امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 5 از 9

جب مسئلہ ایسے ہی ہے تو اللہ تعالیٰ کے متقی اولیاء کے مابین ایمان و تقوی اورقرابت دین کا تعلق ہوتاہے ۔ اور دینی قرابت بدنی قرابت کے نزدیک بہت ہی زیادہ عظیم تر ہوتاہے۔ قلوب اور ارواح کے مابین کی قربت بدنی قرابت سے زیادہ عظیم تر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اولیاء اللہ المتقین تمام مخلوق سے افضل تھے۔ جب کہ ان اقارب میں سے کچھ لوگ مؤمن بھی ہوتے تھے اور کچھ کافر بھی ہوتے؛ نیک اور صالح بھی ہوتے اور بدکار اور فاجر بھی ۔ اگرچہ ان میں ایسے فاضل بھی تھے جیسے حضرت علی بن ابی طالب؛ حضرت جعفر؛ حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ ان کی فضیلت ان کے ایمان اور تقوی کی وجہ سے ہے۔اور ان کی ولایت اسی اعتبار سے ہے؛ صرف مجرد نسب کی وجہ سے نہیں ۔پس آپ کے اولیاء کا درجہ آپ کی آل سے زیادہ ہے۔اور جب ان آل پر آپ کی اتباع میں درود پڑھا جائے تو اس کا تقاضا ہر گز یہ نہیں ہے کہ آل ان اولیاء سے افضل ہوگئے ہیں جن پر درود نہیں پڑھا جاتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اصل اولیاء تو انبیاء و مرسلین ہیں ۔ جو کہ آپ کے اہل بیت سے بہت زیادہ افضل ہیں ۔ اگرچہ وہ اس درودھ پڑہنے میں تبعاً داخل نہیں ہوتے۔پس کچھ معاملات مفضول کے ساتھ خاص ہوتے ہیں ۔ ان سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ فاضل سے افضل ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات ان حضرات میں سے ہیں جن پر درود پڑھا جاتا ہے؛ جیساکہ صحیحین میں ثابت ہے؛ اور یہ بات تمام لوگوں کے اتفاق و اجماع سے ثابت ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام ان تمام ازواج مطہرات سے افضل ہیں ۔

آیت تطہیر اور شیعی دعویٰ کی حقیقت:

اگرشیعہ کہیں کہ فرض کیجیے قرآن کریم سے اہل بیت کی طہارت اور پاکیزگی ثابت نہیں ہوتی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الواقع ان سے نجاست کا ازالہ کردیا گیا ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا مستجاب ہوتی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا مقصد یہ بتانا ہے کہ صرف قرآن کریم سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اہل بیت سے نجاست کو دور کردیا گیا ہے۔ باقی رہی عصمت و امامت تو قرآن میں اس کا کوئی ذکر ہی نہیں پایا جاتا۔جب کہ حدیث سے استدلال کا ایک علیحدہ مقام ہے۔

پھر ہم یہ بھی کہتے ہیں : بالفرض اگر قرآن سے ان کی طہارت اوران سے نجاست کا دور ہونا ثابت ہو بھی جائے؛ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء مستجاب ہوتی ہے ؛ ایساہونا ہر حال میں لازمی ہے کہ اس کے ساتھ ہی وہ طہارت بھی حاصل ہو جائے جس کے لیے دعاء کی جارہی ہے اور ان سے ناپاکی اور پلیدی دور ہوجائے ؛تو اس میں خطاء سے عصمت کہاں سے لازم آئے گی؟

نیز اس کی دلیل کیا ہو گی کہ اہل بیت اور ازواج مطہرات کو جو احکام اس آیت میں دیے گئے ہیں ؛ ان میں ان میں سے کسی ایک سے سہو و خطا کا صدور نہیں ہوسکتا۔ ان سے ہر گز یہ مقصود نہیں کہ ان سے غلطی سرزد نہیں ہو گی۔بلکہ ان سے خطاء ہوسکتی ہے؛ لیکن ان کی اور دیگر کی خطاؤوں کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی معاف کردیا ہے۔

آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہتعالیٰ ان سے خبث و فواحش کو دور کرنا چاہتا ہے۔اور ان کو فواحش و منکرات اور دیگر گناہوں سے پاک کرنا چاہتا ہے۔

گناہوں سے پاکیزگی دوطرح سے ہوتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ ﴾ [المدثر ۴]

’’اور اپنے کپڑے پاک رکھیں ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَھَّرُوْنَ﴾ [ الأعراف۸۲]

’’ بیشک یہ لوگ بڑے پاک صاف رہنا چاہتے ہیں ۔‘‘

اورازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

﴿یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ﴾ [الأحزاب۳۰]

’’اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گا۔‘‘

گناہوں سے پاکیزگی دوطرح سے ہوسکتی ہے:

اول: ....یا تو انسان کسی گناہ کے کام کا ارتکاب ہی نہ کرے۔

دوم: ....یا پھر گناہ کے بعد اس سے توبہ کرلے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَ تُزَکِّیْہِمْ بِہَا ﴾ [التوبۃ ۱۰۳]

’’آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کر دیں ۔‘‘

لیکن جس چیزکا اللہ تعالیٰ نے ارادہ کرتے ہوئے ابتداء میں حکم دیا ہے؛ وہ فحاشی اور بے حیائی کے امور سے نہی و ممانعت کو شامل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فی الحال ایسے واقع ہوچکا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ ان امور سے منع کررہے ہیں ؛ اور جن سے کوئی حرکت سرزد ہوگئی ہے ؛ انہیں توبہ کرنے کا حکم دے رہے ہیں ۔

جیساکہ صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے:

((اَللّٰہُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَّ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ ط اَللّٰہُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَایَایَ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِن الدَّنَسط اَللّٰہُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خَطَایَایَ بِالْمَآئِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ)) (متفق علیہ)

’’اے اللہ دوری کردے درمیان میرے اور گناہوں کے جیسے دوری پیدا فرمائی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان ۔ اے اللہ ! مجھے صاف کردے میرے گناہوں سے جس طرح صاف کیا جاتا ہے سفید کپڑے کو میل کچیل سے ۔اے اللہ ! مجھے دھو دے میرے گناہوں سے برف اورپانی او ر اولوں سے ۔‘‘ [البخاری کتاب احادیث الانبیاء(ح:۳۳۶۹)،مسلم،کتاب الصلاۃ باب الصلاۃ علی النبی بعد التشہد (ح: ۴۰۷ )۔ِ وکتاب مواضِعِ الصلاِۃ، باب ما یقال بین تکبِیرۃِ الإِحرامِ والقِراِۃ، سننِ أبِی داود 1؍288 ؛ِکتاب الصلاِۃ، باب السنۃِ عِند الِافتِتاحِ، سننِ النسائِیِ 1؍45 ِکتاب الطہارۃِ، باب الوضوئِ بِالثلجِ، والحدیث فِی سنن ابن ماجہ والدارِمِیِ ومسندِ أحمد۔]

صحیحین میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ افک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی آپ کی برأت کا علم نہیں ہوا تھا؛اوراس معاملہ میں سخت بے چینی کا شکار تھے ؛ تو آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:

صفحہ 5 از 9