔ پس اس بنیاد پر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ اپنے مشارکین سے افضل ہوں۔

دسویں وجہ :....اگر تسلیم کر لیا جائے کہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ اس صفت میں باقی لوگوں سے افضل ہیں ۔ توپھر بھی اس سے امامت کا وجوب کہاں سے لازم آگیا؟

جب کہ مفضول کو فاضل پر مقدم کرنے کے امتناع کے مسئلہ کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو بیشک ایسا ان مجموعی صفات میں ہوتا ہے جو کہ امامت کے لیے مناسب ہوتی ہیں ۔ ورنہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ انسان جسے خیر کی کسی ایک خصلت میں دوسروں پر فضیلت حاصل ہو تو وہ امامت کا مستحق ہوجائے گا۔ اگر ایسا جائزہو تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت بہت زیادہ کفار کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ اور ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے بہت زیادہ مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا۔ اور ایسے بھی ہیں جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے اللہ کی راہ میں بہت زیادہ تکلیف دی گئی ۔ ایسے بھی تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے عمر میں زیادہ بڑے بھی تھے۔ ایسے بھی تھے جن کے پاس وہ علم تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں تھا۔

خلاصہ کلام ! انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ کسی دوسرے نبی کی صفات ہر لحاظ سے اس میں موجود ہوں ۔اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک میں دوسری صحابی کی کوئی صفت ہر لحاظ سے پوری طرح موجود ہوسکتی ہے ۔ بلکہ مفضول میں بھی کوئی نہ کوئی ایسی یگانہ چیزہوتی ہے جس میں وہ فاضل سے آگے ہوتا ہے ؛ لیکن بات یہ ہے کہ مجموعی طورپر ساری صفات کو جمع کرکے انہیں معتبر سمجھا جاتا ہے ۔


صفحہ 2 از 2