عجب کرپشن کی غضب کہانیاں!! بعض اہل علم کے حوالے سے شیعہ…

عجب کرپشن کی غضب کہانیاں!! بعض اہل علم کے حوالے سے شیعہ علماء کی واضح خیانتیں اور مکر و فریب کی داستانیں بمعہ ثبوت!!

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 3

 جیسا کہ آپ یہ خیانت کر رہے ہیں اور تخیل میں جا کر ایک مجہول قول کی بنیاد لے کر یہ فرما رہے ہیں کہ ایسا یک دم تو نہیں ہوا ، یہ ایسے ممکن ہوا ، یہ ویسے ممکن ہوا ، جب وہ عقائد جو اس سے ثابت ہوئے علامہ کشی کی تین صحیح روایات کی روشنی میں وہ ہمارے ہیں ہی نہیں ہم ان عقائد کو کفر اور شرک سمجھتے تو ہمارا اس ملعون سے کوئی تعلق ہی نا ہوا ان عقائد پر ، اور یہ تو ہمارے اسلاف اور آئمہ ع کی زبان سے لعنتی ہے ۔ ہمارے عقائد کا موجد کہاں سے ہو گیا۔  اس قدر جھوٹ ، اس قدر دجل و فریب اور اس قدر خیانت کاری کوئی کیسے کر سکتا ہے ۔

خیالی پلاؤ پکانے کی بجائے کسی ایک صحیح روایت سے ابن سباء سے وہ پانچ عقائد ثابت کیجئے اور پھر اس ملعون کا ان عقائد کا بانی ثابت کیجئے ۔ یہ آپ کی اصل ذمہ داری ہے بجائے اسکے کہ مکر و فریب ، دجل و خیانت اور دھوکہ دہی پر مبنی لمبی لمبی چھوڑیئے۔

 آپ کا استدلال نا صرف ذاتی   بلکہ مبنی بر خیانت ہے ، علامہ کشی نے کہیں بھی اس عنوان سے یہ قول ذکر نہیں کیا کہ اسکو کسی بھی جہت سے سابقہ تین روایات کی وضاحت قرار دیا جائے ، یہ قول فی متن ایک الگ حیثیت رکھتا ہے اور مجہول الحال قول ہے جس کا علامہ کشی سے اصحاب علی تک کا سلسلہ سند ہی نہیں ہے جیسا کہ مذکورہ تینوں روایات کا ہے۔  آپ لوگوں کو فریب دے کر اسے علامہ کشی کی تائید میں شمار کر رہے ہیں  جبکہ انہوں نے کہیں نہیں لکھا کہ *میں یہ کہتا ھوں* ابن سباء یہودی تھا پھر اسلام لایا اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ

ان تک جیسے اسناد کے ساتھ اسکے بارے میں باقی روایات پہنچی ویسے ہی ایک بلا سند قول پہنچا انہوں نے اسے ویسے ہی نقل کر دیا جیسے اسناد والی روایات نقل کیں ۔ اس میں ان کا عقیدہ یا ان کی تائید تو کہیں بھی نہیں ہے۔

  میں نے وہ سب دیکھا ہے محترم ، آپ الٹا چلنے کے عادی ہیں تو شوق سے چلیئے آپ کے الٹا چلنے سے حقیقت نہیں بدلے گی ۔ قدیمی کتب کی بھی آپکو سند ہی دینی پڑے گی وہ صحیح اصولوں کیساتھ ، مکر و فریب اور دجل و خیانت سے تو کچھ بھی ثابت نہیں ہو گا ، الٹا آپ کو اس طرح کے خیالی پلاؤ پکانے کا نقصان اٹھانا پڑے گا اور آپ بہت سی چیزوں کو ماننے کے پابند ہو جائیں گے ۔

  میرا ارادہ آپکے اس باطل اور مبنی بر فریب دعوے کی دھجیاں اڑانے کا ہے باوجود اس کے کہ آپ شروع میں ہی خیانت کاری اور مکر و فریب کے مرتکب ہوئے ہیں۔

واضح خیانت کاری ، علامہ کشی نے جیسے بقیہ اسناد کیساتھ والے اسکے حالات لکھے ہیں ویسے ہی جو ان تک پہنچا انہوں نے اہل علم کے حوالے سے لکھ دیا نا کہ کوئی وضاحت یا تائید فرمائی جیسا کہ آپ فریب دے رہے ہیں ۔ بالکل خیانت کاری کہ جید علماء نے یہ حقائق کے طور پر اور تائید کے طور پر بیان کیا ہے ۔ محترم یہ اصول کہاں سے لیا آپ نے کہ مؤرخ یا محدث جب کوئی تاریخی روایت کا قول نقل کر کے اسکی تردید نا کرے تو وہ اس قول کی وثاقت یا اس مؤرخ کے عقیدے کی دلیل ہے ؟؟؟؟ یہ اصول کہاں سے لیا ؟؟؟؟ ابھی میں اس کی دھجیاں بکھیروں گا یہیں ان شاء اللہ۔

بالکل علامہ نوبختی نے یہ قول ان الفاظ میں لکھا ہے کہ اصحاب علی میں سے بعض اہل علم کا بیان ہے لیکن بات تو اصول کی ہے کہ نوبختی مؤرخ ہیں جیسے مسعودی مورخ ہے ، شہرستانی مؤرخ ہیں، طبری مؤرخ ہیں ، ابن قتیبہ مؤرخ ہیں اور اسی طرح ابن عساکر، ابن شبہ ، واقدی اور دیگر مؤرخین ہیں۔

لیکن بات تو سند کی ہے نا ، مؤرخ سے اصحاب علی تک کی سند پیش کریں، تاکہ  اس کی تفصیل اور توثیق تضعیف دیکھی جا سکے ۔جس طرح آپ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں اس طرح تو کوئی دعا تک ثابت نہیں ہوتی اصولی طور پر اور آپ نکلے ہیں ابن سباء جیسے ملعون کو خیرالبریہ عقائد کا مؤجد ثابت کرنے ۔

شرائط کے مطابق صحیح روایات پیش کرو ،جن سے یہ ثابت ہو کہ ابن سباء کے واقعی وہ عقائد تھے جن کا آپ نے دعوی کیا اور اگلا مرحلہ اسے ان عقائد کا بانی ثابت کرنے کا ہے ۔ یہ نہیں کہ آپ نے مکر و فریب کا ایک جال بُن دیا اور وہ ثابت ہو گیا۔

اصحاب علی ع میں اگر یہ عقائد ابن سباء نے پھیلائے تھے یا وہ اس کے ان عقائد سے واقف ہو چکے تھے تو اس کے ثبوت میں کوئی سند پیش کرو گے تو ہی بات بنے گی ایسے *اہل علم کے ذکر سے تو ثابت نہیں ہونگے* ان اہل علم من اصحاب علی سے لیکر نوبختی یا کشی تک سند دینی پڑے گی ۔ تب آپکی بات میں یہ کشش پیدا ہوگی کہ اسکو دلیل ماننے کیلئے اصولوں پر پیش کیا جائے ، ابھی تو یہ قول اس قابل بھی نہیں کہ اسکی طرف توجہ بھی دی جائے کجا اس کی بنیاد پر بنیادیں ثابت کی جائیں ۔

آپ نے لکھا کہ

⬅️سوال : کیا یہ ممکن ھے کہ وہ بعض اہل علم اہل سنت علماء ہوں؟

یہ ممکن ہی نہیں کیونکہ قرائن اسکے خلاف ہیں ۔ اوپر ثابت کیا جا چکا ہے کہ وہ بعض اہل علم اصحاب علی تھے (ابن سباء خود بھی ان میں شامل تھا)

*آپ کے اس جملے سے یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ آپکے علماء یا بزرگان میں سے کوئی بھی علی ع کا صحابی نا تھا ، نا آپ کے بزرگوں کا علی ع یا ان کے اصحاب سے کوئی تعلق تھا،  نا آپ کے بزرگان علی ع کی صحبت میں رہتے تھے*

گویا نمازیں بخشوانے نکلے تھے الٹا روزے گلے پڑ گئے (محاورہ)

ہمیں ابن سباء کا پیروکار ثابت کرنے نکلے تھے اور خود اپنی زبان سے خود کے بزرگان مذہب کو علی ع اور اصحاب علی ع سے لاتعلق کروا بیٹھے ۔

ہائے اس کاپی پیسٹ پر کون نا مر جائے ، بحار والی بات اور الفاظ کو اڑانے والی بات کاپی کرنے میں جناب نے نقل کے ساتھ عقل کا استعمال نا کیا ۔ اس کا جواب آپ کو دیتا ہوں ۔

بعض کی جگہ اگر تو کسی کا نام یا سلسلہ سند ہوتا تو آپکا یہ اعتراض بنتا تھا جب بعض کا کوئی بعض ہی ہونگے نا وہ اہل علم ہوں یا نا ہوں ۔ جب ان کے حال سے ہی کوئی واقف نہیں کہ وہ بعض کون سے کن عقائد کے حامل تھے تو ان کا ذکر مجہول ہے اور مجہول ہی رہے گا، کسی کام کا نہیں ۔

صفحہ 2 از 3