امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 6 از 9

’’اے عائشہ مجھے تیرے بارے میں ایسی ایسی خبر پہنچی ہے پس اگر تو پاک دامن ہے تو عنقریب اللہ تیری پاکدامنی واضح کر دیگا اور اگر تم گناہ میں ملوث ہو چکی ہو تو اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو پس بے شک بندہ جب گناہ کا اعتراف کر لیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرماتا ہے۔‘‘[مسلم:ح2521]

خلاصہ کلام ! لفظ ’’رجس ‘‘ اصل میں ناپاکی کے لیے بولا جاتا ہے اور اس سے مراد شرک ہوتاہے ؛ فر مان الٰہی ہے:

﴿ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ﴾ [الحج ۳۰]

’’ پس تمہیں بتوں کی گندگی سے بچتے رہنا چاہیے ۔‘‘

اس سے کھانے پینے کی وہ گندی چیزیں بھی مراد لی جاتی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗٓ اِلَّآ اَنْ یَّکُوْنَ مَیْتَۃً اَوْدَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّہٗ رِجْسٌ﴾ [الانعام۱۴۵]

’’ فرما دیجئے جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی حرام نہیں پاتا جسے کھانے والا کھائے، مگر یہ کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وہ بالکل ناپاک ہے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ﴾

[المائدۃ ۹۰]

’’اے ایمان والو!بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے سب گندی باتیں ، شیطانی کام ہیں ۔‘‘

اس قسم کی ناپاکی کو ختم کرنے سے مراد[ اپنے جنس کی] تمام ناپاکی کو ختم کرنا ہے ۔ ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان اکابر اہل بیت کو اللہتعالیٰ نے شرک و خبائث کو دور کرکے ان کو فواحش و منکرات اور دیگر گناہوں سے پاک کر دیا تھا۔

’’رجس ‘‘ کا لفظ عام ہے ؛ جو تمام قسم کی ناپاکی کو شامل ہے؛ اور اس کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ہر قسم کی ناپاکی دور کردی ہو ؛ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایسی ہی دعا فرمائی تھی۔ 

جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: ’’وتطہّرہم تطہیراً۔‘‘ اور انہیں ہر طرح سے پاک و صاف کردے ۔ یہ مطلق طور پر سوال ہے[ ہر اس چیز کو شامل جس کے لیے ]طہارت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہو۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لفظ مطلق ہے ؛ طہارت کا کوئی ایک عنصر بھی پایا جانے سے مقصود حاصل ہوجاتا ہے۔ ایسے قیاس و عبرت کے لیے بولا جاتا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

﴿فَاعْتَبِرُوْا یَااُولِی الْاَبْصَارِ ﴾ [الحشر۲]

’’پس اے آنکھوں والو!عبرت حاصل کرو۔‘‘

حاصل کلام ! طہارت کا اعتبار اس کے اطلاق کے لحاظ سے ہوگا۔ جیسا کہ اگر کسی سے کہا جائے کہ :’’ أکرم ھذا‘‘ اس کا اکرام کرو۔تو اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرو جسے عرف میں اکرام کہا جاتا ہے ۔

ایسے ہی ’’ طاہر‘‘کا لفظ بھی ’’ طیب‘‘کی طرح ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

﴿وَالطَّیِّبَاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبَاتِ﴾ [النور ۲۶]

’’ اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿الْخَبِیْثَاتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَالْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثَاتِ﴾ [النور ۲۶]

’’خبیث عورتیں خبیث مرد کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں ۔‘‘

ایسے روایت کیا گیا ہے کہ [ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی] نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ ان کو اجازت دو ؛ خوش آمدید پاکیزہ فطرت شخص کے لیے۔‘‘[سنن ابن ماجہ:ج: ۱ : ح ۱۴۶؛ المقدِمۃ، باب فِی فضائِلِ أصحابِ رسولِ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہِ وسلم، فضل عمارِ بنِ یاسِر، المستدرک لِلحاِکمِ، 3؍188 وقال:’’ ہذا حدیث صحِیح الِإسنادِ، ولم یخرِجاہ‘‘ وقال الذہبِی: ’’ صحِیح ۔‘‘ والحدیث أیضاً فِی: مصنفِ ابنِ أبِی شیبۃ 12؍118۔]

یہ لفظ بھی’’ المتقی‘‘ اور لفظ ’’ المزکی‘‘کی طرح ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا oوَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا﴾ [الشمس ۹۔۱۰]

’’جس نے اسے پاک کیا وہ کامیاب ہوا ۔ اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وہ ناکام ہوگا۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَ تُزَکِّیْہِمْ بِہَا﴾ (التوبۃ:۱۰۳)

’’ ان کے مالوں سے صدقہ لے کر اس سے ان کو پاک کیجیے اور ان کا تزکیہ فرمائیے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی ﴾ [الأعلی ۱۴]

’’ وہ انسان کامیاب ہوگیاجس نے تزکیہ نفس کیا ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَا زَکَی مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا وَّلٰکِنَّ اللّٰہَ یُزَکِّی مَنْ یَّشَآئُ ﴾

’’ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی بھی کبھی بھی پاک صاف نہ ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ جسے پاک کرنا چاہے، کر دیتا ہے۔‘‘

مگر متقی کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس سے صغیرہ گناہ بھی صادر نہ ہو۔اور نہ ہی اس کے لیے خطاء اور گناہوں سے پاک ہونا شرط ہے۔ اگر متقی کے لیے یہ بات شرط ہوتی تو پوری امت میں ایک بھی متقی نہ ہوتا۔حالانکہ ایسا نہیں ہے جو بھی گناہوں سے توبہ کرلے اس کا شمار متقین میں سے ہوگا؛ اور ایسے ہی جو شخص بھی نیک اعمال سے اپنے گناہوں کو زائل کرے وہ متقی ہو گا۔جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنْ تَحْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ نُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا﴾ [النساء۳۱]

’’اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جس سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کر دیں گے اور عزت و بزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔‘‘

صفحہ 6 از 9