حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل: -…

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل:

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 8

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے اثبات میں دوسری دلیل:

اشکال:شیعہ مصنف لکھتا ہے:’’ امامت علی رضی اللہ عنہ (بلا فصل ) کی دوسری دلیل یہ آیت قرآنی ہے:

﴿یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ﴾ [المائدۃ ۶۷]

’’ اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجئے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کی رسالت ادا نہیں کی ۔‘‘

بالاتفاق یہ آیت کریمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ -جمہور میں سے-ابو نعیم اپنی سند سے ابن عطیہ سے روایت کرتے ہیں ‘ آپ بیان کرتے ہیں کہ یہ ’’ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔‘‘

تفسیر ثعلبی میں ہے:اس کا معنی یہ ہے کہ : ’’ آپ کے رب نے آپ پر جو کچھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بارے میں نازل کیا ہے ؛ اس کی تبلیغ کیجیے ۔ اس کے نزول کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:’’ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔‘‘’’ جس کا میں مولی ہوں ‘ علی بھی اس کا مولی ہے ۔‘‘

ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے اجماعاً مولیٰ تھے، بنا بریں حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے بھی مولیٰ ہوں گے ۔ لہٰذا وہی امام برحق ہوں گے۔

تفسیر ثعلبی میں ہے:’’سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خُمّ کے روز صحابہ کو پکارا جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:’’ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔‘‘

چنانچہ یہ بات جنگل کی آگ کی طرح مشہور ہو گئی، جب حارث بن نعمان فہری رضی اللہ عنہ نے آپ کا یہ ارشاد مبارک سنا تو اپنی اونٹنی پر سوار ہوکر مدینہ پہنچا۔ اپنااونٹ وادی میں بٹھایااور اس کو باندھ دیا؛پھروہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ آپ چند صحابہ رضی اللہ عنہم سمیت تشریف فرما تھے۔ اس نے کہا:

’’ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمیں دو شہادتوں کا حکم دیا؛ ہم نے آپ کی بات مان لی۔پھر آپ نہیں ہمیں پانچ نمازوں کا حکم دیا ؛ ہم نے آپ کی بات مان لی،پھر آپ نے ہمیں اپنے اموال سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا ؛ ہم نے آپ کی بات مان لی۔ اور آپ نے ہمیں حکم دیاکہ ماہ رمضان کے روزے رکھیں ؛ہم نے آپ کی بات مان لی؛آپ نے ہمیں بیت اللہ کا حج کرنے کا حکم دیا ؛ ہم نے آپ کی بات مان لی۔پھر آپ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے ۔اب آپ نے اپنے چچا زاد بھائی علی کا سر اونچا کردیا اور اس کو ہم پر فوقیت بخشی ہے،اور آپ نے فرمایا:’’ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔‘‘ کیا آپ اپنی طرف سے یہ کہہ رہے ہیں یا اللہکے حکم سے یہ بات کہہ رہے ہیں ؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اللہکی قسم! یہ اللہکا حکم ہے۔‘‘ چنانچہ حارث یہ کہتے ہوئے اپنی سواری کی طرف رخصت ہو گیا کہ:’’اے اللہ! اگر یہ بات تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسایا ہمیں درد ناک عذاب میں مبتلاکر۔‘‘

ابھی وہ منزل مقصود پر نہیں پہنچا تھا کہ ایک پتھر اس کے سر پر گر ااور دُبر سے نکل گیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ تب یہ آیت اتری:[اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ]:

﴿سَاَلَ سَآئِلٌ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ oلِّلْکٰفِرینَ لَیْسَ لَہٗ دَافِعٌ oمِّنَ اللّٰہِ﴾ [المعارج۱۔۳]

’’ ایک سوال کرنے والے نے اس عذاب کا سوال کیا جو واضح ہونے والا ہے۔کافروں پر، جسے کوئی ہٹانے والا نہیں ۔اللہ کی طرف سے ۔‘‘

نقاش نے بھی اپنی تفسیر میں یہ روایت بیان کی ہے۔(شیعہ مصنف کا بیان ختم ہوا)

جواب: اس کے جواب میں کئی نکات ہیں : 

پہلی وجہ : ہم کہتے ہیں کہ یہ دلیل پہلی دلیل سے بھی زیادہ جھوٹی ہے۔ہم آگے چل کر اس کی تفصیل بیان کریں گے ۔ ان شاء اللہ وتعالیٰ۔ رافضی کا یہ قول کہ یہ آیت بالاتفاق حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔‘‘

یہ بہت بڑا اورصریح کذب ہے جوکہ اس آیت کی تفسیر میں کہاگیاہے۔ بلکہ یہ بات کسی بھی ایسے عالم نے نہیں کہی جو تفسیر کو اچھی طرح جانتاہے ۔

باقی رہیں ابو نعیم، ثعلبی اور نقاش اورواحدی کی تصانیف تو محدثین کرام کا اتفاق ہے کہ ان کتب میں لا تعداد جھوٹی روایات موجود ہیں ۔اورثعلبی کی اس روایت کے بارے میں بھی محدثین کا اتفاق ہے کہ یہ موضوع اور جھوٹی روایت ہے۔ہم آگے چل کر دلائل کے ساتھ واضح کریں گے کہ یہ روایت جھوٹی ہے۔ اور ثعلبی کا شمار محدثین میں نہیں ہوتا۔

لیکن ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہاں پر ایک قاعدہ کی یاددلائی جائے۔ منقولات میں بہت ساری جھوٹی روایات بھی ہیں اور بہت ساری سچی روایات بھی ہیں ۔ احادیث و روایات میں [صحیح اور موضوع میں فرق ]کے بارے میں ان علماء پر اعتماد کیا جائے گا جو حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امین ہیں ۔ جس طرح نحوی مسائل میں علمائے نحو کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور قراء ت، لغت کے مسائل میں اہل لغت کی طرف اور طب کے مسائل میں ان علماء کی طرف رخ کیا جاتا ہے جو ان علوم میں ماہرانہ بصیرت رکھتے ہیں اس لیے کہ ’’لِکُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ۔‘‘’’ہر فن کے لیے اس کے اہل لوگ ہوتے ہیں ۔‘‘

[محدثین کرام اور ان کی خدمات جلیلہ]:

محدثین کرام بہت زیادہ قدر و منزلت رکھتے ہیں ۔ سب لوگوں کی نسبت حق و صداقت کے زیادہ طلبگار تھے ۔ ان کی منزلت باقی علماء سے بہت اونچی ہے؛اور ان میں دین داری زیادہ پائی جاتی ہے۔یہ لوگ سچائی اور امانت داری میں باقی سب لوگوں پر فائق ہیں ۔جرح وتعدیل کے بیان کرنے میں ان کا علم اورتجربہ بہت زیادہ ہے۔

[[جیسا کہ علم حدیث سے واقفیت رکھنے والے حضرات کلیۃً اس سے آگاہ ہیں ۔ چنانچہ جس روایت کو وہ بالاتفاق ضعیف یا لغو قرار دیں وہ ساقط عن الاحتجاج ہوگئی اور جس کی صحت پر متفق ہوں وہ صحیح ہوگی اور جس میں وہ مختلف الخیال ہوں اس میں عدل و انصاف کے تقاضا کے مطابق غورو فکر کیا جائے گا۔ محدثین کرام علم حدیث کا معیار و مدار ہیں ۔ شہرۂ آفاق محدثین حضرات کے اسماء گرامی حسب ذیل ہیں ]]:

صفحہ 1 از 8