امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 11

تیسری بات:....اس سے پوچھا جائے کہ :شیعہ مصنف نے اپنی تائید میں ثعلبی کا حوالہ دیا ہے، وہ مفسرین جن کی کتابوں سے یہ تفسیر نقل کی گئی ہے ؛ وہ ثعلبی سے زیادہ جانتے ہیں ۔انہوں نے اس کے برعکس نقل کیا ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ ثعلبی نے حضرت ابن عباس کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ یہ آیت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی۔‘‘

نیز ثعلبی نے عبد الملک سے نقل کیا ہے کہ میں نے ابوجعفر باقر سے اس آیت کی تفسیر پوچھی۔ تو انھوں نے فرمایا:’’ اس سے سب مومن مراد ہیں ۔‘‘ میں نے عرض کیا، بعض لوگ اس سے حضرت علی رضی اللہ عنہ مراد لیتے ہیں ۔

یہ سن کر امام باقر رحمہ اللہ نے فرمایا :’’ اہل ایمان میں علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ۔‘‘ ضحاک اورسدی سے بھی یہی مروی ہے۔

ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں اپنے والد سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں : ہم سے لیث کے کاتب ابو صالح نے بیان کیا ؛ وہ کہتا ہے ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا؛ ان سے علی بن ابی طلحہ نے بیان کیا ؛وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:’’ اہل ایمان سب مومن و مسلم اللہتعالیٰ اور اس کے رسول کے ولی ہیں ۔‘‘

نیز کہتے ہیں :ہم سے ابو سعید الاشج نے بیان کیا؛ وہ محاربی سے وہ عبدالملک بن ابو سلیمان سے روایت کرتے ہیں : کہا: میں نے ابو جعفر سے اس آیت کے متعلق پوچھا ؛ تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد تمام اہل ایمان ہیں ۔‘‘ میں نے کہا: یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ’ اہل ایمان میں علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ۔‘‘ امام سدی سے بھی ایسی روایت منقول ہے۔

چوتھی بات:....ہم شیعہ کے دعوائے اجماع کو معاف کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے دعویٰ کے اثبات میں ایک سند صحیح ہی پیش کریں ۔ ثعلبی سے ذکر کردہ روایت ضعیف ہے اور اس کے راوی متہم بالکذب ہیں ۔ باقی رہا فقیہ ابن المغازلی واسطی تووہ ضعیف سے بھی ضعیف تر ہے؛ اس کی کتاب اکاذیب کا پلندہ ہے۔ اس حقیت سے ہر وہ شخص آشنا ہے جو علم حدیث سے معمولی سی واقفیت بھی رکھتا ہے۔اور ہمارا صحیح سند کا مطالبہ ہردو کتابوں کو شامل ہے۔

پانچویں بات:....اگر آیت کا مطلب یہ قرار دیا جائے کہ حالت رکوع میں بھی زکوٰۃ ادا کی جائے ؛جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حالت نماز میں اپنی انگوٹھی صدقہ کی تھی؛ تو اس سے وجوباً موالات کی شرط ٹھہرے گی؛ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی مسلمان ولی نہیں بن سکے گا ۔ بنا بریں حسن و حسین رضی اللہ عنہما بھی موالات [دوستی]کے مستحق نہیں ہوں گے۔ اور نہ ہی باقی بنی ہاشم سے کوئی موالات و دوستی ہوگی ۔ یہ بات سب مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے۔

چھٹی بات:....اس آیت میں ﴿الذین﴾ جمع کا صیغہ ہے۔ لہٰذا فرد واحد حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کا مصداق نہیں ہو سکتے ۔

ساتویں بات:....علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعریف صرف کسی اچھے کام پر کی جاتی ہے۔وہ اچھا کام یا تو واجب ہوگا یا پھر مستحب۔ صدقہ ؛ غلام آزاد کرنا ؛ ہبہ ؛ ہدیہ ؛ اجارہ ؛ نکاح ؛ طلاق وغیرہ عقود کے معاملات نماز میں نہ ہی واجب ہیں اور نہ ہی مستحب ؛اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق و اجماع ہے ۔بلکہ اکثر علماء کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے نماز باطل ہوجائے گی اگرچہ وہ زبان سے بات نہ بھی کرے۔ بلکہ ایسے اشارہ سے بھی نماز باطل ہوجاتی ہے جس کا مفہوم سمجھا جا سکتا ہو۔علماء کرام کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ : ایسا کرنے سے شرعی ایجاب نہ ہونے کی بنا پر ملکیت حاصل نہیں ہوگی۔

ظاہر ہے کہ نماز میں یہ کام کرنا فعل محمود نہیں ہے، اگر یہ اچھا[مستحب] کام ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کرتے اور اس کی ترغیب دیتے۔ نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ بار بار یہ فعل سرانجام دیتے۔اصل میں یہ فعل نماز کے منافی ہے پھر یہ کہنا کس حد تک درست ہے کہ ولی وہی شخص ہوگا جو حالت رکوع میں صدقہ کرے۔

جب نماز میں کوئی ایسی بات مشروع نہیں ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں صدقہ کرنا اعمال صالحہ میں سے نہیں ہے اور سائل کو دینے کا موقع ختم نہیں ہوسکتا ؛ جب انسان نماز سے فارغ ہوجائے تب بھی وہ صدقہ کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نماز میں ایک طرح کا انہماک ہوتا ہے۔[اور اس میں حرکت یا فعل اس انہماک کے منافی ہے ]۔

آٹھویں بات:....اگر یہ بات مان لی جائے کہ نماز میں صدقہ دینا مشروع ہے ۔ تو پھر بھی رکوع کو اس کام کے لیے خاص نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ قیام یاقعود کی حالت میں ایسا کرنا زیادہ آسان تھا۔تو پھر کیسے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمہارا ولی وہی ہوسکتا ہے جو صرف رکوع کی حالت میں زکوٰۃ ادا کرے۔ تو کیا اگر کوئی حالت قیام یا قعود میں صدقہ کرے تووہ موالات اور دوستی کا مستحق نہیں ہوگا؟

٭ اگر [شیعہ]اس کے جواب میں یہ کہیں : اس سے مراد خصوصی طور پرحضرت علی رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کرنا ہے ۔

٭ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ: ’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اوصاف جن کی وجہ سے آپ مشہور ہیں ‘ وہ بہت زیادہ اور صاف ظاہر ہیں ۔ پھر معروف باتوں کو چھوڑ کر ایسی باتیں کیوں بیان کی جاتی ہیں جنہیں کوئی جانتا ہی نہ ہو؟

جمہور مسلمین نے یہ خبر نہیں سنی۔اور نہ ہی مسلمانوں کی کسی معتمد کتاب میں ایسی کوئی چیز پائی جاتی ہے ۔نہ ہی صحاح ستہ میں ؛ نہ ہی سنن میں ؛ نہ ہی جوامع اور معجمات میں اور نہ ہی امہات الکتب میں سے کسی ایک کتاب میں ایسی کوئی چیز پائی جاتی ہے ۔ تو اب دوباتوں میں سے ایک بات لازم آتی ہے :

۱۔ اگر اس سے مقصود وصف کی مدح کرنا ہے تویہ محال اور باطل ہے۔

۲ ۔ اور اگر اس سے مقصود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تعریف بیان کرنا تو بھی باطل ہے ۔

نویں بات:....اس سے کہا جائے گا کہ:﴿وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ﴾ تمہارے قول کے مطابق اس آیت کا تقاضا ہے کہ زکوٰۃ ادا کرنے والا رکوع کی حالت میں ہو۔ عہد رسالت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تنگ دست تھے اورزکوٰۃ ان پر فرض نہ تھی۔ چاندی کی زکوٰۃ اس شخص پر فرض ہوتی ہے جو نصاب کا مالک ہو اور اس پر ایک سال گزر جائے، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ صاحب نصاب نہ تھے۔

صفحہ 4 از 11