امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 4 از 9

دوسرا قول: أزواج مطہرات رضی اللہ عنہن اہل بیت میں سے ہیں ۔ یہی صحیح قول ہے۔ اس لیے کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعا سکھائی:

(( اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّا َزْوَاجِہٖ وَ ذُرِّیَاتِہٖ۔))

’’اے اللہ ! رحمتیں نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ کی ازواج پر اور آپ کی اولاد پر ۔‘‘

اس لیے بھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کا شمار آپ کے اہل بیت میں سے کیاگیا ہے ؛ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا شمار آپ کی آل اور اہل بیت میں سے کیاگیا ہے۔اس پر قرآن کی واضح دلالت موجود ہے ۔تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا شمار آپ کی آل اور اہل بیت میں کیوں نہیں ہوسکتا؟

آیت یہ بھی دلالت کرتی ہے کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کا شمار آپ کے اہل بیت میں سے ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر یہ سارا کلام بے معنی ہو کر رہ جاتا ۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے متقی بھی آپ کے اولیاء [دوست] ہیں ۔جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

’’ بیشک بنی فلاں میرے دوست نہیں ہیں ؛ بیشک میرا دوست اللہ تعالیٰ ہے او رنیکو کار اہل ایمان ہیں ۔‘‘[مسلم ۱؍۱۹۷] البخاری 8 ؛ ِکتاب الأدبِ، باب یبل الرحِم بِبِلاہا، و....عنہ عمرو بن عباس’’بِبیاض ـ لیسوا بأِولِیائِی، ِإنما ولِیِی اللہ وصالِح المؤمِنِین ۔‘‘ والحدیث فِی: مسلِم 1؍197؛ ِکتاب الإِیمانِ، باب موالاِۃ المؤمِنِین ومقاطعِۃ غیرِہِم۔۔المسند 4؍203۔]

اس حدیث میں آپ نے بیان کردیا ہے کہ آپ کے اولیاء اور دوست صالح و نیکو کار اہل ایمان ہیں ۔ ایسے ہی ایک دوسری حدیث میں آتاہے ؛آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ بیشک میرے دوست متقی لوگ ہیں و ہ جہاں بھی ہوں او رجیسے بھی ہوں ۔‘‘ [المسند۵؍۲۳۵] 

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَاِِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ فَاِِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلٰہُ وَجِبْرِیلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ [التحریم۴]

’’اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی پس یقیناً اس کا کار ساز اللہ ہے اور جبرائیل ہیں اور نیک ایماندار ۔‘‘

صحاح ستہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا ۔

’’ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟

آپ نے فرمایا: نہیں تم میرے اصحاب ہو‘ میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے دیکھا نہیں ہوگا۔‘‘[صحیح مسلم میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لائے اور فرمایا سلامتی ہو تم پر مومنوں کے گھر، ہم بھی ان شا اللہ تم سے ملنے والے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ ہم اپنے دینی بھائیوں کو دیکھیں ، صحابہ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی نہیں ہیں آپ نے فرمایا: تم تو میرے صحابہ ہو اور ہمارے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ان لوگوں کو اے اللہ کے رسول!کیسے پہچانیں گے جو ابھی تک نہیں آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا تم دیکھو اگر کسی شخص کی سفید پیشانی والے سفید پاؤں والے گھوڑے سیاہ گھوڑوں میں مل جائیں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو ان میں سے پہچان نہ لے گا صحابہ کرام نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ جب آئیں گے تو وضو کے اثر کی وجہ سے ان کے چہرے ہاتھ اور پاؤں چمکدار اور روشن ہوں گے اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا اور سنو بعض لوگ میرے حوض سے اس طرح دور کیے جائیں گے جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ دور کر دیا جاتا ہے میں ان کو پکارونگا ادھر آؤ‘ تو حکم ہوگا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد دین کو بدل دیا تھا‘ تب میں کہوں گا دور ہو جاؤ دور ہو جاؤ۔‘‘صحیح مسلم:ح: 584۔یہ صحاح ستہ کی روایت ہے۔ [الدراوی۔مزید حوالہ کے لیے دیکھیں :]مسلِم 1؍218 ِکتاب الطہارۃِ باب استِحبابِ إِطالۃِ الغرۃِ والتحجِیلِ فِی الوضوئِ۔ والحدیث فِی سننِ النسائِیِ 1؍79؛ ِکتابِ الطہارۃِ، بابِ حِلیۃِ الوضوء، سنن ابن ماجہ 2؍1439؛ ِکتابِ الزہدِ، بابِ ذِکرِ الحوضِ؛ الموطأ 1؍28 ؛ کتابِ الطہارۃِ، بابِ جامِعِ الوضوئِ، المسندِ۔ ط۔ المعارِفِ 15؍152، 18؍56 وجاء الحدیث فِی صحِیحِ الجامِعِ الصغِیرِ 6؍107 وقال السیوطِی ِإن الحدیث فِی مسندِ أحمد عن أنس رضِی اللّٰہ عنہ۔]

صفحہ 4 از 9