امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 7 از 11

اگر میں اہل زمین سے کسی کو گہرا دوست بنانے والا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ البتہ اسلامی اخوت و مودّت کسی شخص کے ساتھ مختص نہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا کسی شخص کی کھڑکی مسجد کی جانب کھلی نہ رہے۔‘‘[اس کی تخریج گزرچکی ہے]

[صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1138 ۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وفات میں منبر پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ وہ دنیا اور اس کی تروتازگی کو اختیار کرلے یا اللہ کے پاس جو نعمتیں ہیں انہیں اختیار کرلے تو اس بندہ نے اللہ کے پاس والی نعمتوں کو اختیار کرلیا ۔یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔میں نے (]

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ تبوک کے موقع پر اللہ کی راہ میں ایک ہزار اونٹ صدقہ میں دیئے ۔حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ جو بھی کرے گا ‘ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘ [اپنے دل میں کہا: یہ بڈھا کیوں رو رہا ہے ؛ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندہ کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ نے اس کو دنیا کی تروتازگی اور اپنے پاس کے انعامات کے درمیان اختیار دیاہے-؛ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اختیار دیا گیا تھا -اس اشارہ کو حضرت ابوبکر سمجھ گئے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے بڑے عالم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’اے ابوبکر رضی اللہ عنہ !رونا نہیں ؛ اپنی رفاقت اور مال کے اعتبار سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہے اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل [دوست حقیقی] بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن اسلامی دوستی کافی ہے ۔دیکھومسجد میں سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دریچہ کے اور کوئی دریچہ کھلا ہوا باقی نہ رہے۔‘‘ [الترمذي ۵؍۲۸۹]؛یہ پوری حدیث اس طرح ہے: ’’حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک ہزار دینار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس راویت میں ہے:....’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دیناروں کو اپنی گود میں ہی الٹ پلٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کو کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچا سکے گا‘‘ تین مرتبہ یہی فرمایا۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔یہ حدیث حضرت عبدالرحمن بن خباب کی سند سے بھی مذکور ہے؛ جس میں ہے: ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ تبوک کے لیے تیاری کے متعلق ترغیب دیتے ہوئے دیکھا۔ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! سو اونٹ، پالان اور کجاوے وغیرہ سمیت میرے ذمے ہیں ؛ جو اللہ کی راہ کے لیے وقف ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ترغیب دی تو عثمان رضی اللہ عنہ دوبارہ کھڑے ہوئے میں دو سو اونٹ پالان اور کجاوے وغیرہ سمیت اپنے ذمے لیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ترغیب دی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسری مرتبہ کھڑے ہوئے اور تین سو اونٹ اپنے ذمے لیے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ:’’ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے یہ کہتے ہوئے نیچے تشریف لے آئے کہ آج کے بعد عثمان کچھ بھی کرے اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ آج کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کے کسی عمل پر اس کی پکڑ نہیں ہوگی۔‘‘ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔ محقق نے ان دونوں اسناد کو ضعیف کہا ہے۔]

ایسے ہی اسلام کے شروع کے ایام میں اقامت دین کے لیے جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا ؛ اس کی کوئی مثال باقی نہیں رہی ۔جب کہ سائل کو ضرورت کے وقت کچھ دے دینا ایسی نیکی ہے جو قیامت تک کے لیے باقی ہے ۔ جب اتنے عظیم الشان اور نفع بخش اور اہم ترین صدقات کے لیے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ایسی دعا نہیں فرمائی تو پھر ایک سائل کو انگوٹھی دینے کی وجہ سے ایسی دعا کرسکتے ہیں ؛ حالانکہ یہ احتمال بھی ہے کہ وہ سائل اپنے سوال میں جھوٹا ہو؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ روایت اور اس جیسی دوسری روایات ایک جاہل انسان کا من گھڑت جھوٹ ہے جس میں وہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی برابری کرنا چاہتا ہے ۔ [ابو بکر رضی اللہ عنہ کی شان میں ] اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقٰی oالَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی o وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰیo اِِلَّا ابْتِغَائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الْاَعْلٰی oوَلَسَوْفَ یَرْضٰی ﴾ [اللیل ۱۷۔۲۱]

’’ اور عنقریب اس سے وہ بڑا متقی دور رکھا جائے گا۔جو اپنامال دیتا ہے کہ پاک ہو جائے حالانکہ اس کے ہاں کسی کا کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیا جائے۔مگر اپنے اس رب کی رضا مندی طلب کرنے کے لیے (د یتا ہے)جو سب سے بلند ہے۔ اور یقیناً عنقریب وہ راضی ہو جائے گا ۔‘‘

[من گھڑت روایت کا پس پردہ محرک]:

[رافضی مصنف چاہتا ہے کہ ] اس طرح کے فضائل جناب حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے بھی ثابت کیے جائیں ۔ پس وہ ایسا نہیں کرسکا کہ شروع اسلام کے دنوں کے متعلق کوئی روایت گھڑ لیتا ؛ تو اس کی جگہ یہ روایت گھڑلی جسے صرف جاہل لوگوں میں پذیرائی حاصل ہوسکتی ہے۔ [جوحقائق جاننے والے لوگ ہیں وہ اس جھوٹ کو فوراً پکڑلیتے ہیں ]۔

نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مدینہ طیبہ ہجرت کرنے اور نصرت و مدد حاصل ہونے کے بعد یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ یہ دعا فرمائیں کہ اے اللہ ! میرے اہل خانہ میں سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو میرا وزیر بنا دے ؛ اور اس سے میری پشت کو مضبوط کردے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت سے اورپھر مؤمنین کے ذریعہ آپ کی مدد فرمائی ؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ہُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ﴾ [الأنفال۶۲]

’’[اللہ آپ کو کافی ہے] اسی نے اپنی مدد سے اور مومنوں سے آپ کی تائید کی ہے ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 7 از 11