امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 11

دسویں بات:....مزید براں اکثر علماء کے نزدیک زکوٰۃ میں انگوٹھی کا دینا کافی نہیں ہے۔اس کی صرف یہ صورت ہوسکتی ہے جب زیور پر بھی زکوٰۃ کو فرض مان لیا جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیور کی اسی جنس سے زکوٰۃ نکالی جائے گی۔جن لوگوں نے اس کے بجائے قیمت ادا کرنے کو جائز کہا ہے تو ایسے چیزوں میں کوئی متعین قیمت مقرر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے کہ احوال کے اختلاف کی وجہ سے ان کی قیمتیں بھی بدلتی رہتی ہیں ۔

گیارھویں بات:....حقیقت یہ ہے کہ شیعہ مصنف کی ذکر کردہ آیت مندرجہ ذیل آیات کی مانند ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا ہے۔ اللہتعالیٰ فرماتے ہیں :

۱....﴿وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ﴾ (البقرۃ:۴۳)

’’اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔‘‘

یہاں پر رکوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

۲....﴿اُقْنُتِیْ لِرَبِّکِ وَاسْجُدِیْ وَارْکَعِیْ مَعَ الرَّاکِعِیْنَ﴾(آل عمران:۴۳)

’’ اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کر۔‘‘

یہ بھی کہا گیا ہے کہ : یہ ذکر ان الفاظ میں اس لیے کیا گیا ہے کہ وہ لوگ جماعت کے ساتھ نمازپڑھتے تھے۔ اس لیے کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے والا جب رکوع کو پالے تو اسے رکعت مل جاتی ہے؛ بخلاف اس کے جو صرف حالت سجدہ میں نمازکو پاتا ہے ؛ اور رکوع اس سے چھوٹ جاتا ہے۔ اس سے رکعت بھی رہ جاتی ہے۔قیام میں ادراک شرط نہیں ہے۔

خلاصہ کلام! یہاں پر واؤ یا تو حالیہ ہے ؛ یا پھر واؤ عطف کا ہے۔ اکثر علماء کرام اسے عطف کا مانتے ہیں ۔ اور ایسے مواقع پرخطاب میں معروف یہی ہے۔رافضی مصنف کا قول اس وقت صحیح ہوتا جب یہ واؤ حالیہ ہوتا۔ اگر اس کے تعین پر دلیل نہ ہو تو حجت باطل ہوجاتی ہے۔ تو اس وقت کیا عالم ہوگا جب دلا ئل اس کے خلاف ہوں ۔

بارھویں وجہ :....سلف وخلف تمام مفسرین کے ہاں یہ بات عام طور سے معروف ہے کہ زیر نظر آیت موالات کفار سے روکنے اور اہل اسلام کے ساتھ دوستانہ مراسم استوار کرنے کے سلسلہ میں نازل ہوئی۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاق کلام بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔نیزاس میں اہل ایمان کیساتھ دوستی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جبکہ بعض منافقین جیسے عبد اللہ بن ابی ابن سلول یہود سے دوستی رکھتا تھا اور کہتا تھا : میں گردش ایام سے ڈرتا ہوں ۔‘‘

اہل ایمان میں سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا : یارسول اللہ ! میں اللہ اور اس کے رسول سے دوستی کرتا ہوں ؛ میں ان کفار کے ساتھ اپنے اتحاد اور دوستی سے اللہ اور اس کے رسول کی جناب میں برأت کا اظہار کرتا ہوں ۔

یہی وجہ ہے کہ بنو قینقاع والے دن عبد اللہ بن ابی ابن سلول کی چالوں کی وجہ سے ان لوگوں پر وہ دن آگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔جس میں عمومی طور پر اہل ایمان کی محبت کو واجب کیا گیا تھا۔اور کفار کے ساتھ محبت اور دوستی سے منع کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین رحمہم اللہ کا کلام گزر چکا ہے کہ یہ آیت صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص نہیں ۔

[متنازعہ آیت کی صحیح تفسیر]:

تیرھویں وجہ :....غورکرنے والے کے لیے یہ بات واضح ہوسکتی ہے کہ ا س آیت کا سیاق ہمارے اس موقف پر دلالت کرتا ہے ۔ اس لیے کہ اللہتعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَ النَّصاٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ وَّ مَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴾ [المائدۃ۵۱]

’’اے ایمان والو!تم یہود و نصاری کو دوست نہ بنا ؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بیشک انہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔‘‘

اس آیت میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:

﴿فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌ فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عَنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِیْنَ o وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ اِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ﴾ [المائدۃ ۵۲۔۵۳]

’’ جن لوگوں کے دلوں میں کھوٹ ہے آپ دیکھتے ہیں کہ وہ بھاگ بھاگ کر ان( یہود ونصاریٰ) کی طرف جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ( ان کے ساتھ دوستی نہ لگانے کی صورت میں ) کسی مصیبت میں گرفتار ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اللہ تعالیٰ عنقریب ہی کسی فتح یا کسی اوربات کی بشارت سنائے گا، جس سے وہ ان باتوں پر نادم ہوں گے، جو انھوں نے اپنے جی میں پوشیدہ رکھی تھیں ۔اور ایماندار کہیں گے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے مبالغہ سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ ان کے اعمال غارت ہوئے اور یہ ناکام ہوگئے۔‘‘

یہ ان لوگوں کا وصف بیان کیا جارہا ہے جن کے دلوں میں بیماری ہے [نفاق کا مرض ہے]۔ جوکہ کفار اور منافقین سے دوستی رکھتے ہیں ۔ پھراس کے بعد فرمایا:

﴿ یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴾ [المائدۃ ۵۴]

صفحہ 5 از 11