امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 7 از 9

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان حضرات کو پاک کرنے کے لیے دعا ایسے ہی جیسے آپ دعافرئیں کہ : ان کا تزکیہ نفس ہوجائے؛ اور انہیں پاک کردیا جائے؛ اور انہیں نیک و متقی بنادیا جائے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ جس بارے میں پاک و صاف ہونا ثابت ہوجائے وہ اس حکم میں شامل ہے۔[اہل بیت کے لیے کی گئی ]یہ دعاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی ذات کے لیے کی گئی دعا سے بڑھ کر نہیں ہے ؛آپ نے یوں دعا فرمائی تھی:

’’اے اللہ ! مجھے صاف کردے میرے گناہوں سے جس طرح صاف کیا جاتا ہے سفید کپڑے کو میل کچیل سے ۔اے اللہ ! مجھے دھو دے میرے گناہوں سے برف اورٹھنڈے پانی او ر اولوں سے ۔‘‘

پس جس کسی سے اگر گناہ سر زد ہوجائے ‘ یا تووہ مغفرت کے لائق ہوتا ہے ‘ یا پھر اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس کا کفارہ بناکر اسے بالکل پاک کردیتے ہیں ۔ لیکن جو کوئی اپنی گناہوں میں لت پت مر گیاوہ اپنی اس زندگی میں ان گناہوں سے پاک نہیں ہوسکا ۔اور کبھی اللہ تعالیٰ انہیں صدقات کی وجہ سے گناہوں سے بالکل پاک کردیتے ہیں ۔صدقہ لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے۔پس جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی دعا فرماتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے موقع محل اور استعداد و اہلیت کے مطابق اسے قبولیت سے نوازتے ہیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل ایمان خواتین و حضرات کے لیے استغفار کرتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اہل ایمان میں کوئی گنہگار ہی نہیں پایا جائے۔ اگر حقیقت حال میں واقعی ایسا ہوتا تو کسی اہل ایمان کودنیا یا آخرت میں کوئی عذاب نہ دیا جاتا۔ بلکہ بعض افراد کی توبہ و استغفار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کردیتے ہیں ؛ او ربعض لوگوں کی نیکیاں ان کے گناہوں کو مٹا کر رکھ دیتی ہیں ۔اور کسی کے بہت سارے گناہ اللہ تعالیٰ دیگر کسی وجہ سے معاف کردیتے ہیں ۔

حاصل بحث یہ ہے کہ آیت میں جس تطہیر کا ذکر کیا گیا ہے اور آپ نے جو دعا فرمائی تھی اس سے بالاتفاق اہل بیت کا معصوم ہونا مراد نہیں ۔جہاں تک اہل سنت کے نقطہ نظر کا تعلق ہے، وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عصمت کا اثبات کرتے ہیں ۔ شیعہ نبی کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ کو بھی معصوم قرار دیتے ہیں ۔ پس شیعہ اور اہل سنت کا اتفاق ہے کہ عصمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے [اور شیعہ کے نزدیک] امام بھی معصوم ہوتا ہے۔ بنا بریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج و بنات اور دیگر عورتیں عصمت کے حکم میں داخل نہ ہوں گی۔

جب یہ بات ہے تو جن چار اکابر کے حق میں تطہیر کی دعا کی گئی ہے وہ اس عصمت کو شامل نہ ہو گی جو نبی اور[شیعہ کے ہاں ] امام کیساتھ مخصوص ہے۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ان کے لیے یہ عصمت حاصل نہ ہوگی؛ نہ ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے اور نہ ہی کسی دوسرے کے لیے۔اس لیے کہ آپ نے چاروں کے لیے مشترکہ دعا کی ہے ان میں سے کسی ایک کو خاص نہیں کیا۔

علاوہ ازیں گناہوں سے معصوم ہونے اور تطہیر کی دعا قدریہ کے قاعدہ کے مطابق ممتنع ہے(شیعہ بھی قدریہ یعنی منکرین تقدیر میں داخل ہیں ) اس لیے کہ افعال اختیاریہ یعنی واجبات کا بجا لانا اور منکرات کا ترک کرنا قدریہ کے نزدیک اللہ کی قدرت میں داخل نہیں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو پاکیزہ و اطاعت گزار بنا سکتا ہے نہ ہی نافرمان۔نہ ہی گناہوں سے پاک بنا سکتا ہے اور نہ ہی ناپاک ۔ لہٰذا اس اصل کی بنا پر فعل خیرات اور ترک منکرات کی دعا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

قدریہ کے نزدیک اللہ کی عطا کردہ قدرت نیک و بد دونوں قسم کے افعال کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جس طرح تلوار سے مسلمان کو بھی قتل کر سکتے ہیں اور کافر کو بھی۔ یا مال کو اطاعت میں بھی خرچ کر سکتے ہیں اور معصیت کے کاموں میں بھی۔ اسی طرح بندہ اللہکی عطا کردہ قدرت سے اچھے کام بھی انجام دیتا ہے اور برے بھی۔

شیعہ کی پیش کردہ حدیث ان کے خلاف حجت ہے جس سے ان کے بنیادی اصولوں پر وار ہوتی ہے ؛کیوں کہ اس حدیث میں آپ نے اہل بیت کے لیے تطہیر کی دعا فرمائی ہے۔

اگر شیعہ کہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہتعالیٰ اہل بیت کی مغفرت فرمائے گا اوروہ بروز آخرت ماخوذ نہیں ہوں گے۔

تو اس سے عصمت کے اثبات پر استدلال کرنا بالکل ہی غلط ہو گا۔تو واضح ہوا کہ اس حدیث میں عصمت کے اثبات پر کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔اور مطلق طور پر عصمت [یعنی فعل مامور کا بجالانا اور حرام کا ترک کرنا ] شیعہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی قدرت میں نہیں ہے۔یعنی اللہتعالیٰ انسان کو پاکیزہ و اطاعت گزار بنا سکتا ہے نہ ہی نافرمان؛نہ ہی نبی کواور نہ ہی کسی دوسرے کو۔

شیعہ کے ہاں جو کوئی اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری کو اختیار کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق و ہدایت سے اس اسے اختیارنہیں کرتا۔[ شیعہ کے نزدیک گناہوں سے معصوم رہنے کی دعاء بھی ممنوع ہے]۔اس سے شیعہ مذہب کاعصمت کے مسئلہ میں تناقض واضح ہوتا ہے ۔بفرض محال اگر عصمت ثابت بھی ہو جائے تاہم ہمارے نزدیک یہ امامت کے لیے مشروط نہیں ہے ؛اور نہ ہی ائمہ کے علاوہ کسی دوسرے سے عصمت کی نفی پر کوئی اجماع ہے۔ پس اس صورت میں ہر لحاظ سے ان کی حجت باطل ہوجاتی ہے ۔

[حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دعویٰ امامت ؟]:

[اشکال]:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’حضرت علی رضی اللہ عنہ امامت کے مدعی تھے اور نجاست کا ازالہ بھی ثابت ہو چکا ہے۔ لہٰذا آپ ہی امام صادق ہوں گے۔‘‘

[جواب]:اس کا جواب کئی وجوہ سے دیا جاسکتا ہے :

اوّل :....ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی اس قسم کا دعوی کیا ہو۔بلکہ ہم علم یقینی اور قطعی کے طور پر جانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ تک نے اپنی امامت کاکوئی دعویٰ نہیں کیا۔یہ کہا گیا ہے کہ : بیشک آپ دل سے امامت کے خواہاں تھے، مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں امام یا معصوم ہوں ۔ نہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد مجھے امام بنایا ہے اور میری اطاعت لوگوں پر واجب ٹھہرائی ہے۔ اور نہ اس قسم کے دیگر الفاظ ارشاد فرمائے۔

صفحہ 7 از 9