حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل: -…

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 8

جیسے : امام مالک،شعبہ، اوزاعی، لیث، سفیان بن عیینہ، سفیان ثوری،ذوالنون، حماد، ابن مبارک ، یحییٰ قطان، عبدالرحمن بن مہدی، وکیع ، ابن علیہ ، شافعی، عبد الرزاق، فریابی، ابو نعیم، قعنبی، حمیدی،ابو عبید، ابن المدینی، احمد، اسحاق،ابن معین، ابوبکربن ابی شیبہ، ذہلی،بخاری ، ابو زرعہ، ابو حاتم، ابو داود، مسلم ، موسیٰ بن ہارون، صالح جزرہ، نسائی، ابن خزیمہ، ابو احمد بن عدی۔ ابن حبان ، دارقطنی اور دیگر محدثین و ماہرین علم الرجال و جرح و تعدیل (رحمہم اللہ)۔ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اس کا شمار کیا جانا ممکن نہیں ۔ یہ لوگ رجال اور جرح و تعدیل کے ماہرین میں سے ہیں ۔ ان میں سے بھی بعض ایک دوسرے سے بڑھ کر عالم ہوا کرتے تھے۔ اور بعض کلام میں دوسروں کی نسبت زیادہ عادل اورحق پسند ہوا کرتے تھے۔ جیسا کہ باقی تمامعلوم میں لوگوں کی حالت ہوا کرتی ہے۔

معرفت رجال کے موضوع پر متعدد چھوٹی بڑی کتب تصنیف کی گئی ہیں ۔ چند ایک کتب کے نام حسب ذیل ہیں ۔

طبقات ابن سعد، تاریخ صغیربخاری، تاریخ کبیر بخاری، کتب یحیی ابن معین، اور احمد بن حنبل بروایت تلامذہ،اور ان سے قبل کتاب یحییٰ بن سعید القطان، کتاب علی بن مدینی، تاریخ یعقوب بن سفیان الفسوی، ابن ابی خیثمہ، ابن ابی حاتم، عقیلی، ابن عدی ،اور ابن حازم کی کتابیں ۔

ایسے ہی بہت ساری کتابیں مسانید کے طرز پر لکھی گئی ہیں جن میں مصنف اپنی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرتا ہے؛ جیسا کہ مسند أحمد بن حنبل؛ مسند طبرانی، مسند اسحاق ، مسند ابو داود الطیالسی، مسند ابو بکر ابن ابی شیبہ، مسند محمد بن ابی عمر العدنی، مسند ابن منیع، مسند ابو یعلی الموصلی ، مسندابوبکرالبزار البصری اور دوسرے لوگ۔

مندرجہ ذیل کتب حدیث فقہی ابواب کی ترتیب کے مطابق جمع کی گئی ہیں : صحیح بخاری، صحیح مسلم، ابن ابی خزیمہ ابن حبان وغیرہ اور ایسے ہی وہ کتابیں جو کہ صحیحین پر تخریج میں لکھی گئی ہیں جیسا کہ اسماعیلی اور برقی اور ابو نعیم وغیرہ کی کتابیں ۔ اور وہ کتابیں جن میں سنن کی تخریج کی ہے جیسے : سنن نسائی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ۔ اور بعض نے جامع احادیث ذکر کی ہیں جن میں فضائل اور دوسرے امور بھی آتے ہیں جیسے : جامع الترمذی۔ اور دیگر لا تعداد کتب حدیث جن کا ذکر طوالت کا موجب ہے۔یہ عظیم الشان علم باقی تمام اسلامی علوم میں عظمت ومنزلت رکھتاہے۔

خلاصہ کلام! اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ رافضی اس علم میں بہت ہی کم معرفت رکھتے ہیں تمام بدعتی اورگمراہ فرقوں میں اس علم میں رافضیوں سے بڑھ کر کوئی دوسرا جاہل نہیں ۔

باقی گمراہ فرقوں میں اس علم کے بارے میں کوتاہی پائی جاتی ہے؛ جیسے معتزلہ ؛مگر معتزلہ بھی خوارج سے زیادہ عالم ہوتے ہیں اور خوارج اپنی جہالت کے باوجود روافض سے زیادہ سچے ؛ ان سے بڑے عالم ؛ زیادہ دین دار؛ اورخوف ِالٰہی رکھنے والے ہوتے ہیں ۔ بلکہ یہ حقیقت ہے کہ خوارج جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔بلکہ وہ دیگر لوگوں کی نسبت زیادہ سچے ہوتے ہیں ۔

معتزلہ بھی باقی تمام فرقوں کی طرح ہیں ۔ ان میں سچے بھی ہیں اور جھوٹے بھی؛ لیکن ان میں حدیث اور علوم حدیث کا وہ اہتمام نہیں پایا جاتا جو کہ اہل سنت والجماعت کے ہاں پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ حدیث کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں ‘[ اس لیے انہیں معرفت حدیث کی ضرورت پڑتی ہے]۔تو ضرورت ہوتی ہے کہ سچائی کو پہچان سکیں ۔ جب کہ خوراج ایک دوسری راہ کے مسافر ہیں جسے انہوں نے خود ہی گھڑلیا ہے ‘ اور اسی پر ان کا اعتماد ہے [وہ نہ جھوٹی روایات سے احتجاج کرتے ہیں اور نہ ہی صحیح روایات سے۔ انھوں نے از خود کچھ قواعد گھڑ رکھے ہیں اور وہ انہی کو پیش نظر رکھتے ہیں ]۔ جس میں ان کے ہاں حدیث کاذکر تک نہیں پایا جاتا ؛ بلکہ وہ اپنے اصول میں قرآن تک کوذکر نہیں کرتے ۔ صرف اس سے تقویت حاصل کرنے کے لیے ؛ اعتماد کے لیے نہیں ۔

روافض کا یہ عالم ہے کہ عقل و نقل دونوں سے تہی دامن ہیں ۔ نہ ہی وہ کسی روایت کی اسناد دیکھتے ہیں اور نہ ہی باقی ساری شرعی اور عقلی دلیلوں کاخیال کرتے ہیں کہ کیا یہ ان کے موافق ہیں یامخالف۔یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں کو ئی بھی صحیح اور متصل سند نہیں پائی جاتی۔بلکہ ان کے ہاں جو بھی سند متصل ہوگی ؛ اس میں کوئی نہ کوئی راوی ضرور ایسا ہوگا جس پر جھوٹ بولنے کی تہمت ہوگی یہ پھر وہ کثرت کے ساتھ غلطیاں کرنے والا ہوگا۔

رافضی اس باب میں یہودیوں سے مشابہت رکھتے ہیں ۔ان کے ہاں بھی کوئی سند نہیں پائی جاتی۔جب کہ اسناد اس امت کی خصوصیات میں سے ہے۔ اور پھر اہل اسلام میں احادیث وآثار اور اسانید کی پہچان اہل سنت والجماعت کا خاصہ بن کر رہ گیا ہے۔ روافض کے نزدیک کسی حدیث کی صحت کی علامت یہ ہے کہ وہ اس کے افکار و معتقدات سے ہم آہنگ ہو، امام عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’ اہل علم موافق و مخالف سب احادیث لکھتے ہیں ، مگر مبتدعین وہی روایات لکھتے ہیں جن سے انکے نظریات کی تائید ہوتی ہو۔‘‘

پھر یہ کہ ان کے پہلے لوگ بہت زیادہ جھوٹ بولتے تھے۔ان کی روایات ان لوگوں تک منتقل ہوئیں جو صحیح اور سقیم کی معرفت سے عاری تھے۔پس ان کے بس میں صرف اتنا ہی تھا کہ یا تو تمام روایات کی تصدیق کریں اور یا پھر تمام روایات کی تکذیب کریں ۔اور غیر مستند اور منفصل دلائل سے استدلال کرتے رہیں ۔

ہم شیعہ سے پوچھتے ہیں کہ آیا تم نقاش و ثعلبی و ابو نعیم کی مرویات ہر حال میں قبول کرتے ہو، مخالف یا موافق ہوں ؟ یا مطلقاً ان کو ٹھکرا دیتے ہو؟ یا موافق روایات کو قبول کرتے اور مخالف کی تکذیب کرتے ہو؟

صفحہ 2 از 8