امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 11

’’ کیا وہ جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے؛وہ پھر اسے لوٹائے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزی دے رہا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ ۔‘‘

سچے کو اپنی سچائی پر دلیل و برہان چاہیے۔اور دو ٹوک سچائی وہی ہے جس کے متعلق معلوم ہو کہ یہ سچ ہے۔

اس رافضی مصنف نے جتنی بھی حجتیں پیش کی ہیں ‘ ان میں جھوٹ ہے۔ اس کے بس میں نہیں کہ اپنے تمام مقدمات پر ایک بھی سچی حجت پیش کرسکے۔ کیونکہ سچے مقدمات کے لیے ممکن نہیں ہے کہ ان کی بنیاد جھوٹ اور باطل پر رکھی جائے۔ ہم ان شاء اللہ اس کی ایک ایک بات کا تارو پود کھول کر رکھ دیں گے جس سے اس کا جھوٹ بالکل واضح ہوجائے گا۔ ایسی حجتوں کو براہین کا نام دینا بذات خود بہت بڑا اور انتہائی برا جھوٹ ہے ۔

یہ رافضی مصنف قرآن کی تفسیر میں بعض لوگوں سے نقل کیے گئے اقوال پر اعتماد کرتا ہے۔حالانکہ بسا اوقات اس میں بھی راوی پر جھوٹ گھڑلیا گیا ہوتا ہے۔ اور اگر سچ بھی ہوتو بہت سارے علمائے کرام رحمہم اللہ نے اس کی مخالفت کرکے اس نظریہ یا تفسیر کو رد کیا ہوتا ہے۔اگر کہیں پر واحدی کاقول نقل کیا گیا ہے توواحدی کی صداقت خود مجہول ہے ؛ نیز بہت سارے علمائے کرام رحمہم اللہ نے دلائل و براہین کی روشنی میں اس کے خلاف حق کو بھی بیان کیا ہوتاہے۔ اس لیے کہ واحدی کے اقوال کے خلاف اسی جنس کے بہت سارے اقوال ہیں جو اس کے متناقض ہیں ۔ جب براہین کا تعارض اقوال سے ہوجائے تو اقوال متناقض شمار ہوتے ہیں جب کے اقوال کے مقابلہ میں براہین متعارض نہیں ہوسکتیں ۔

بلکہ ہم ان شاء اللہ اس رافضی کی نام نہاد براہین کے خلاف حقیقی براہین قائم کریں گے جن کا آپس میں کوئی تعارض بھی نہیں ہوگا۔ رافضی کے اکثر اقوال میں جھوٹ بالکل ظاہر ہوتا ہے۔ یہ جھوٹ صرف ان لوگوں پر مخفی رہ سکتا ہے جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے اندھا کردیا ہو۔ [اورواضح کریں گے کہ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی براہین برحق ہیں اور بیشک قرآن بھی حق ہے۔ اور یہ کہ دین اسلام حق ہے ۔ یہ ان تمام چیزوں سے متناقض ہیں جنہیں رافضی نے براہین کا نام دیا ہے۔ اگر عقلمند انسان کچھ دیر کے لیے غور کرے گا تو اس پر واضح ہوجائے گا کہ رافضی مصنف جن دلائل کو براہین کا نام دیتا ہے اس کے لوازم سے ایمان و قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قدح وارد ہوتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ رافضیت کی اصل بنیاد کچھ زندیق لوگوں کے ہاتھوں پر اٹھائی گئی ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ؛ قرآن پر اور دین اسلام پر اعتراضات اور قدح کی جائے۔ اس غرض کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے ایسی روایات گھڑلیں جن کو سچا ماننے سے دین اسلام پر طعن لازم آتا ہے ۔پھر انہوں نے اپنی وضع کردہ روایات کو لوگوں میں عام اور مشہور کردیا۔ لوگوں میں جاہل بھی تھے اور ہویٰ پرست بھی۔انہوں نے اپنی ہویٰ پرستی کی وجہ سے ان حکایات و روایات کو قبول کرلیا ؛ مگر یہ نہ دیکھا کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ ان میں سے بعض اہل نظر لوگ بھی تھے جنہوں نے ان میں غور وفکر کیا تو پتہ چلا کہ یہ روایات دین اسلام کی حقانیت پر قدح کرتی ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے ان روایات کے موجب عقیدہ اپنا لیا اور دین اسلام پر قدح کرنے لگے۔ اس کی وجہ شروع سے ہی ان کے دین و اعتقاد کی خرابی تھی۔ یا پھر اس کا یہ اعتقاد تھا کہ یہ روایات صحیح ہیں ؛ اور جوکچھ وہ دین اسلام کا عقیدہ رکھتا تھا اس پر قدح وارد ہوتی تھی۔ [لہٰذا اس نے ان روایات کو قبول کرلیا]۔

[اسماعیلیہ اور نصیریہ کی گمراہی کی وجہ]:

یہی وجہ ہے کہ اکثر زنادقہ اسلام میں شیعیت کے دروازہ سے داخل ہوئے، اور ان اکاذیب کے بل بوتے پر اسلام کو مطعون کرنا شروع کیا۔وہ جہلاء ان مکذوبات کی بنا پر شبہات کا شکار ہو گئے جنہیں یہ علم نہ تھا کہ یہ روایات جھوٹی ہیں ؛ بس انہیں صرف اتنا پتہ تھا کہ دین اسلام ایک سچا مذہب ہے۔

فرقہ ہائے اسماعیلیہ و نصیریہ بھی اسی وجہ سے گمراہ ہوئے۔ جھوٹی اور من گھڑت روایات قرآن کی تفسیر اور حدیث کی شرح میں پیش کرتے ہوئے شیعہ کی روایت کردہ اکاذیب پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ چنانچہ انھوں نے سب سے پہلے آل محمد پر اظہار رحم و کرم کا آغاز کیا، پھر صحابہ پر نقد وجرح اور گالی گلوچ کا بیڑا اٹھایا۔ بعد ازاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدف ملامت بنایا، کیوں کہ آپ یہ سب باتیں سن کر خاموش رہے تھے، پھر رسول علیہ السلام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اللہکی تردید و تکذیب پر اتر آئے۔ جیسا کہ صاحب البلاغ الاکبر نے اس ترتیب پر روشنی ڈالی ہے۔ جیسا کہ عبیدی ائمہ کی بنیاد رافضیوں کے من گھڑت واقعات پر ہے ؛ تاکہ اس طرح سے گمراہ شیعہ لوگوں کو اپنا شکار کرسکیں ۔ پھر اس کے بعد صحابہ کرام میں طعن کرنا شروع کرتے ہیں ؛ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں قدح کرتے ہیں ‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں اور پھر الٰہیات میں طعنہ زنی کرتے ہیں جیسا کہ ’’البلاغ الاکبر اور الناموس الاعظم ‘‘ کے مصنف نے ان کے لیے درجات مقرر کیے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ رافضیت کفرو الحاد کا رئیسی دروازہ اور دھلیز شمار ہوتی ہے۔

دوسری بات:....ہم کہتے ہیں : اس آیت کے جواب میں کئی امور ہیں :

اوّل :....ہم اس روایت کی صحت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔سب سے پہلے حدیث کو اس انداز میں پیش کیاجائے جس سے حجت قائم ہوسکتی ہو۔ کیونکہ صرف تفسیر ثعلبی کی طرف منسوب کرلینا؛ یا ان لوگوں سے اجماع نقل کرنا جو منقولات کا علم ہی نہیں رکھتے ؛ اگرچہ وہ نقل کرنے میں سچے بھی ہوں ؛ اہل علم کے ہاں بالاجماع یہ حجت نہیں ہوسکتا ۔ اگراس کی اسناد کی معرفت ثابت نہ ہو۔

ایسے ہی جب ثعلبی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں کوئی روایت نقل کرے ؛ تو صرف اس روایت کے موجود ہونے کی وجہ سے اس فضیلت کے ثابت ہونے کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں ۔ اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔

صفحہ 2 از 11