امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل: - ردِ رافضیت | دفاع…

امامت علی رضی اللہ عنہ کی پانچویں دلیل:

  امام ابن تیمیہ

صفحہ 2 از 9

﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا

’’ اے اہل بیت نبی اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی کو دور کرکے اچھی طرح پاک صاف بنا دے۔‘‘[صحیح مسلم۔ کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل اہل بیت النبی رضی اللّٰہ عنہم (حدیث:۲۴۲۴)]

سنن میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت زیادہ مشہور ہے۔[سنن ترمذی۔ کتاب المناقب۔ باب ما جاء فی فضل فاطمۃ رضی اللّٰہ عنہا (حدیث: ۳۸۷۱)۔]مگر اس میں عصمت و امامت کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کا مضمون دو جگہ پر پایا جاتا ہے:

پہلا مقام : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا

یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے :

﴿ مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ

’’اللہ تعالیٰ تمہیں کسی حرج میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے ۔‘‘

مندرجہ ذیل آیات بھی اسی قبیل سے ہیں :

۱....﴿ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ﴾ (البقرۃ:۱۸۵)

’’اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ کوئی تنگی نہیں کرنا چاہتا ۔‘‘

۲....﴿یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَ یَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ﴾ (النساء:۲۶)

’’اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے واسطے خوب کھول کر بیان کرے اور تمہیں تم سے پہلے کے (نیک) لوگوں کی راہ پر چلائے اور تمہاری توبہ قبول کرے اور اللہ تعالیٰ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘

۳....﴿وَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْکُمْ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّہَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا ﴾ (النساء:۲۷)

’’اور اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری توبہ قبول کرے اور جو لوگ خواہشات کے پیرو ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم اس سے بہت دور ہٹ جاؤ ۔‘‘

ان آیات میں ارادہ سے مراد محبت و رضا ہے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ایسا مشروع کیا ہے ‘ اور انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔اس میں کہیں بھی یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کچھ پیدا کردیاہے اور یہ مطلب بھی نہیں کہ اس نے یہ بات مقدر کردی ہے یا اسے ایجاد کردیا ہے۔اورنہ ہی یہ مقصد ہے کہ ہر حال میں ایسا ہوکر ہی رہے گا۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اللہ یہ میرے گھر والے ہیں تو ان سے نجاست کو دور کردے۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں یہ التجا کی ہے کہ ان سے نجاست کو دور کردے اورانہیں ہر طرح سے پاک کردے۔ اگر آیت کا مطلب ہوتا کہ اہل بیت کو پاک کیا جا چکا ہے تو دعا کی حاجت نہ تھی۔

[اراداہ الٰہی کی اقسام]:

فرقہ قدریہ ( منکرین تقدیر) کے قول کے مطابق یہ بات اور بھی واضح ہے۔ اس لیے کہ قدریہ کے نزدیک اللہ کے ارادہ کے لیے وجود مراد ضروری نہیں ۔ بلکہ بعض اوقات وہ ارادہ کرتا ہے اور وہ چیز وقوع میں نہیں آتی اور بعض دفعہ وہ چیز ظہور پذیر ہوتی ہے جس کا وہ ارادہ نہیں کرتا۔

یہ رافضی اور اس کے امثال قدریہ وہ اس آیت :﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ ﴾ سے کیسے اپنی مراد کے واقع ہونے پر پر استدلال کرتے ہیں ؟ کیا شیعہ اپنافاسد قانون بھی بھول گئے؟

ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا تھا کہ تمام اہل زمین ایمان لے آئیں ‘ مگر اللہ کا ارادہ پورا نہ ہوسکا۔

تقدیر کا اثبات کرنے والے [اہل سنت] کی رائے میں کتاب اللہ میں ارادہ کی دو قسمیں ہیں :

۱۔ ارادہ شرعیہ دینیہ: جو اللہ تعالیٰ کی محبت و رضا کو متضمن ہے جیسا کہ مذکورہ صدر آیات ہیں :

۲۔ ارادہ کونیہ قدریہ: یہ اللہ تعالیٰ کی خلق و تقدیر کو شامل ہے۔

ارادہ کی پہلی اقسام کی مثالیں جیسا کہ سابقہ آیات گزر چکیں ۔

دوسری قسم کی مثالیں :اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ اَنْ یَّہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآئِ ﴾ (الانعام:۱۲۵)

’’سو جس شخص کو اللہ تعالیٰ راستہ پر ڈالنا چاہے اس کے سینہ کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے جس کو گمراہ رکھنا چاہے اس کے سینے کو بہت تنگ کر دیتا ہے جیسے کوئی آسمان پر چڑھتا ہے۔‘‘

اورنوح علیہ السلام کا اپنی قوم سے فرمان ہے:

﴿وَ لَا یَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ ﴾ [ھود۳۴]

’’تمہیں میری خیر خواہی کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی، گو میں کتنی ہی تمہاری خیر خواہی کیوں نہ چاہوں ، بشرطیکہ اللہ کا ارادہ تمہیں گمراہ کرنے کا ہو ۔‘‘

بہت سارے مشبّہ اور قدریہ ارادہ کی صرف ایک ہی قسم شمار کرتے ہیں ۔جیسا کہ ارادہ اور محبت کو بھی ایک ہی چیز کہتے ہیں ۔ پھر قدریہ آیات تقدیر میں واضح ارادہ [بمعنی تقدیر ] کی نفی کرتے ہیں اور دوسرا گروہ ایک ارادہ بمعنی تشریع کی نفی کرتا ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ چیز جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہو کہ یہ مراد ہے تو اس مراد کا پورا ہونا ہر حال میں ضروری ہے۔

جب کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ مؤمنین کی توبہ قبول کرنا اور انہیں پاک کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن لوگوں میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو توبہ کرتے ہیں [تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتے ہیں ] اور کچھ لوگ توبہ نہیں کرتے۔ ان میں کچھ ایسے ہوتے ہیں جو پاک و صاف ہوجاتے ہیں اور کچھ پاک نہیں ہوتے۔

جب آیت دلالت کرتی ہے کہ ان[اہل بیت] کو پاک کرنے کا اور ان سے نجاست دور کرنے کا اللہ تعالیٰ کے ارادہ کا وقوع ہوا ہے ؛ تو اس سے یہ لازم نہیں آتا [انہیں فی الفور پاک کر بھی دیا گیا ہو] جیسا کہ مصنف کا دعوی ہے۔

صفحہ 2 از 9