حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل: -…

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 8

تیسری وجہ:....ہم پوچھتے ہیں کہ تمہارا دعوی یہ تھا کہ تم امامت کو قرآنی نصوص سے ثابت کروگے۔قرآن کے ظاہر میں اصل میں کوئی ایسی چیز موجود ہی نہیں ۔ جو آیت تم نے پیش کی تھی:

﴿ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ﴾ [المائدۃ ۶۷]

’’ کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔‘‘

یہ الفاظ تو عام ہیں ؛ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے ‘ اس سب کو شامل ہیں ۔کسی بھی متعین چیز کی اس میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔

مدعی کا یہ دعوی کہ امامت علی رضی اللہ عنہ بھی ان ہی امور میں سے ایک ہے جن کی تبلیغ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی؛ یا آپ کو اس کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیاتھا؛ محض قرآن سے ایسی کوئی چیز ثابت نہیں ہوسکی۔ اس لیے کہ قرآن میں ایسی کسی متعین چیز کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

اگر ایسی کوئی بات نقل سے ثابت ہوجائے تو حدیث یا خبر سے ثابت تصور ہوگی نہ کہ قرآن سے ۔ پس جو کوئی یہ دعوی کرتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت قرآن سے ثابت ہے ؛ اور آپ کو اس کی تبلیغ کا حکم بھی دیا گیا تھا؛ یقیناً ایسا انسان قرآن پر بہتان تراشی کرتا ہے۔ قرآن میں کوئی بھی عام یا خاص ایسی دلیل موجود نہیں ہے۔

چوتھی وجہ :....ان سے یہ کہا جائے گا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو احوال معلوم ہیں ؛ ان کی روشنی میں یہ آیت تمہارے دعوی کے الٹ پر دلالت کرتی ہے۔وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نہ ہی کوئی ایسا حکم نازل کیا ؛ اور نہ ہی اس کی تبلیغ کا حکم دیا۔اس لیے کہ اگر ایسی کوئی بھی چیز ہوتی جس کی تبلیغ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جاتا توآپ ضرور ایسا کرتے ؛اور لو گوں تک یہ بات پہنچاتے ۔ اس لیے کہ آپ کسی طرح بھی اللہ کی نافرمانی کرنے والے نہ تھے۔

یہی وجہ ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ جو کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں سے کوئی چیز چھپائی تھی تو اس نے جھوٹ بولا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ﴾ [المائدۃ ۶۷]

’’ اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی ۔‘‘

لیکن اہل علم بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی ۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ان کے پاس کئی ایک دلائل موجود ہیں ۔

٭ علم نقل کرنے والوں کی ایک جماعت موجود تھی؛ اور نقلِ علم کے دواعی و اسباب بھی پائے جاتے تھے۔ اگر اس روایت کی کوئی اصل ہوتی تو جیسے اس طرح کی دوسری روایات نقل کی گئی ہیں ؛ ایسے ہی یہ روایت بھی ضرور نقل کی جاتی۔ خصوصاً جب کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بہت ساری ایسی روایات بھی نقل کی گئی ہیں جن کی کوئی اصل ہی نہیں ۔تو پھر وہ حقانیت اور سچائی کیونکر نقل نہ کی جاتی جسے لوگوں تک پہنچادیا گیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا تھا کہ وہ جوبات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنیں اسے آگے لوگوں تک پہنچائیں ۔ امت کے لیے بھی کسی ایک علمی بات کا چھپانا ہرگز جائز نہ تھا جس کی تبلیغ کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہو۔

٭ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ اور بعض انصار نے مطالبہ کیا کہ ایک امیر ان میں سے ہو؛ اور ایک امیر مہاجرین میں سے ہو؛ تو اس بات پر انکار کیا گیا۔اور مہاجرین نے کہا کہ : امارت صرف قریش میں ہی ہوسکتی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کئی ایک متفرق مواقع پر ارشاد فرمائی گئی حدیث نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ امامت صرف قریش میں ہوگی۔‘‘[ذکرہ الألبانِی فِی ِإروائِ الغلِیلِ 2؍298 ؛ حدیث رقم 520 وقال: صحِیح، ورد مِن حدیثِ جماعۃ مِن الصحابۃِ مِنہم أنس بن مالکِ وعلِی بن أبِی طالِب وأبو برزۃ الأسلمِی،والحدیث عن أنس رضِی اللہ عنہ مطولاً فِی المسندِ3؍129 ؛ وأولہ: الأئِمۃ مِن قریش، ولہم علیکم حق ولکم مِثل ذلِک۔وصححہ الألبانِی، وقال فِی ِإروائِ الغلِیلِ إِن الطیالِسِی أخرجہ فِی مسندِہِ وابن عساکِر وأبو نعیم فِی الحِلیۃِ والبیہقِی فِی سننِہِ۔وأما حدیث علِی رضِی اللہ عنہ فأولہ: الأئِمۃ مِن قریش، أبرارہا أمراء أبرارِہا، وفجارہا أمراء فجارِہا۔ الحدیث، وقال السیوطِی: إِن البیہقِی والحاِکم أخرجاہ، وذکر الألبانِی إنہ فِی المستدرکِ،75۔76 وفِی المعجمِ الصغِیرِ لِلطبرانِیِ ص 85 وفِی مجمعِ الزوائِدِ 5؍192 وفِی غیرِ ذلِک، وہو صحِیح عِند الألبانِیِ أیضاً، وحدیث أبِی برزۃ فِی المسندِ 4؍421، 424 وذکرہ الألبانِی فِی السنۃِ لِابنِ أبِی عاصِم رقم 1009، 1029۔]

اس مجلس میں یا کسی بھی دیگر موقع پر کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ امامت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق ہے۔

مسلمانوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی؛ بیعت کرنے والوں میں اکثر لوگ بنو عبدمناف -بنو امیہ اور بنو ہاشم وغیرہم -سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا بڑا مضبوط میلان حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھاکہ آپ کوولایت کے لیے اختیار کیا جائے۔مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی یہ نص ذکر نہیں کی۔اور معاملہ ایسے ہی حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی رہا ۔ اورپھر آپ کے عہد میں جب آپ خلافت وامارت کے مرتبہ پر فائز ہوگئے توپھر بھی نہ ہی آپ نے ؛ نہ ہی اہل بیت میں سے کسی ایک نے؛ اور نہ ہی معروف صحابہ میں سے کسی ایک نے یہ نص ذکر کی ۔ یہ روایت اس کے بہت بعد میں سامنے آئی ۔

صفحہ 7 از 8