امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 8 از 11

﴿اِلَّا تَنْصُرُوْہُ فَقَدْ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذْ اَخْرَجَہُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَاتَخْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا﴾ [التوبۃ۴۰]

’’اگر تم ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد نہ کرو تو اللہ ہی نے ان کی مدد کی اس وقت جبکہ انہیں کافروں نے(دیس سے) نکال دیا تھا، دو میں سے دوسرا جبکہ وہ دونوں غار میں تھے جب یہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘

شروع اسلام میں انفاق سبیل اللہ اور دین کی اقامت کے لیے خرچ کرنا ایک سائل پر خرچ کرنے سے بہت زیادہ باعث عظمت [و اجر و ثواب] تھا۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! ، اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر دے تو ان کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘[ تخریج گزرچکی ہے]

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُوْلٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنْ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی﴾ [الحدید۱۰]

’’ تم میں سے جنہوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ(دوسروں کے) برابر نہیں بلکہ ان کے بہت بڑے درجے ہیں جنہوں نے فتح کے بعد خیراتیں دیں اور جہادکیا،ہاں بھلائی کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ان سب سے ہے ۔‘‘

جس وقت کفار نے آپ کو نکالا ؛ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی اس وقت آپ دو تھے ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔ اور غزوہ بدر کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جھونپڑہ یا خیمہ لگایا گیا؛ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اس خیمہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ داخل ہونے والے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت میں مبارک حصہ اور قابل صد شکر کوششیں ہیں ۔[اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے ]۔

یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ جب احد کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لیکر آئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیتے ہوئے کہا: ’’ اسے دھوڈالو؛ اس میں مذمت کی کوئی بات نہیں ‘ آج اس نے مجھے سچا کر دکھایا ہے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ’’ اگر تم نے یہ اچھائی اور نیکی کی ہے تو یقیناً فلاں اور فلاں اور فلاں نے بھی ایسی کارکردگی دیکھائی ہے ۔‘‘[تاریخ ابن کثیر ۴؍۴۷] 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے امثال وہمنوا صحابہ کوچھوڑ کر صرف آپ کی کوئی خصوصیت نہیں ہے ۔ اور نہ ہی کسی ایسے موقع کا علم ہوسکا ہے جہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باقی صحابہ کو چھوڑ کر صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدد کی ضرورت پڑی ہو۔نہ ہی زبانی کلامی مدد کی ضرورت پڑی اور نہ ہی جانی طور پر ۔

[ اہل اسلام پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض کا الزام]:

یہ ایک بدیہی بات ہے کہ لوگوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور آپ کی اطاعت شعاری صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے نہ تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو دعوت دی ہو؛ اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی اور خاص سبب تھا جیسے حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے مابین اسباب تھے۔ بخلاف ازیں بنی اسرائیل ہارون علیہ السلام کو بے حد چاہتے تھے اور موسیٰ علیہ السلام سے خائف و ہراساں رہتے تھے۔ ہارون علیہ السلام ان سے الفت و محبت کا سلوک روا رکھتے تھے۔

روافض کا دعویٰ ہے کہ اہل اسلام حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت نہ کی اور ان کے بارے میں جو نص تھی اس کو پوشیدہ رکھا۔ پھر یہ کہنا کیوں کر درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسی طرح محتاج تھے جس طرح موسیٰ ہارون کے ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لیجیے؛ ان کے دستِ حق پرست پر عشرہ مبشرہ میں سے چھ صحابہ نے اسلام قبول کیا تھا ؛ان صحابہ کے نام ہے ہیں :عثمان ،طلحہ،زبیر؛ سعد، عبدالرحمن بن عوف، ابوعبیدہ(رضی اللہ عنہم)۔

مگر ہمیں نہیں معلوم کہ سابقین اوّلین مہاجرین و انصار صحابہ میں سے کسی نے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پراسلام قبول کیا ہو۔حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سابقین صحابہ میں شامل ہیں ۔عقبہ کی رات جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ طیبہ روانہ فرمایا۔ان کے ہاتھ پرانصار کے سرداران جیسے حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ وہ انسان ہیں جن کی موت پر اللہ تعالیٰ کا عرش کانپ گیا تھا۔‘‘ [البخارِیِ5؍35؛ ِکتاب مناقِبِ الأنصارِ، باب مناقِبِ سعدِ بنِ معاذ رضِی اللہ عنہ ، والحدیث عن جابِر وأنسِ بنِ مالکِ رضِی اللّٰہ عنہما فِی: مسلِم 4؍1915 ؛ کتاب فضائِلِ الصحابۃِ، باب مِن فضائِلِ سعدِ بنِ معاذ رضِی اللہ عنہ ؛ سنن التِرمِذِیِ 5؍353 کتاب المناقب، باب مناقِبِ سعدِ بنِ معاذ، وقال التِرمِذِی: وفِی البابِ عن أسیدِ بنِ حضیر وأبِی سعِید رمیثۃ، والحدیث فِی سنن ابن ماجہ ومسندِ أحمد۔]

موسم حج میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلتے اور کفار کو اسلام کی دعوت دیتے ۔اور دعوت کے میدان میں آپ کی بہت بڑی مدد کرتے ۔بخلاف دوسرے لوگوں کے [انہیں شروع ایام ِاسلام میں یہ سعادت نصیب نہ ہوئی تھی]۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا:

’’اگر میں اہل زمین میں سے کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔‘‘[حوالہ گزرچکاہے]۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا:

صفحہ 8 از 11