حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل: -…

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 8

ابو نعیم نے اپنی کتاب ’’ الحلیہ ‘‘میں فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم جمع کیے ہیں ۔ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مناقب پر ایک کتاب ہے ۔ ایسے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مناقب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب موجود ہیں ۔ ان میں صحیح روایات بھی ہیں ‘ ضعیف بھی ہیں ؛ بلکہ بعض منکر روایات بھی موجود ہیں ۔ ابو نعیم اپنی منقولات کا خوب علم رکھنے والے انسان تھے۔ لیکن آپ اور آپ کے امثال ہر طرح کی روایات جمع کرتے ہیں تاکہ یہ پتہ چل جائے کہ اس باب میں یہ روایت بھی موجود ہے۔اور لوگوں کو روایات کے موجود ہونے کاپتہ چل جائے۔ان کی مثال اس مفسر کی ہے جو تفسیر میں لوگوں کے اقوال نقل کرتا ہے ؛ اور فقیہ جو فقہ میں لوگوں کے اقوال ذکر کرتا ہے ؛ اورمصنف جو لوگوں کے دلائل ذکر کرتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو ان چیزوں کاپتہ چل جائے ۔ اگرچہ وہ ان میں سے بہت ساری چیزوں کے صحیح ہونے کا اعتقاد نہیں بھی رکھتا؛ بلکہ انہیں ضعیف سمجھتا ہے۔اس لیے کہ وہ خود کہتا ہے : میں نے وہی چیزیں ذکر کی ہیں جو میرے علاوہ دوسرے لوگوں نے نقل کی ہیں ۔اس کی ذمہ داری اس کے قائل پر ہوتی ہے نقل کرنے والے پر نہیں ۔

بہت ساری ایسی کتابیں جو کہ عبادات کے فضائل اور فضائل اوقات یا اس طرح کے دیگر عنوانات پر لکھی گئی ہیں ؛ ان میں بہت ساری ضعیف احادیث کو جمع کردیا گیا ہے ‘ بلکہ موضوع روایات تک موجود ہیں ۔اس پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ جیساکہ رجب کے روزوں کے بارے میں جو احادیث بیان کی جاتی ہیں اہل علم کے ہاں وہ تمام ضعیف ہی نہیں بلکہ جھوٹی ہیں ۔ایسے ہی صلاۃ رغائب جو رجب کے پہلے جمعہ کی رات کو پڑھی جاتی ہے او رنصف شعبان کا الفیہ اور فضائل عاشوراء محرم کے متعلق جو اہل و عیال کے اخراجات میں وسعت دینے کی روایت ہے؛ اور مصافحہ کے فضائل ؛ اور مہندی اورخضاب کے فضائل؛غسل وغیرہ کے فضائل ؛ عاشوراء کے دن کی نماز ۔ یہ تمام روایات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ ہیں ۔ عاشوراء کے روزہ کے علاوہ اس دن کی فضیلت کے بارے میں کوئی بھی صحیح روایت موجود نہیں ۔امام حرب الکرمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس روایت کے متعلق پوچھا کہ:جو کوئی عاشوراء کے دن اپنے اہل خانہ کے کھانے میں وسعت کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ سارے سال کے لیے اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتے ہیں ۔توآپ نے فرمایا : اس روایت کی کوئی اصل [بنیاد] ہی نہیں ہے۔‘‘

فضائل صحابہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے اصحاب کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں ؛ مثلاً : خیثمہ بن سلیمان طرابلسی وغیرہ ۔ خیثمہ ابو نعیم سے پہلے گزرے ہیں ۔ ابو نعیم ان سے ان کی اجازت سے نقل کرتے ہیں ۔ابو نعیم اور اس کے امثال کی عادت ہے کہ جو کچھ بھی اس باب میں موجود ہوتا ہے اور جو کچھ سنتے ہیں وہ تمام روایات نقل کردیتے ہیں ۔

لیکن تاریخ کی کتابوں میں انصاف سے کام لینے والے؛ جیسا کہ ابن عساکر کی تاریخ دمشق ؛ اور دوسری کتابیں ۔ ان میں سے کوئی ایک جب خلفائے اربعہ میں سے کسی ایک کے؛یا کسی دوسرے کے حالات زندگی بیان کرتے ہیں ؛تو وہ تمام چیزیں بیان کردیتے ہیں جو اس باب میں موجود ہوتی ہیں ۔ پس وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں وارد ان احادیث کو بیان کردیتے ہیں جنہیں اہل علم و فضل محدثین کرام جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے اور یہ جھوٹ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل صحیحین اور دوسری کتب احادیث میں ثابت ہیں ۔ جب کہ صحیح بخاری میں بطور خاص حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی کوئی فضیلت بیان نہیں ہوئی۔ لیکن آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین؛ غزوہ طائف اور غزوہ تبوک میں شریک ہوئے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج وداع بھی کیا؛ اور آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی بھی تحریر فرمایا کرتے تھے۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابت وحی پر امین بنایا تھا۔ جیسا کہ آپ نے اس امانت پر آپ کے علاوہ دوسرے صحابہ کی ذمہ داری بھی لگائی تھی۔

اگرشیعہ ہر حال میں ان کتابوں میں موجود تمام روایات قبول کرتے ہیں ؛توان کتابوں میں بہت ساری ایسی روایات بھی ہیں جو ان کے عقیدہ سے ٹکراؤ رکھتی ہیں ۔اور اگر تمام روایات کو رد کرتے ہیں تو پھرروایت کو محض ان کی طرف منسوب کرنے سے ہی ان سے استدلال کرنا باطل ٹھہرا۔ ور اگر موافق روایات کو قبول اور مخالف روایات کو رد کرتے ہیں تو ان کے مخالف کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہے کہ اس طرح کا کلام باطل ہے[اور ان کی مقبول روایات کو مسترد کردے۔ اوران کی رد کردہ روایات سے استناد کرے۔ لوگوں میں یہ بات عام طور سے رائج ہے کہ وہ مناقب و مثالب کے بارے میں ہر قسم کی روایات کو قبول کرلیتے ہیں ]۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسی روایات سے مذہب کی صحت پر استدلال کرنا ہر گزجائز نہیں ۔ اس لیے کہ اس سے کہا جاسکتا ہے کہ : اگر تم اپنے مذہب سے ہٹ کر اس حدیث کی صحت کو جانتے تھے ؛ تو پھر اپنے مذہب کے صحیح ہونے پر دلیل لاؤ۔ اور اگر تم اس بنا پر اس روایت کو صحیح سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے مذہب کے موافق ہے ؛ تو اپنے مذہب کی بنیاد پر روایت کو صحیح کہنا ممتنع ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں مذہب کا صحیح ہونا اس حدیث پر موقوف ہوگا اور حدیث کا صحیح ہونا مذہب پر موقوف ہوگا۔ اس سے دور لازم آئے گا۔ جب کہ دور کا لازم آنا ممتنع ہے۔

صفحہ 3 از 8