امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما…

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پہلی دلیل: ﴿انما ولیکم اللہ و رسولہ و الذین امنوا﴾ اور اس پر رد

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 1 از 11

امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل 

پہلی دلیل: ﴿اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا﴾ اور اس پر ردّ: 

[اشکال]:شیعہ مصنف امامت علی رضی اللہ عنہ پر قرآنی دلائل پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے : ’’ دوسرا منہج : قرآن سے مأخوذ دلائل اور براہین جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت پر دلالت کرتی ہیں ‘بہت کثرت کے ساتھ ہیں ۔‘‘ 

اوّل:....اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمْ رٰکِعُوْنَ ﴾ [المائدۃ ۵۵]

’’بیشک تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اسکا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور(خشوع و خضوع کیساتھ) رکوع کرنے والے ہیں ۔‘‘

علماء کا اجماع اس بات پر منعقد ہو چکا ہے کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ ثعلبی اپنی اسناد سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ :’’میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ان دوکانوں کے ساتھ سنا اور اگر نہ سنا ہو تو یہ بہرے ہو جائیں ۔ اور میں نے اپنی ان دو آنکھوں سے دیکھا ؛اگرنہ دیکھا ہو تو میری دونوں آنکھیں اندھی ہو جائیں ؛ فرماتے تھے:’’ علی رضی اللہ عنہ نیکوں کے قائد اور کفار کے قاتل ہیں ، جو ان کی مدد کرے گا اس کی مدد کی جائے گی، اور جو ان کو بے یارومددگار چھوڑے گاتو اسے بے یارومددگار چھوڑ دیاجائے گا۔‘‘

میں نے ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی ۔ اتنے میں ایک سائل نے آکر سوال کیا مگر کسی نے اسے کچھ بھی نہ دیا، اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا:’’ اے اللہ! تو گواہ رہ کہ میں نے تیرے نبی کی مسجد میں سوال کیا اور مجھے کچھ بھی نہیں دیا گیا ۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ رکوع کی حالت میں تھے آپ نے حالت رکوع میں اپنی چھوٹی انگلی کی جانب اشارہ کیا ؛ آپ نے اس میں انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ سائل نے آگے بڑھ کر آپ کی انگوٹھی اتار لی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ماجرا دیکھ رہے تھے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آسمان کی جانب سر اٹھا کر کہا:اے اللہ! موسیٰ علیہ السلام نے تجھ سے سوال کیا تھا:

﴿قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْo وَ یَسِّرْلِیْ ٓاَمْرِیْo وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْo یَفْقَہُوْا قَوْلِیْo وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَہْلِیْo ھٰرُوْنَ اَخِیo اشْدُدْ بِہٖٓ اَزْرِیْo وَ اَشْرِکْہُ فِیْٓ اَمْرِیْ﴾ [طہ ۲۵۔ ۳۲]

’’ اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔اور میرے لیے میرا کام آسان کر دے۔اور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھ لیں ۔اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک بوجھ بٹانے والا بنا دے۔ہارون کو، جو میرا بھائی ہے۔اس کے ساتھ میری پشت مضبوط کر دے۔اور اسے میرے کام میں شریک کر دے ۔‘‘

ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

﴿قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ وَ نَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا بِاٰیٰتِنَآ﴾ [القصص ۳۵]

’’ فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کر دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے ۔‘‘

آپ نے دعا کی : اے اللہ! میں محمد ہوں تیرا نبی اور تیرا برگزیدہ؛ اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے۔اور میرے لیے میرا کام آسان کر دے۔اور میری زبان کی گرہ کھول دے کہ وہ میری بات سمجھ لیں ۔اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک بوجھ اٹھانے والا بنا دے یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو؛اوراس کے ساتھ میری پشت مضبوط کر دے۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ اپنی گفتگو ختم نہ کر پائے تھے کہ جبرائیل مذکورہ بالا آیت لے کر حاضر ہوئے ۔ [اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ]:

﴿اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمْ رٰکِعُوْنَ ﴾ [المائدۃ ۵۵] 

’’بیشک تمہارا دوست خود اللہ ہے اور اسکا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور رکوع (خشوع و خضوع)کرنے والے ہیں ۔‘‘

فقیہ ابن المغازی الواسطی الشافعی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس آیت میں جو ولی کا لفظ مذکور ہے اس سے متصرف مراد ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے اور رسول علیہ السلام کے لیے ولایت فی الامہ کا اثبات کیا ہے، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے بھی کیا۔‘‘ ( شیعہ کا بیان ختم ہوا)

[جواب]:اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے: 

پہلی بات:....اس کا جواب یہ ہے کہ شیعہ مصنف نے جوکچھ ذکر کیا ہے کہ وہ اس قابل نہیں ہے کہ عقلاً قبول کیاجائے۔ بلکہ اس کا ذکر کردہ واقعہ صاف جھوٹ پر مبنی ہے۔اور وہی فلاسفہ و حمقاء کے کلام کی جنس سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اگر اسے عقلی طور پر مان لیا جائے تو پھر اسے برہان کہنا انتہائی منکر اور بری بات ہے۔ اس لیے کہ قرآن میں اور دوسرے مقامات پر برہان کا لفظ اس چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جس سے علم اور یقین کا فائدہ حاصل ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰی تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ﴾ [البقرہ ۱۱۱]

’’یہ کہتے ہیں کہ جنت میں یہود و نصاری کے سوا اور کوئی نہ جائے گا، یہ صرف ان کی آرزوئیں ہیں ، ان سے کہو کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی دلیل تو پیش کرو ۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَ الْاَرْضِ ئَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ قُلْ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْن﴾ [النمل ۶۴]

صفحہ 1 از 11