امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 3 از 9

اس کی مزید وضاحت اس سے ہوتی کہ زیر نظر آیت کے آغاز میں ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم کاذکر کیا گیا ہے۔ اور یہ کلام ان ہی کی طہارت کے واجب ہونے کے بارے میں ہے‘اور جو کوئی ایسا کرے گااس کے لیے اس فعل پر ثواب کا وعدہ ہے؛اوراس کے ترک پر سزا کا بیان ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفْ لَہَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرًاo وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًاo یٰنِسَآئَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآئِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاo وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًاo﴾ [الأحزاب۳۰۔۳۳]

’’اے نبی کی بیویو!تم میں سے جو بھی کھلی بے حیائی(کا ارتکاب)کرے گی اسے دوہرا دوہرا عذاب دیا جائے گااور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت ہی سہل(سی بات)ہے۔اور تم میں سے جو کوئی اللہ کی اور اسکے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر(بھی)دوہرا دیں گے اور اس کے لیے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے۔ اے نبی کی بیویو!تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو؛اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدہ کے مطابق کلام کرو۔اور اپنے گھروں میں قرار سے رہواور قدیم جاہلیت کے زمانے کی طرح اپنے بنا ؤکا اظہار نہ کرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰۃ دیتی رہو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت گزاری کرو اللہ چاہتا ہے :نبی کی گھر والیو!کہ وہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔‘‘

یہ پورا خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہے۔اس میں امر و نہی وعد ووعید سب چیزیں موجود ہیں ۔لیکن جب اس خطاب کے فائدہ [اورعموم حکم ] کی بات ہے تو یہ اہل بیت اور غیر اہل بیت تمام عورتوں کو شامل ہے۔اس لیے یہ خطاب ان الفاظ میں وارد ہوا ہے۔ بنا بریں یہ خطاب ازواج سے ہے۔ نجاست دور کرنے کا ارادہ اور تطہیر اہل بیت صرف ازواج ہی کے ساتھ مختص نہیں بلکہ سب اہل بیت اس میں شامل ہیں ۔ بلاشبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ و حسن و حسین رضی اللہ عنہما باقی اہل بیت کی نسبت اخص ہیں یہی وجہ ہے کہ دعا میں خصوصیت سے ان کاذکر کیا۔

یہ خطاب اللہ تعالیٰ کے اس قول کی مانندہے :

﴿ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ﴾ [التوبہ۱۰۸]

’’یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر رکھی گئی ۔‘‘

یہ آیت مسجد قباء کے بارے میں نازل ہوئی؛ مگر اس کا حکم مسجد قباء کے لیے بھی اور اس مسجد کے لیے بھی جو اس سے زیادہ اس حکم کی حق دار ہے یعنی مسجد نبوی شریف۔یہ توجیہ خودنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حدیث مبارک میں ثابت ہے ۔ آپ سے پوچھا گیا کہ: ’’ وہ مسجد کون سی ہے جو تقوی کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہے ؟ توآپ نے فرمایا: ’’ میری یہ مسجد۔‘‘[ترمذي ۴؍۳۴۴ ؛کِتاب تفسِیرِ القرآنِ، سورۃ التوبۃ حدیث رقم 5097۔ ؛ قال التِرمِذِی: ہذا حدیث حسن صحِیح، وقد روِی ہذا عن أبِی سعِید الخدرِی مِن غیرِ ہذا الوجہِ۔ والحدیث فِی سنن النسائِیِ 2؍30 ِکتاب المساجِدِ، باب ذکِرِ المسجِدِ الذِی أسِس علی التقوی، المسند 3؍8، 5؍116 ۔ ]

احادیث مبارکہ میں یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتہ کو پیدل یا سوار ہوکر مسجد قباء آیا کرتے تھے ۔ جمعہ اپنی مسجد میں پڑھایا کرتے تھے[اور وہاں قیام کرتے ]۔ اور ہفتہ کو مسجد قباء میں تشریف لاتے۔ [البخاری 2؍61؛ کتاب فضلِ الصلاِۃ فِی مسجِدِ مکۃ والمدِینِۃ، باب من أتی مسجِد قباء کل سبت، وجاء ذلِک ضِمن حدیث فِی البابِ الذِی قبلہ ؛ باب مسجِدِ قباء، 2؍60 والحدیث فِی مسلِم 2؍1017؛ ِکتاب الحج ، باب فضلِ مسجِدِ قباء۔]

ان دونوں مساجد کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ۔ ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات؛ حضرت علی؛ حضرت فاطمہ او رحضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہم یہ تمام لوگ اہل بیت میں سے ہیں ۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں حضرت علی؛ حضرت فاطمہ او رحضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہم ازواج کی نسبت زیادہ خاص ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ دعا میں بطور خاص ان کا ذکر کیا ہے۔

علماء کرام رحمہم اللہ کے مابین اختلاف ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کون لوگ مراد ہیں ؟ ایک جماعت کا عقیدہ ہے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے؛یہ امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ کاایک قول ہے۔

دوسرا قول : اس سے مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متقی لوگ مراد ہیں ۔اس کی تائید میں وہ یہ روایت پیش کرتے ہیں :

’’ہر متقی مؤمن آل محمد ہے ۔‘‘ [رواہ الخلال وتمّام فی ’’ الفوائد ‘‘]

امام احمد کے اصحاب میں سے ایک گروہ نے اس حدیث سے استدلال کیاہے۔ یہ حدیث موضوع ہے۔ اس روایت کو صوفیاء کی ایک جماعت نے اپنے نظریات وعقیدہ کی بنیاد بنایاہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ : آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد خاص اولیاء ہیں ۔ حکیم ترمذی نے ایسے ہی ذکر کیا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آل محمد سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت ہیں ۔ یہ قول امام شافعی رحمہ اللہ اورامام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے اور سید ابو جعفر رحمہ اللہ نے اسے ہی اختیار کیا ہے۔لیکن کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ کے اہل بیت میں سے ہیں ؟ اس بارے میں دو قول ہیں ؛ اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی دو روایتیں منقول ہیں ۔

پہلا قول: ازواج مطہرات اہل بیت میں سے نہیں ہیں ۔ زید بن ارقم سے ایسے ہی روایت کیاگیا ہے ۔

صفحہ 3 از 9