نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ - ردِ رافضیت |…

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4

پھر جب آپ ﷺ کی وفات کی قیامت خیز خبر  صحابہ کرامؓ کے کانوں میں پہنچی تو  سب کے ہوش اڑ گئے، تمام مدینہ میں تہلکہ مچ گیا، حضرت عثمان ذو النورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایک سکتہ کے عالم میں آگئے، دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے،  شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کرسکتے تھے، حضرت علیؓ کا یہ حال تھا  کہ زارو قطار روتے تھے، روتے روتے بے ہوش ہوگئے، اسی طرح حضرت عمرؓ انتہائی پریشانی کے عالم میں  تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور بلند آواز سے فرمانے لگے: منافقین کا گمان ہے حضور ﷺ انتقال کرگئے ہیں،  آپ ہرگز فوت نہیں ہوئے ہیں، بلکہ آپ اپنے پرودگار سے ملنے گئے ہیں ، آپ ضرور واپس آئیں گے، حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ  جو مدینہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر تھے، خبر  ملتے ہی سیدھا مدینہ تشریف لے آئے، انتہائی غم کی کیفیت میں حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہا سے اجازت لے کر حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے،  *چہرہ انور سے چادر ہٹائی، پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور روئے، اور فرمایا: "وا نبیاه! وا خلیلاه! وا صفیاه"!* (ملخص الاتحاف شرح احیاء 10/297) 

بعد ازاں حضرت ابوبکرؓ حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے، صحابہ کرام انتہائی پریشانی اور اضطراب کے عالم میں تھے، حضرت عمرؓ  انتہائی جوش میں تھے،  صحابہ کرامؓ حضرت ابوبکرؓ کے گرد جمع ہوگئے، اور اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ  نے انتہائی بلیغ، جامع اور مؤثر خطبہ دیا جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے، اس خطبہ سے یک لخت حیرت کا عالم ختم ہوگیا۔  (اس کی تفصیل کےلیے سیرت مصطفی جلد 3، صفحہ176  کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔) 

اس کے بعد اچانک یہ خبر ملی کہ انصار ، سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہیں، اور آپﷺ کی جانشینی کا مسئلہ درپیش ہے، حضرت ابوبکر وعمر اوردیگر مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ خدشہ ہوا کہ مبادا  عجلت میں کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ ہوجائے جس سے فتنہ برپا ہو اور مسلمانوں کے لیے مصیبت نہ بن جائے آپ  رضی اللہ تعالی عنہ  حضرت عمر اور دیگر مہاجرین کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے، اور وہ قضیہ حل ہونے کے بعد دوبارہ  تشریف لے آئے، حضرات اہلِ بیت آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین کے انتظام میں مصروف تھے،  اور خود بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ  کو وصیت فرمائی تھی کہ ان کے علاوہ آپ ﷺ کو کوئی غسل نہ دے اور یہ کہ وہ (حضرت علیؓ) اہلِ بیت کے تعاون سے آپ ﷺ کو غسل دیں؛   اس لیے غسل وغیرہ کا انتظام اہلِ بیت  رضوان اللہ علیم اجمعین نے سنبھالا ہوا تھا۔  جیساکہ ’’البدایہ والنھایہ‘‘  میں ہے : 

"وقال البيهقي: وروى أبو عمرو بن كَيْسَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَايُغَسِّلَهُ أَحَدٌ غَيْرِي. فَإِنَّهُ لَايَرَى أَحَدٌ عَوْرَتِي إِلَّا طُمِسَتْ عَيْنَاهُ. قَالَ عَلِيٌّ: فَكَانَ العبَّاس وَأُسَامَةُ يُنَاوِلَانِي الْمَاءَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 282) 

" وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَشْعَثِ بْنِ طَلِيقٍ، وَالْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ الْأَصْبَهَانِيِّ كِلَاهُمَا عَنْ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: فِي وَصِيَّةِ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم أَنْ يُغَسِّلَهُ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَنَّهُ قَالَ: كفِّنوني في ثيابي هذه أو في يمانية أَوْ بَيَاضِ مِصْرَ، وَأَنَّهُ إِذَا كفَّنوه يَضَعُونَهُ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ عَنْهُ حتَّى تُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهِ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ النَّاس بَعْدَهُمْ فُرَادَى.الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ وَفِي صِحَّتِهِ نَظَرٌ كَمَا قَدَّمْنَا". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 285) 

حضرت ادریس کاندہلوی رحمۃ اللہ اس واقعہ پر تحریر فرماتے ہیں: 

”اگر کسی بادشاہ کا انتقال ہوجائے تو جب تک اس کا کوئی جانشین نہ ہوجائے اس وقت تک اس کی تجہیز وتکفین  کا انتظام نہیں کیا جاتا،  ایسے وقت میں تجہیز وتکفین کا مسئلہ اتنا اہم نہیں ہوتا جتنا جانشینی کا مسئلہ  اہم ہوتا ہے، خیرخواہانِ حکومت کو یہ  فکر ہوتی ہے کہ انتظامِ مملکت میں خلل نہ آئے، غنیم موقع پاکر بے خبری میں حملہ نہ کر بیٹھے، جس میں تمام ملک کی تباہی اور بربادی کا اندیشہ ہے،  بلکہ بسا اوقات بنظرِ مصلحت بادشاہ کی وفات تک کو چھپالیتے ہیں، اور جانشینی کے بعد اس کا اعلان کرتے ہیں، اور شیعہ حکومتوں میں بھی یہی قاعدہ ہے، اور اگر بادشاہ کے انتقال کے بعد سلطنت کے دو امیر ہوجائیں تو وہ سلطنت ضرور تباہ ہوجاتی ہے، ایک سلطنت کا دو امیر ہوجانا موجبِ خرابی اور باعثِ بربادی ہے، اور آپ ﷺ  کی وفات کے بعد منافقین اور کفار کی طرف سے غدر  اور شور و شر کا احتمال واندیشہ تھا، ایسے وقت میں شیرازۂ اسلام کی حفاظت اولین کام تھا،  بایں نظر شیخین (حضرت ابوبکر اور عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہما) نے یہ گمان کیا کہ تجہیز وتکفین کوئی مشکل کام نہیں ہے اور اہلِ بیت (گھروالوں) سے متعلق ہے، سب صحابہ کرامؓ کا اس میں شریک ہونا ضروری نہیں ، غلامانِ اہلِ بیت بھی یہ خدمت انجام دے سکتے ہیں ۔۔۔  نیز تمام صحابہ کرامؓ کو یہ معلوم تھا کہ وفات سے  انبیاءِ کرام ؑ کےاجسامِ مبارکہ میں کوئی تغیر نہیں آتا، اس لیے تاخیر دفن کا کوئی اندیشہ نہ کیا اور کمال دانش مندی سے  فتنہ اور فساد کا دروازہ بند کردیا اور مسلمانوں کو افتراق سے بچالیا‘‘۔(سیرت مصطفی 3/182، ط: کتب خانہ مظہری) 

اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ کرام ؒ بھی واپس تشریف لائے، آپ ﷺ کو غسل حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے  حضرت عباس رضی اللہ عنہ، اور ان کے دو صاحبزادے حضرت فضل وحضرت قثم اور حضرت اسامہ وشقران رضی اللہ  عنہم کے تعاون سے دیا۔ 

صفحہ 3 از 4