نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ - ردِ رافضیت |…

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4

ان تمام واقعات سے معلوم ہوتا ہےکہ چاروں خلفاء راشدینؓ اس وقت وہیں موجود تھے، جہاں حضرت علیؓ آپ کی وصیت اور اہلِ بیت ہونے کے ناطے  آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین میں عملاً مصروف تھے، وہیں حضرت ابوبکرؓ آپ کے جانشین ہونے کے ناطے اس کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے، جیسا کہ ماقبل میں ذکر ہوا کہ آپ ﷺ کی وفات کا اعلان اور اس کے بعد ایک بلیغ خطبہ اور پھر بعد میں پیش آنے والے دیگر امور (تدفین کی جگہ کا انتخاب، قبر اور جنازے کا طریقہ وغیرہ ) سب  آپ کی راہ نمائی ہی سے کیے گیے، جیساکہ ’’البدایہ والنھایہ‘‘ میں ہے : 

"قَدْ قَدَّمْنَا أَنَّهُمْ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ اشْتَغَلُوا بِبَيْعَةِ الصِّدِّيقِ بَقِيَّةَ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَبَعْضَ يَوْمِ الثُّلَاثَاءِ، فَلَمَّا تَمَهَّدَتْ وَتَوَطَّدَتْ وَتَمَّتْ، شَرَعُوا بَعْدَ ذَلِكَ فِي تَجْهِيزِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم مُقْتَدِينَ فِي كُلِّ مَا أَشْكَلَ عَلَيْهِمْ بِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 280) 

اور جب یہ  معاملہ آیا کہ آپ ﷺ  کی تدفین کہاں کی جائے؟ اور صحابہ کرام اور اہلِ  بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین اس معاملہ میں مضطرب ہوئےتو حضرت ابوبکرؓ نے ہی اس کی راہ نمائی کی کہ میں نے آپ ﷺ سے سنا ہے کہ نبی علیہ السلام کا جہاں انتقال ہو، اسی جگہ دفن کیا جائے۔  اور آپ رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق آپ ﷺ  کی وفات والی جگہ ہی آپ کی قبر بنائی گئی ۔ 

"وَقَالَ ابْنُ مَاجَهْ أَيْضًا: حدثنا عمر بن شبة عن عُبَيْدَةَ بْنِ زَيْدٍ   ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ طُفَيْلٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي ابن أبي مليكة عن عائشة.قالت: لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي اللَّحْدِ وَالشَّقِّ، حتَّى تَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ. فَقَالَ عُمَرُ: لَاتَصْخَبُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيًّا وَلَا مَيِّتًا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا -، فَأَرْسَلُوا إِلَى الشقَّاق وَاللَّاحِدِ جَمِيعًا فَجَاءَ اللَّاحِدُ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دفن، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ مَاجَهْ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 289)

اسی طرح اس موقع پر حضرت عمرؓ بھی مشورہ میں موجود تھے، جیسا کہ جب  یہ معاملہ آیا کہ آپ ﷺ کی قبر  کون سی کھودی جائے، آیا لحد (بغلی قبر) بنائی جائے یا شگاف والی قبر  (جو ہمارے ہاں بنائی جاتی ہے) کھودی جائے؟  تو مہاجرین نے کہا کہ اہلِ مکہ کے طرز پر ’’شق‘‘  تیار کی جائے ، جب کہ انصار نے کہا کہ اہلِ مدینہ کے طریقہ پر ’’لحد ‘‘  تیار کی جائے۔ اس موقع پر حضرت عمرؓ نے مجمع کو خطاب کرکے فرمایا: آپﷺ کے قریب  شور نہ کرو، اور آوازیں بلند نہ کرو، جیسا کہ آپ کی زندگی میں آپ کے قریب شور نہیں کرسکتے، اس طرح آپ ﷺ کی رحلت کے بعد بھی آپ ﷺ کے قریب شور شرابہ نہ کرو، بلکہ شق اور لحد دونوں قسموں کی قبر تیار کرنے والے کے پاس آدمی  بھیج دو، جو پہلے آجائے وہ قبر تیار کردو۔ چنانچہ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے تشریف لے آئے اور آپ ﷺ کی لحدی طرز پر قبر تیار ہوئی ۔ 

اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ماقبل میں ذکر ہوا کہ وہ وہیں موجود تھے، لیکن سکتہ کے عالم میں آگئے تھے، دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے،  شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کرسکتے تھے۔

 پھر آپ ﷺ کی نمازِ جنازہ  آپ ﷺ کی وصیت (کہ تجہیز و تکفین اور قبر کھودنے کے بعد اولاً سب حجرے سے نکل جائیں، پہلے فرشتے نماز ادا کریں گے، پھر اہلِ بیتِ کرامؓ اور پھر دیگر مسلمان) اور حضرت ابوبکرؓ کی ہدایت پر (جیسا کہ روایات میں ہے) گروہ در گروہ کرکے پڑھی گئی، ایک جماعت داخل ہوتی وہ نمازِ جنازہ  پڑھ کر نکل جاتی، اس کے بعد دوسری جماعت آتی اور وہ جنازہ پڑھتی۔

  چناچہ ایک  روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ مہاجرین وانصار کی ایک جماعت کے ساتھ حجرۂ نبویؐ میں داخل ہوئے اور جنازہ نبویؐ کے سامنے کھڑا ہوکر سلام کیا، اور مہاجرین وانصار نے بھی سلام کیا، پھر حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ نے آپ کے جنازہ مبارکہ کے سامنے  یہ کہا : 

"اللَّهُمَّ إِنَّا نَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ، وَنَصَحَ لِأُمَّتِهِ، وجاهد في سيبل الله حتَّى أعزَّ الله دِينَهُ وَتَمَّتْ كَلِمَتُهُ، وَأُومِنَ بِهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، فَاجْعَلْنَا إِلَهَنَا مِمَّنْ يَتَّبِعُ الْقَوْلَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَهُ، وَاجْمَعْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ حتَّى تُعَرِّفَهُ بِنَا وَتُعَرِّفَنَا بِهِ، فَإِنَّهُ كَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رؤوفا رحيماً، لانبتغي بالإيمان به بديلاً، وَلَانَشْتَرِي بِهِ ثَمَنًا أَبَدًا". 

” اے اللہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے وہ سب کچھ پہنچادیا جو ان  پر اتارا گیا، اور آپﷺ نے امت کی خیر خواہی کی، اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا،  یہاں تک کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کیا، اور اس کا بول بالا ہوا، اور صرف ایک معبود وحدہ لاشریک پر ایمان لایا گیا۔ اے اللہ!  ہم کو ان لوگوں میں سے بنا  جو آپ ﷺ پر نازل کردہ وحی کی اتباع کرتے ہیں، اور ہم کو آپﷺ کے ساتھ جمع کر، آپ ہم کو اور ہم آپ کو پہچانیں،  آپ مسلمانوں پر بڑے مہربان تھے،ہم اپنے ایمان کا کوئی معاوضہ اور قیمت نہیں چاہتے “۔ 

لوگوں نے آمین کہی، جب مرد نماز جنازہ سے فارغ ہوگئے  تو عورتوں نے،عورتوں کے  بعد بچوں نے اس طرح ادا کیا۔ 

 لہذا اس سے معلوم ہوا کہ چاروں خلفاء راشدینؓ آپ ﷺ کی تدفین کے وقت موجود تھے اور انہوں  نے آپﷺ کے جنازہ میں شرکت بھی فرمائی۔ نیز بعض اہلِ باطل کی طرف سے یہ مشہور کیا جاتا ہے کہ خلفاء راشدینؓ آپﷺ کی تدفین میں شامل نہیں تھے اور انہوں نے آپﷺ کے جنازہ میں شرکت نہیں کی ، مذکورہ تفصیل سے ان کی بات کا جھوٹ ہونا بھی ثابت ہوگیا۔


صفحہ 4 از 4