امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 8 از 9

بخلاف ازیں ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جس شخص نے آپ کی نسبت سے اس قسم کے الفاظ نقل کیے ہیں وہ کاذب ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صحیح معنی میں متقی تھے اور ایسے صریح کذب کا دعویٰ نہیں کر سکتے تھے جس کا کذب ہونا سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر عیاں ہو۔

شیعہ مصنف نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:’’ ابن ابی قحافہ نے یہ لباس اوڑھا(منصب خلافت پر فائز ہوئے) حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ مجھے وہی مرتبہ حاصل ہے جو ایک چکی میں درمیانی سیخ کو حاصل ہوتا ہے۔ ‘‘

ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں : پہلی بات :اس قول کی سند کہاں ہے ؟جس میں ثقہ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ تک اس قول کو ثقات سے نقل کیا ہو۔ ایسا ہر گز اس روایت میں کچھ بھی نہیں پایا جاتا ۔

[یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول نہیں ہے]۔ البتہ یہ قول نہج البلاغہ اور اس جیسی بعض دوسری کتابوں میں موجود ہے۔ اہل علم سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ نہج البلاغہ کے اکثر خطبات خود ساختہ اور جھوٹے گھڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تھوپ دیئے گئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کسی قدیم کتاب میں درج نہیں ۔[اس کی حد یہ ہے کہ کتب ادب جن میں سند مذکور نہیں ہوتی ان میں بھی یہ الفاظ مذکور نہیں ہیں ۔ مثلاً جاحظ کی ’’البیان و التبیین‘‘ میں سیدنا علی کا یہ خطبہ صرف چند سطروں تک محدودہے۔ اگر اس خطبہ کا تقابل نہج البلاغہ میں ذکر کردہ خطبہ کے ساتھ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں اس خطبہ کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے اور وہ اضافہ کیا گیا ہے جو جاحظ کے زمانہ تک موجود نہ تھا۔ مشہور شیعہ عالم رضی اور ان کے بھائی مرتضیٰ نے نہج البلاغہ میں جس جعل سازی سے کام لیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ثابت شدہ چیز پر بے بنیاد باتوں کا اضافہ کرتے ہیں ۔‘‘ ’’لقد تقمصا‘‘ کا جملہ بھی اسی میں شامل ہے ۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ نہج البلاغہ میں ذکر کردہ اقوال سیدنا علی کے معروف ارشادات کی نقیض ہوتے ہیں اور ان کی کوئی سندہوتی ہے نہ دلیل۔ روافض کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ اس طرح انھوں نے سیدنا علی کے اقوال میں تناقض ثابت کردیا جس سے ان کا دامن پاک تھا۔] اور نہ ان کی کوئی سند معروف ہے۔توپھر ناقل نے کہاں سے نقل کیا ہے ؟

یہ خطبات اسی طرح ہیں جیسے کوئی شخص کہے کہ میں علوی یا عباسی ہوں ۔ حالانکہ ہمیں علم ہو کہ اس کے اسلاف میں سے کسی نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔اور نہ ہی اس کے لیے ایسا کوئی دعوی [اس سے پہلے کیا گیا تھا]۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعوی بے بنیاد ہے۔ اس لیے کہ نسب اپنی اصل کے اعتبار سے جانا پہچانا ہوتا ہے اور اسی طرح وہ اپنی فرع سے مل جاتا ہے۔

ایسے ہی منقولات کے لیے ضروری ہے کہ صاحب قول سے لیکر ہم تک اس کی معروف سند ہونی چاہیے۔ اگر کوئی انسان کتاب لکھے ؛جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم کے بہت سارے خطبات جمع کردے ۔لیکن اس سے پہلے کسی بھی دوسرے فرد نے یہ خطبات کسی معروف سند سے نقل نہ کیے ہوں ؛ تو ہم یقینی طور پر اس کے جھوٹا ہونے کو جان لیتے ہیں ۔یہی حال نہج البلاغہ کے خطبات کا ہے ۔ ہمیں یقینی طور پر علم حاصل ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے برعکس فرمایا تھا۔ اس موقع پر ہمارامقصد اس کا جھوٹ واضح کرنا نہیں ‘ بلکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس روایت کی کوئی صحیح سند پیش کی جائی ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر کسی ایسی چیز کی تصدیق کو واجب نہیں کیا جس کے سچا ہونے کی کوئی دلیل موجود نہ ہو۔

نہج البلاغہ کے خطبات میں بعض باتیں ایسی بھی ہیں جو کہ بالاتفاق ممتنع ہیں ۔اور خصوصاً جبکہ ’’ تکلیف ما لا یطاق‘‘کا قول بھی ممتنع ہو۔ بیشک یہ سب سے بڑی ’’تکلیف مالایطاق ‘‘ ہے ۔ پھر ہم چوتھی صدی ہجری میں جب ہر طرف جھوٹے لوگ بڑھ گئے تھے ؛ اس وقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دعوائے خلافت کو ان لوگوں کے اقوال کی بنا پر کیوں کر تسلیم کرسکتے ہیں جو متہم بالکذب تھے؟[چوتھی صدی ہجری میں ] ان شیعہ لوگوں کی حکومت عمل میں آچکی تھی ؛ جہاں پر یہ لوگ جس قسم کا بھی جھوٹ بولتے اسے پذیرائی حاصل ہوتی۔ ان کے ہاں اقوال کی سچائی کا مطالبہ کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔اس مسئلہ میں ہمارا یہ بنیادی جواب ہے۔ یہ ہمارے اور اللہ کے مابین ہے۔

پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں : فرض کیجیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا کہا تھا؛ تو تم نے یوں کیوں کہا کہ:’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امام منصوص ومعصوم ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ممکن ہے کہ آپ یہ بتانا چاہتے ہوں کہ وہ دوسروں کی نسبت خلافت کے لیے موزوں تر ہیں ۔اس لیے کہ آپ کا اعتقاد تھا کہ وہ دوسروں سے افضل ہیں ؛ اور خلافت کے زیادہ حق دار ہیں ۔ لہٰذا اس کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ آپ نے دانستہ جھوٹ کا ارتکاب کیا، بلکہ یہ بات آپ نے اپنے اجتہاد کی بنا پر کہی ہو گی۔اور مجتہد کے رائے مبنی بر صواب بھی ہوسکتی ہے اور خطاء بھی ہوسکتی ہے۔

اس بات پر اتفاق ہے کہ ناپاکی کی نفی کرنے سے یہ واجب نہیں ہوتا کہ کوئی معصوم عن الخطاء بھی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مراد یہ نہیں تھی کہ وہ اہل بیت سے خطاء کو ختم بھی کردے ۔کیونکہ شیعہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ جب کہ خطاء قابل مغفرت ہوتی ہے ؛ اور اس کا وجود کوئی نقصان نہیں دیتا ۔

مزید بر آں یہ کہ خطاء میں عمومِ رجس (ناپاکی) شامل نہیں ۔

نیز یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو خطاء سے معصوم ہو۔ شیعہ اپنے ائمہ کو بھی خطاء سے معصوم مانتے ہیں ۔ جب کہ ناپاکی کے دور کیے جانے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے اہل بیت بھی شریک ہیں ۔

ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے وہ اس بات سے بری ہیں کہ کوئی جھوٹ بولیں ۔جیساکہ حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اللہ کے متقی والے تھے اور اس بات سے بری تھے کہ جان بوجھ کر کوئی جھوٹ بولیں ۔

صفحہ 8 از 9