ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ…

ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ایک طرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہﷺ کی جدائی کے غم میں نڈھال تھیں، جس کے سامنے تمام مصیبتیں ہیچ تھیں اور خود بھی بیمار پڑ کر صاحب فراش ہو گئیں اور دوسری طرف سیدنا ابوبکر صدیقؓ امور خلافت اور مرتدین سے تال میں اس قدر مشغول ہوئے کہ معمولی فرصت بھی نہ رہی اور پھر سیدہ فاطمہؓ کو معلوم تھا کہ وہ جلد وفات پا کر اپنے والد سے ملنے والی ہیں جیسا کہ رسول اللہﷺ نے ان کو خبر دی تھی پس جس کی یہ صورت حال ہو وہ دنیاوی امور میں کہاں دلچسپی لے سکتا ہے۔ یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان زیادہ اتصال نہ رہ سکا، جن کو قطع تعلق پر محمول کر لیا گیا۔ مہلب رحمہ اللہ نے کتنی اچھی بات کہی ہے، جسے علامہ عینی نے نقل کیا ہے: سیدنا ابوبکر اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان میراث کے مسئلہ میں ملاقات ہوئی اور اس کے بعد سیدہ فاطمہؓ نے اپنے گھر کو لازم پکڑا جسے راوی نے قطع تعلق سے تعبیر کر دیا۔

(اباطیل یجب ان تمحی من التاریخ: صفحہ 108)

تاریخی حیثیت سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں مدینہ کے مال فے، فدک کے اموال اور خیبر کے خمس میں سے اہل بیت کے حقوق برابر ادا کرتے رہے لیکن نبی کریمﷺ کے ارشاد پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس میں میراث کا حکم جاری نہیں کیا۔

محمد بن علی بن حسین الباقر اور زید بن علی بن حسین سے روایت ہے کہ ان دونوں نے فرمایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمارے آباء و اجداد کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہیں کی۔

(المرتضی للندوی: صفحہ 90، 91 نقلًا عن نہج البلاغۃ شرح ابن ابی الحدید)

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال 3 رمضان المبارک 11 ہجری شنبہ کی رات، رسول اللہﷺ کے انتقال سے چھ ماہ بعد ہوا اور رسول اللہﷺ آپؓ کو پہلے سے بتا چکے تھے کہ آپؓ کے اہل بیت میں سب سے پہلے آپؓ ہی ان سے ملیں گی اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا تھا:

اما ترضین ان تکونی سیدۃ نساء اہل الجنۃ۔

ترجمہ: کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ تم جنتی عورتوں کی سردار ہو گی۔

(المرتضی للندوی: صفحہ 94 یہ روایت صحیح بخاری کی ہے۔ دیکھیے صحیح البخاری: المناقب صفحہ 3624 (مترجم)

علی بن حسین رحمہ اللہ کی روایت ہے: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال مغرب و عشاء کے درمیان ہوا۔ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا زبیر اور سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے اور جب نماز جنازہ کے لیے آپؓ کو رکھا گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’ابوبکر آگے آیئے۔

سيدنا ابوبکرؓ نے کہا: سيدنا ابوالحسنؓ آپؓ موجود ہیں؟

فرمایا: ہاں میں موجود ہوں لیکن آپؓ آگے بڑھیں، واللہ آپؓ ہی نمازِ جنازہ پڑھائیں گے۔

پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سيده فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور رات ہی میں تدفین عمل میں آئی اور ایک روایت میں ہے کہ: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی اور چار تکبیریں کہیں۔

(المرتضی للندوی: صفحہ، 94 الطبقات الكبري: جلد، 7 صفحہ 29)

اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور یہی روایت راجح ہے۔

(مسلم: صفحہ 1759)

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اہلِ بیت کے ساتھ تعلق محبت و تعظیم پر تھا، جو آپؓ اور اہل بیت کے شایان شان تھا اور یہ محبت و اعتماد حضرت ابوبکر و حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان طرفین سے پایا جاتا تھا، سیدنا علیؓ نے اپنے ایک بیٹے کا نام ابوبکر رکھا.

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 98)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ نے آپ کے بیٹے محمد کو گود لیا اور پوری رعایت و توجہ کے ساتھ ان کی کفالت کی اور اپنی خلافت میں ان کو والی بنایا جس کی وجہ سے آپؓ کے خلاف لوگوں کی زبانیں کھلیں اور آپؓ پر اعتراض کیا گیا۔

(المرتضیٰ للندوی: صفحہ، 98)


صفحہ 2 از 2