امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 9 از 9

لیکن اس آیت سے استدلال کرنے والے رافضی سے پوچھا جائے گا کہ تم نے جھوٹ کے پلید ہونے پر کوئی دلیل ذکر نہیں کی۔ جب اس پر کوئی دلیل نہیں ہے تو پھر اس سے کسی جھوٹ کو ختم کرنا لازم نہیں آتا۔اگر یہ بات مان لی جائے کہ ناپاکی کو ختم کردیا گیا ہے ؛ تو یہ کہنے والا کا شمار ان لوگوں میں ہوتا جو قرآن سے دلیل پیش کرتے ہیں ؛ قرآن میں اس ناپاکی کے دور ہوجانے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ اور نہ ہی اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ جھوٹ اور خطاء بھی ناپاکی میں شمار ہوتے ہیں ۔ اور نہ ہی اس بات کی کوئی دلیل ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی کچھ ایسا فرمایا ہو۔ بہر کیف اگر ان میں سے کوئی بات ثابت ہو بھی جائے تو وہ قرآن سے ماخوذ نہ ہوگی؛ اس کی بنیاد ایسے مقدمات پر ہوگی جو قرآن سے نہیں ہوں گے۔ پھر شیعہ مصنف کے قرآنی دلائل کہاں ہیں جن کا وہ ڈھنڈورا پیٹتا ہے؟ایسے جھوٹے دعوے تو صرف وہی انسان کرسکتا ہے جو اہل رسوائی و ندامت میں سے ہو۔


صفحہ 9 از 9