امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 11

اہل سنت والجماعت کسی چیز کے ثابت کرنے کے لیے یہ طریقہ نہیں اپناتے۔ نہ ہی کوئی فضیلت ثابت کرنے کے لیے اور نہ ہی حکم ثابت کرنے کے لیے۔اورنہ ہی دیگر کسی مسئلہ میں ۔ اورایسے ہی شیعہ [کو بھی کرنا چاہیے]۔

جب تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ صرف روایت کا موجود ہونا حجت نہیں ہوسکتا[جب تک کہ اس کی صحت ثابت نہ ہو جائے] بلکہ اس سے استدلال کرنا باطل ہے۔ ایسے ہی ہر وہ قول جسے ابو نعیم ؛ ثعلبی؛ نقاش؛ اور ابن مغازلی جیسے لوگوں کی طرف منسوب کیا جائے۔[وہ صرف روایت کے موجود ہونے کی وجہ سے حجت نہ ہوگا]۔

دوم :....شیعہ مصنف کا دعوی ہے کہ : ’’اس آیت کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہونے پر اجماع ہے ۔‘‘

[جواب]:....ہم کہتے ہیں : یہ سب سے بڑا جھوٹا دعوی ہے۔بلکہ اجماع اس بات پر منعقد ہوا ہے کہ یہ آیت خاص طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل نہیں ہوئی۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز کی حالت میں اپنی انگوٹھی بطور صدقہ نہیں پیش کی۔اور محدثین کرام کا اجماع ہے کہ شیعہ کی بیان کردہ روایت صاف جھوٹ ہے ۔ [اس آیت کی تفسیر میں علامہ طبری رحمہ اللہ نے پانچ آثار نقل کیے ہیں کہ اس آیت سے مقصود حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ؛ چنانچہ اثر نمبر12210میں امام سدی رحمہ اللہ سے منقول ہے؛ اس سے مراد تمام اہل ایمان ہیں ؛ لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے پاس سے ایک سائل گزرا۔ آپ مسجد میں رکوع کی حالت میں تھے۔ تو آپ نے اسے انگوٹھی عطا کی۔‘‘ اور اس کے بعد دوسرے اور تیسرے اثر میں ہے: بیشک یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی۔ اور بیشک آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایمان لائے ہیں ۔ اس اثر نمبر 1223پر استاذ احمد شاکر نے ان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہیں ضعیف کہا ہے۔ اور تیسرے اثر میں میں بھی ایک غالب بن عبیداللہ العقیلی الجزری نامی راوی ضعیف اور منکر الحدیث ہے۔لوگوں نے اس سے حدیث روایت کرنا ترک کردیا تھا۔[لسان المیزان ؛ التاریخ الکبیر ۴؍ ۱۰۱]]

جو کچھ اس نے ثعلبی کی تفسیر سے نقل کیا ہے ؛ محدثین کرام کا اجماع ہے کہ ثعلبی ایک گروہ سے موضوعات اور من گھڑت روایات نقل کرتا ہے۔جیسا کہ ہر سورت کے شروع میں اس نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے اس سورت کی فضیلت میں ایک روایت نقل کی ہے۔ ثعلبی اور اس کا تلمیذ واحدی دونوں اور ان کے امثال دوسرے مفسرین کا بھی یہی حال ہے؛وہ ’’حاطب لیل (رات کا لکڑہارا جو خشک و تر میں تمیز کیے بغیر ہر قسم کی لکڑیاں جمع کرتا ہے) تھے ۔ہر صحیح وضعیف [بلکہ موضوع ]روایات تک نقل کرتے تھے۔[ علاوہ ازیں شیعہ مصنف کے ذکر کردہ دلائل سب باطل ہیں اور وہی شخص ان کو تسلیم کر سکتا ہے جو گونگا، بہرہ، صاحب ہویٰ و ضلالت ہو اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو قبول حق سے اندھا کردیا ہو]۔ اس لیے کہ علامہ بغوی رحمہ اللہ حدیث کے بڑے عالم تھے؛ ثعلبی اور واحدی سے بڑھ کر[حدیث کا] علم رکھتے تھے۔آپ کی تفسیر ثعلبی کی تفسیر سے مختصرکی گئی ہے۔آپ نے اپنی تفسیر میں ان موضوع احادیث میں سے کوئی بھی روایت نقل نہیں کی جو کہ ثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہیں ۔اور نہ ہی اہل بدعت کی تفسیر نقل کی؛جیسے کہ ثعلبی نے نقل کی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ثعلبی میں خیر اوردین داری ہے ؛لیکن صحیح اور ضعیف احادیث کے بارے میں آپ کی معلومات بہت کمزور ہیں ۔اور بہت سارے اقوال میں سنت اور بدعت میں تمیز نہیں کرپاتا۔ جبکہ بڑے اور مشہور اہل علم مفسرین جیسے : محمد بن جریر الطبری ؛ بقی بن مخلد ؛ ابن ابی حاتم ؛ ابن المنذر ؛ عبد الرحمن بن ابراہیم دحیم اور ان کے امثال نے اپنی تفاسیر میں ان موضوع روایات میں سے کوئی بھی روایت نقل نہیں کی۔

جو ان سے بڑے علماء ہیں مثلاً تفسیر احمد بن حنبل؛ اسحاق بن راہویہ ؛ اور دوسرے علماء ؛ ان کی تو بات ہی چھوڑیے۔ بلکہ ایسی روایات تو عبد بن حمید اور عبدالرزاق کے ہاں بھی نہیں ملتیں ۔ حالانکہ عبدالرزاق شیعیت کی طرف میلان رکھتا تھا۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل میں بہت ساری روایات نقل کیا کرتا تھا اگرچہ وہ ضعیف ہی کیوں نہ ہوں ۔ لیکن اس کا مقام و مرتبہ اس سے بہت بلند ہے کہ وہ اس جیسا کھلا ہوا جھوٹ روایت کرے۔

اہل علم محدثین کا اجماع ہے کہ کسی فرد واحد کے مجرد روایت کرنے سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی جنس سے ثعلبی ؛ واحدی اور نقاش اوران جیسے دوسرے لوگ بھی تعلق رکھتے ہیں ۔کیونکہ یہ لوگ اپنی تفاسیر میں اکثر وہ احادیث روایت کرتے ہیں جو کہ ضعیف ہی نہیں بلکہ موضوع ہوتی ہیں ۔ اگر ہمیں چند دوسری وجوہات کی بنا پر بھی ان لوگوں کا جھوٹا ہونا معلوم نہ ہوتا تو پھر بھی ان کی روایات پراس لیے اعتماد کرنا جائز نہ ہوتا کہ انہیں ثعلبی اور اس کے امثال نے روایت کیا ہے۔توپھر جب ہمیں اس جھوٹ کا پتہ بھی ہے تو ان روایات پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے ؟

ہم ان شاء اللہ وہ دلائل ذکر کریں گے جن سے ان کا جھوٹ عقلاً و نقلاً کھل کر سامنے آجائے گا۔ یہاں پر صرف اس مصنف کی افترا پردازی اور کثرت جہالت کا بیان کرنا ہمارا مقصد ہے۔ کیونکہ اس کا دعوی ہے کہ : ’’اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔‘‘ صد افسوس کہ اس بیچارے کو یہ بھی علم ہوتا کہ اہل علم میں سے جو لوگ ایسے امور میں اجماع کے حقائق کا علم رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کس نے یہ اجماع نقل کیا ہے ؟ اس لیے کہ ایسے امور میں غیر اہل علم کا نقل کردہ اجماع ہر گز قبول نہیں ہوتا۔اور پھر اس میں اجماع بھی نہیں ‘ بلکہ اختلاف ہے۔

اس لیے کہ متکلم ؛ مفسر اور مؤرخ جب بلا سند کوئی روایت نقل کرکے کسی معاملے کا دعوی کریں تو ان کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔تو پھر جب وہ اجماع کا دعوی کرے تو کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے ؟

صفحہ 3 از 11