امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 9 از 11

’’اے لوگو! مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا گیا ؛ میں نے کہا: میں اللہ کا رسول ہوں ؛ تم نے کہا : جھوٹ بولتے ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ سچ فرماتے ہیں ۔ کیا تم میرے دوست کو میری خاطر نہیں چھوڑو گے ۔‘‘ [البخاری ۵؍۵]

پھر موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کفار کو اسلام کی دعوت پہنچانے سے پہلے کی تھی؛ تاکہ آپ کو مددگار میسر آجائے۔اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مبعوث ہونے کے وقت سے اکیلے ہی لوگوں تک دین کی دعوت پہنچانی شروع کردی تھی۔اور باتفاق اہل علم سب سے پہلے جو لوگ ایمان لائے وہ چار ہیں :’’مردوں میں سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ؛ عورتوں میں سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ؛ بچوں میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ ؛ اور غلاموں میں سے حضرت زید رضی اللہ عنہ ۔

اس جماعت میں سے دعوت کے میدان میں سب سے نفع بخش ہستی بالاتفاق حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر ان کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ۔ اس لیے کہ آزاد مردوں میں بالاتفاق حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایمان لانے والے پہلے شخص تھے۔ اور اس کے ساتھ ہی آپ اپنی جان و مال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احسان کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ مگر اس کے باوجود رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ دعا نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کسی کے ذریعہ ان کی پشت کو مضبوط کردے ؛ نہ ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے یہ دعا کی اور نہ ہی کسی دوسرے کے لیے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت گزاری کرتے ہوئے ؛ اس پر توکل کرتے ہوئے صبر و استقامت کے ساتھ ویسے ہی اٹھ کھڑے ہوئے جیسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿قُمْ فَاَنذِرْ oوَرَبَّکَ فَکَبِّرْ oوَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ oوَالرُّجْزَ فَاہْجُرْ oوَلَا تَمْنُنْ تَسْتَکْثِرُ oوَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ ﴾ [المدثر ۲۔۷]

’’ اٹھیے کھڑے ہوجائیں ، پس ڈرائیے۔اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔اور اپنے کپڑے پس پاک رکھ۔

اورپلیدگی کو پس چھوڑ دیں ۔اور( اس نیت سے) احسان نہ کر کہ زیادہ حاصل کرے۔اور اپنے رب ہی کے لیے پس صبر کر ۔‘‘

اوراللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿فَاعْبُدْہُ وَ تَوَکَّلْ عَلَیْہِ ﴾ [ھود ۱۲۳]

’ پس آپ اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں ۔‘‘

جو انسان یہ خیال کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا کہ وہ لوگوں میں سے کسی شخص کے سبب سے آپ کی پشت مضبوط کردے ؛ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا کہ میرے بھائی ہارون علیہ السلام سے میری پشت کو مضبوط کردے؛ تو یقیناً اس انسان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کوتاہی کی؛ اور آپ پر اپنی طرف سے ایک بہتان گھڑ لیا۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رافضیت شرک و نفاق اور الحاد سے نکلی ہوئی ہے۔ کبھی ان سے اس الحاد کا اظہار ہو جاتا ہے اور کبھی مخفی و پوشیدہ رہتاہے۔

[موالات (دوستی)کی حقیقت]:

پندرھویں وجہ :....ان سے کہا جائے گا کہ: اہل ایمان پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی رکھنا واجب ہے۔ پس وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی دوستی رکھتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت و دوستی ہر ایمان والے انسان پر ایسے ہی واجب ہے جیسے دوسرے اہل ایمان کی محبت ودوستی اہل ایمان پر واجب ہے۔

اللہ تعالیٰ موالات کے بارے میں فرماتے ہیں :

﴿وَاِِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ فَاِِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلٰہُ وَجِبْرِیلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ﴾ [التحریم۴]

’’اور اگر تم نبی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی تو یقیناً اس کا کار ساز اللہ ہے اور جبرائیل اور نیک ایماندار ۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بھی صالح مومن ہو اللہ تعالیٰ، اور جبریل امین سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ہیں اور آپ ان کے مولیٰ ہے۔جب صالح مؤمنین آپ کے مولی ہیں ؛ اللہ تعالیٰ بھی آپ کا مولی ہے؛ جبریل امین بھی آپ کے مولی ہیں ؛ اس کا معنی یہ نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متولی و متصرف ہو نگے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَائُ بَعْضٍ﴾ (التوبۃ:۷۱)

مومن مرد اور عورتیں باہم ایک دوسرے کے مولیٰ ہیں ۔‘‘

آیت سے معلوم ہوا کہ ہر مومن و متقی اللہکا ولی اور اس کا دوست ہے۔ اس سے کہیں بھی یہ مراد نہیں نکلتی کہ یہ آپس میں ایک دوسرے پر امیر ہوں یا معصوم ہوں ؛ یا پھر اس مولی کے بغیر کوئی دوسرا متولی نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَ لَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ o الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ کَانُوْا یَتَّقُوْنَ﴾ [یونس ۶۲۔۶۳]

’’آگاہ رہوکہ اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوں سے)پرہیز رکھتے ہیں ۔‘‘

پس ہر ایمان والا مؤمن شخص اللہ کا دوست ہے اور اللہ اسے دوست رکھتاہے۔ جیسا کہ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا﴾ (البقرۃ:۲۴۷)

’’ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا دوست ہے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلَی لَہُمْ ﴾ [محمد ۱۱]

’’اس لیے کہ ایمان والوں کا کارساز خود اللہ تعالیٰ ہے اور اس لیے کہ کافروں کا کوئی کارساز نہیں ۔‘‘

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا ....وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ﴾ [الأنفال ۷۲۔۷۵]

’’ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناہ دی اور مدد کی ........اور رشتے ناطے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں اللہ کے حکم میں بیشک اللہ تعالیٰ ہرچیز کا جاننے والا ہے ۔‘‘

صفحہ 9 از 11