نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ - ردِ رافضیت |…

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4

جب حضور علیہ السلام کا انتقال ہوا تو تجہیز و تکفین کے بعد سب سے پہلے حضور ﷺ پر نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ داخل ہوئے، اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک اتنی مختصر جماعت بھی تھی جو حجرے میں سما سکے۔ پھر شیخینؓ نے کہا السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، اور پھر حضرات مہاجرین اور انصار نے بھی اسی طرح سلام عرض کیا ، جس طرح شیخین نے عرض کیا۔ پھر تمام حضرات صفوں کی صورت میں کھڑے ہو گئے لیکن کسی نے امامت نہیں کروائی۔۔۔ اور آپ دونوں حضرات (حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ) صف اول میں تھے۔

دلائل النبوۃ للبیہقی 

گیارہویں روایت

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب صحابہؓ نے حضور ﷺ کے لئے قبر کھودنے کا ارادہ کیا تو ابوعبیدہ بن الجراحؓ کے پاس آدمی بھیجا۔ یہ مکہ والوں کی طرح مساوی قبر کھودتے تھے۔ اور ایک شخص ابوطلحہؓ کے پاس بھیجا۔ یہ اہل مدینہ کی طرح لحد تیار کرتے تھے اور صحابہؓ بولے : اے اللہ ، اپنے رسول ﷺ کے لئے ایک کو پسند فرما تو ابوطلحہؓ پہنچ گئے، اور ابوعبیدہؓ نہ آسکے۔ نبی کریم ﷺ کے لئے لحد تیار کی گئی۔ منگل کے روز جب لوگ آپ کو کفنانے سے فارغ ہو گئے تو آپ کو تخت پر آپ کے گھر رکھا گیا۔ لوگ گروہ در گروہ آتے اور نماز ادا کرتے۔ جب مرد فارغ ہو گئے تو عورتیں داخل ہوئیں اور ان کے بعد بچے۔ کسی نے نبی کریم ﷺ کی امامت نہ کی۔ 

(سنن ابن ماجہ ، ج1، ص 462) 

بارہویں روایت

محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حسین بن عبداللہ بن عبید اللہ بن عباس نے عکرمہؓ سے ، بحوالہ ابن عباسؓ ، مجھ سے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے تو آدمیوں کو داخل کیا گیا تو لوگوں نے امام کے بغیر جماعت کی صورت میں آپ کا جنازہ پڑھا، یہاں تک کہ فارغ ہو گئے، پھر عورتوں کو داخل کیا گیا، توانہوں نے آپﷺ کی نماز جنازہ پڑھی۔ پھر بچوں کو داخل کیا گیا توانہوں نے آپ ﷺ کی نماز جنازہ پڑھی۔ پھر غلاموں کو داخل کیا گیا تو انہوں نے جماعت کی صورت میں آپ کی نماز جنازہ پڑھی اور رسول کریمﷺ کی نماز جنازہ پڑھتے ہوئے کسی نے ان کی امامت نہ کی۔ 

(البدایہ والنہایہ ج 5 ص 361) 

تیرھویں روایت

عن ابی عبداللہ قال اتی العباس امیر المومنین فقال : یا علی ان الناس قد اجتمعو! ان یدفننوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی بقیع المصلی و ان یوٗمھم رجل منھم ، فخرج امیر المومنین الی الناس فقال یا ایھا الناس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امام حیا و میتا وقال : انی ادفن فی البقعہ التی اقبض فیھا ،ثم قام علی الباب فصلی علیہ ، ثم امر الناس عشرۃ عشرۃ یصلون علیہ ثم یخرجون

امام جعفر صادق ؒ نے فرمایا کہ عباسؓ نے امیر المومنین حضرت علیؓ سے کہا لوگ اس خیال سے جمع ہوئے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جنت البقیع میں دفن کریں اور ان میں سے کوئی نماز جنازہ کی امامت کرے۔ یہ سن کر امیر المومنینؓ باہر آئے اور فرمایا : لوگو! رسول اللہ ﷺ جیسے زندگی میں خلق کے امام تھے، مرنے کے بعد بھی ہیں۔ انہوں نے وصیت کی ہے کہ مجھے اسی جگہ دفن کیا جائے جہاں میری روح قبض ہو ، پھر آپ دروازہ پر کھڑے ہوئے اور نماز جنازہ پڑھی، اور لوگوں سے کہا کہ وہ دس دس آئیں اور نماز جنازہ پڑھ کرباہر نکل جائیں۔

(اصول کافی ج 3 ص26 (مجلسی نے اس روایت کو حسن کالصحیح قرار دیا ، دیکھئے مراۃالعقول ج5، ص 266)) 

چودھویں روایت

عن ابی جعفر قال : لما قبض النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلت علیہ الملائکۃ والمہاجرین و الانصار فوجا فوجا 

امام باقر ؒ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی روح قبض ہوئی تو ملائکہ ، مہاجرین اور انصار نے جوق در جوق آنحضرت ﷺ پر نماز پڑھی۔

( اصول کافی ج 3 ص27) 

پندرھویں روایت

طبرسی نے بسند معتبر روایت کی ہے کہ جب جناب امیر نے حضرت ﷺ کو غسل دیا، ایک کپڑا حضرت کے منہ کے اوپر ڈال دیا اور گھر میں لٹا دیا۔ جو گروہ آتا تھا، حضرت ﷺ کے گرد کھڑا ہو کر درود بھیجتا تھا۔ اور نماز پڑھتا تھا۔ اور پھر باہر چلا جاتا تھا، اس کے بعد دوسرا گروہ آتا تھا۔ جب سب نماز سے فارغ ہوئے، جناب امیر ؑ داخل قبر آنحضرت ﷺ ہوئے اور فضل بن عباس کو بھی قبر میں لے گئے۔

(جلاء العیون ج 1 ص 153) 

سولہویں روایت

طبرسی نے حضرت امام باقر ؒ سے روایت کی ہے کہ دس دس افراد داخل ہوتے تھے، اور آنحضرت ﷺ پر بغیر امام کے نماز پڑھتے تھے۔ اسی طرح تمام دن دوشنبہ اور سہ شنبہ کی رات صبح تک اور سہ شنبہ کا تمام دن شام تک مدینہ اور اطراف مدینہ کے ہر بزرگ، مردوں اور عورتوں نے آنحضرت ﷺ پر نماز پڑھی۔ 

(حیات القلوب ج2، ص 1022) 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی  تدفین کے وقت خلفاءِ  راشدینؓ  کی شمولیت

سرورِ کائنات، آقائے نامدار  ﷺ نے جب اس عالمِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف رحلت فرمائی اور رفیقِ اعلیٰ سے جاملے، اور یہ جان گداز اور روح فرسا واقعہ پیش آیا اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور ایک  عجیب کیفیت اور سکتہ طاری ہوگیا تھا،  مختلف روایت اس سلسلے میں منقول ہیں، اس وقت اور اس کے بعد آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین کے وقت دیگر صحابہ کرامؓ سمیت خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی وہاں موجود تھے،  اس واقعہ  اور  سیاق وسباق  کے واقعات سے اس کی تائید ہوتی ہے، اس کی کچھ تفصیل  یہ ہے: 

 آپ ﷺ  کی وفات سے ایک دن قبل آپ کی طبیعت میں کچھ افاقہ ہوا، حضرت ابوبکرؓ صبح  کی نماز سے فارغ ہوکر  آپ ﷺ کے حجرہ مبارکہ  میں تشریف لے گئے،  آپ ﷺ کے چہرہ پر سکون دیکھا، چوں کہ یہ دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو بیویوں میں سے ایک کی باری کا تھا جو مدینہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر مقام سنح میں رہتی تھی، اس لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ سے اجازت لے کر وہاں چلے گئے۔ اور دیگر صحابہ کرامؓ بھی آپ کی اطمینان کی کیفیت دیکھ  کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ 

صفحہ 2 از 4