امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 11

’’اے مؤمنو!تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ سے محبت رکھتی ہوگی وہ نرم دل ہونگے مسلمانوں پر سخت اور تیز ہونگے کفار پر، اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ بھی نہ کریں گے یہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل جسے چاہے دے، اللہ تعالیٰ وسعت اور زبردست علم والا ہے ۔‘‘

اس میں اللہ تعالیٰ نے مرتدین کا ذکر کیا ؛ او ریہ بھی بیان فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ہر گز کوئی نقصان نہیں دے سکتے ۔اور اللہ تعالیٰ ان کی جگہ ایک دوسری قوم کو لے آئے گا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمْ رٰکِعُوْنَ o وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴾ [المائدۃ ۵۵۔۵۶]

’’بیشک(مسلمانوں !)تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اسکا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃادا کرتے ہیں اور (خشوع و خضوع کیساتھ)رکوع کرنے والے ہیں ۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وہ یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی ۔‘‘

یہ کلام ان لوگوں کے احوال کو متضمن ہے جومنافقین میں سے اسلام میں داخل ہوئے۔ اور مرتدین کے حال کو بھی متضمن ہے ۔ اور ان لوگوں کے حال کو بھی شامل ہے جو ظاہری و باطنی طور پر اسلام و ایمان پر ثابت قدم رہے۔

اس سیاق پر جو بھی انسان غور و فکر کر ے گا ؛ اسے علم الیقین حاصل ہوجائے گا یہ آیت ان تمام مؤمنین کے لیے عام ہے جو ان صفات سے موصوف ہیں ۔کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں ۔نہ ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور نہ ہی عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہ ہی عثمان و علی رضی اللہ عنہما یا کسی دوسرے کے ساتھ۔ مگریہ حضرات سابقین اوّلین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان میں بالاولیٰ داخل ہیں ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اورمخالفین ....؟:

چودھویں وجہ :....جو شخص بھی اس روایت کے مذکورہ الفاظ میں غوروفکر کرے گا اس پر شیعہ مصنف کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دروغ گوئی واضح ہوجائے گی کہ’’ علی رضی اللہ عنہ تمام نیکوں کے قائدنہیں ؛بلکہ تمام نیکوں کے قائد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ایسے ہی آپ تمام کفار کے قاتل بھی نہیں ہیں ،بلکہ آپ نے کچھ کفار کو قتل کیا ہے ؛ جیسا کہ آپ کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی کچھ کفار کو قتل کیا ہے۔آپ بھی کفار کو قتل کرنے والے مجاہدین میں سے ایک تھے۔اور بعض کفار آپ نے ضرور قتل کیے ہیں ۔

ایسے ہی شیعہ کا قول کہ :’’ جو ان کی مدد کرے گا اس کی مدد کی جائے گی۔اور جو ان کو بے یارومددگار چھوڑے گاتو اسے بے یارومددگار چھوڑ دیاجائے گا۔‘‘

یہ خلاف واقع ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حق بات کے علاوہ کچھ بھی نہیں فرماتے؛ خصوصاً شیعہ کے قول کے مطابق ۔ اس لیے کہ شیعہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ پوری امت نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بے یار و مددگار چھوڑے رکھا ۔ [اور اگر شیعہ کی ذکر کردہ تفسیر صحیح ہوتی تو جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کاساتھ چھوڑا تھا اور ان کی مدد کا حق ادا نہیں کیا تھا وہ ذلیل و خوار ہو جاتے حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ وہ مظفر و منصور ہوئے اور انھوں نے بلاد فارس و روم اور قبط کو فتح کیا۔] یہ تاریخ کی مسلمہ حقیقت ہے کہ امت مسلمہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت تک ہر میدان میں کامیاب و کامران اور منصور رہی، ایسا غلبہ بعد میں کبھی حاصل نہیں ہوا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت کا شیرازہ بکھر گیا۔ ایک گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معاون تھا اور دوسرا مخالف۔ تیسرا گروہ بالکل غیر جانبدار تھا۔انہوں نے کسی بھی فریق کا ساتھ نہیں دیا۔ اور جن لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیا اور جنگیں لڑیں ۔ وہ دوسرے لوگوں پر حتی کہ کفار پر بھی غالب نہ آسکے۔ بلکہ دوسرے لوگ ہی ان پر غالب رہے۔ اور اس معاملہ کی ڈور ان کے ہاتھوں میں رہی۔ اس کے برعکس جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے تو مسلمانوں کو پھر سے کفار پر فتح نصیب ہوئی۔ انہوں نے علاقے فتح کرنا شروع کیے ۔ہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح خوارج پر منصور و کامیاب رہے ہیں ۔

اس کے برعکس وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے کفار اور مرتدین سے قتال کیا تھا؛ اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت فرمائی اور بہت بڑی کامیابی سے نوازا ۔ اور ایسے ہی نصرت نصیب ہوئی جیسے اللہ کا وعدہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ﴾ [غافر۵۱]

’’ یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے ۔‘‘

وہ قتال جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا؛ جومؤمنین نے آپ کے ساتھ مل کر کفار و[ منافقین] مرتدین اور خوارج سے کیا ؛ اس میں یقین تقوی وصبر کی وجہ سے کامیاب رہے او ربہت بڑی نصرت و فتح نصیب ہوئی۔اس لیے کہ تقوی اور صبر و بنیادی ایمانی عنصر ہیں جن کے ساتھ فتح و نصرت معلق رہتی ہے۔

ایسے ہی [شیعہ مصنف کی ذکر کردہ ]وہ دعا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا نگوٹھی صدقہ کرنے کے بعد کی اس کا جھوٹ ہونا صاف ظاہر ہے ۔یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ضرورت کے وقت کہیں بہت زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جس کا بہت بڑا فائدہ بھی حاصل ہوا؛ یہ صدقہ یقیناً انگوٹھی کے صدقہ کرنے سے بہت زیادہ تھا۔

صحیحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ مجھے کسی کے مال نے اتنا فائدہ نہیں دیا ؛ جتنا فائدہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مال نے دیا ہے ۔‘‘

’’میں سب لوگوں سے زیادہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال او ررفاقت کاممنون ہوں ۔‘‘

صفحہ 6 از 11