امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 11 از 11

انیسویں وجہ:....جس پر بھی کوئی عادل امام حاکم بن جائے اس کے لیے لازمی نہیں ہے کہ اللہ کی جماعت میں سے ہو ‘ اور ہمیشہ غالب ہی رہے۔بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ عادل حکمران کفار اور منافقین پر بھی حکومت کرتے ہیں ۔مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت منافق اورذمی بھی رہتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حکمرانی میں کفار بھی تھے اور منافقین بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ﴾ [المائدۃ ۵۶]

’’اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے، وہ یقین مانے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی ۔‘‘

اگر یہاں پر مرادامارت یا حکومت ہوتی تو پھر معنی یہ ہوتا کہ جو کوئی بھی اہل ایمان پر والی بن جائے ؛ وہ اللہ کی غالب آنے والی جماعت میں سے ہوگا۔ ایسا نہیں ہے ۔اس لیے کہ کفار اور منافقین اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قضاء و قدر کے ماتحت ہیں ‘حالانکہ اللہ تعالیٰ کفار سے دوستی نہیں کرتا ؛ بلکہ ان سے نفرت کرتا ہے۔



صفحہ 11 از 11