صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ…

صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ کے خون مبارک کو پینے والی حدیث کو غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کا ضعیف کہنے پر تعاقب(تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 2 از 3
(كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم۔ ط العلمية: جلد، 3 صفحہ، 638)
یہ ہے متقدم امام سے اس راوی کی توثیق ضمنی۔
2: امام ضیاء الدین مقدسیؒ نے اس راوی سے الأحاديث المختارة میں یہی روایت لی اور خود امن پوری صاحب نے حوالہ درج کرکے لکھا کہ امام مقدسیؒ نے اس روایت کی تصحیح کی۔
(كتاب الأحاديث المختارة: جلد، 9 صفحہ، 308)
یہ ہے متقدم امام سے اس راوی کی توثیق ضمنی۔
توثیق ضمنی کیا ہے؟ اور کیسے پہچانی جاتی ہے؟:
التوثيق الضمنی وهو تصحيح أو تحسين حديث الرجل
ظہیر امن پوری صاحب کو تو یہ بتانے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ اس کو بخوبی جانتے ہیں مگر کچھ وہ لوگ جو اس اصطلاح سے بے خبر ہیں ان کے لیے یہ تفصیل ہے۔
کسی ناقد امام کا کسی راوی کی بیان کردہ غریب روایت جس کا کوئی متابع نہ ہو اس کی تصحیح یا تحسین کرنا اس سند میں موجود تمام رواۃ کی تعدیل و توثیق ہوتی ہے اس قسم کی توثیق کو توثیق ضمنی کہتے ہیں۔
اسی طرح اس کے اور بھی کچھ طریقہ ہیں مثلاً کسی ایسے امام کا اس راوی سے اپنی کتاب میں روایت درج کرنا جس نے اپنی کتاب میں صحت کی شرط لگائی ہو جیسے صحیح بخاری٬ صحیح مسلم٬ صحیح ابنِ خزیمہ٬ صحیح ابنِ حبان٬ مستدرک للحاکم٬ الاحادیث المختارۃ وغیرہ تو یہ بھی اس راوی کی توثیق ضمنی کہلائے گی۔
لہٰذا امام حاکمؒ اور امام مقدسیؒ نے اپنی کتب میں صحیح حدیث لانے کی شرط لگائی ہے اور انہوں نے ھنید بن قاسم سے روایت لی ہے یہ اس کی توثیق ضمنی ہے اور یہ دونوں امام متقدمین میں سے ہیں۔
امام شمس الدین ذہبیؒ توثیق ضمنی کا ذکر اپنی اصول حدیث کی مایہ ناز کتاب میں فرماتے ہیں:
الثقة: مَن وثَّقَه كثيرٌ، ولم يُضعَّف ودُونَه: مَن لم يُوَثَّق ولا ضُعِّف فإن خُرِّج حديثُ هذا فی "الصحيحين" فهو مُوَثَّق بذلك وإن صَحَّح له مثلُ الترمذی و ابنِ خزيمة، فجيِّدٌ أيضاً وإن صَحَّحَ له كالدارقطنی و الحاكم، فأقلُّ أحوالهِ: حُسْنُ حديثه۔
ترجمہ: ثقہ وہ ہے جس کو محدثین کی اکثریت ثقہ قرار دے اور اس کی تضعیف نہ کی گئی ہو اور اس سے نچلے طبقہ میں وہ ہے جس کی نہ توثیق کی گئی اور نہ تضعیف پس اگر ایسے راوی کی حدیث صحیحین میں مروی ہو تو اس وجہ سے اس کی توثیق ہوگی اور اگر اسکی حدیث کی اگر امام ترمذیؒ اور امام ابنِ خزیمہؒ جیسے محدثین تصحیح کریں تو وہ ضمنی توثیق بھی اسی طرح جید ہوگی جیسا کہ صریح توثیق اور اگر امام دارقطنیؒ یا امام حاکمؒ جیسے اس راوی کی حدیث کی تصحیح کریں تو اس کا کم سے کم حال یہ ہوگا کہ وہ حسن الحدیث پر رہے گا۔
(الموقظة فی علم مصطلح الحديث: صفحہ، 78)
لہٰذا ھنید بن قاسم کی منفرد سند کی تصحیح امام حاکمؒ نے فرمائی ہے اور امام ذہبیؒ کے بقول یہ راوی کم از کم حسن الحدیث ٹھرتا ہے۔
امام ابوالحسن ابنِ قطان الفاسیؒ م628ھ بھی توثیق ضمنی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَفِی تَصْحِيح التِّرْمِذِی إِيَّاه توثيقها وتوثيق سعد بن إِسْحَاق، وَلَا يضر الثِّقَة أَن لَا يروی عَنهُ إِلَّا وَاحِد، وَالله أعلم۔
اور ترمذی کی طرف سے اس حدیث کی تصحیح میں اُس کی اور سعد بن اسحاق کی توثیق ہے، اور ثقہ راوی کو یہ بات مضر نہیں کہ اس سے صرف ایک شخص ہی روایت کرے، واللہ اعلم۔
(بيان الوهم والإيهام فی كتاب الأحكام: جلد، 5 صفحہ، 395)
امام ابنِ قطان الفاسیؒ کے کلام سے بھی یہ واضح ہوا کہ کسی محدث کا کسی راوی کی منفرد روایت کی تصحیح کرنا اس راوی کی توثیق ہوتی۔
لہٰذا امام حاکم و ضیاء مقدسیؒ رحمهما الله سے ھنید بن قاسم کی توثیق ثابت ہوئی کیونکہ دونوں نے اسکی منفرد حدیث کی تصحیح کی ہے ۔
3: امام ابو العباس البوصیری مقدسیؒ نے بھی اس راوی کی توثیق ضمنی کی اس کی بیان کردہ اسی روایت کی سند کو حسن قرار دے کر۔
(كتاب إتحاف الخيرة: جلد، 4 صفحہ، 434)
4: امام ابو حاتم بن حبانؒ نے اس راوی کی صریح توثیق کی اپنی کتاب الثقات میں درج کرکے۔
(كتاب الثقات: 4413)
نوٹ: متقدمین ائمہ میں سے امام ابنِ حبانؒ کا اس کی توثیق میں تفرد نہیں ہے۔
5 امام نور الدین ہیثمیؒ نے اس راوی کی صریح توثیق کی چنانچہ زیرِ بحث روایت کو مجمع الزوائد میں نقل کرکے فرماتے ہیں۔
رواه الطبرانی والبزار باختصار ورجال البزار رجال الصحيح غير ھنيد بن القاسم وهو ثقة۔
اس روایت کو امام طبرانیؒ اور امام بزارؒ نے بیان کیا اور امام بزارؒ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ھنید بن قاسم کے علاوہ اور یہ راوی بھی ثقہ ہے۔
( كتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: جلد، 8 صفحہ، 270)
6: شیخ الاسلام والمسلمین حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے بھی ھنید بن قاسم کی تعدیل فرمائی چنانچہ اسی حدیث کو نقل کرکے فرماتے ہیں۔
ورواه الطبرانی فی الكبير والبيهقی فی الخصائص من السنن وفی إسناده الهنيد بن القاسم ولا بأس به۔
ترجمہ: اس حدیث کو امام طبرانیؒ نے معجم الکبیر میں اور بیہقی نے سنن الکبریٰ میں روایت کیا اس کی سند میں ھنید بن قاسم ہے اس سے حدیث بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
(كتاب التلخيص الحبير - ط العلمية: جلد، 1 صفحہ، 169)
نوٹ: لَا بَأْسَ بِه یہ الفاظ صدوق درجہ کے راویان پر بولے جاتے ہیں اور حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ نے بھی ان الفاظ کو اور صدوق کے الفاظ کو ایک ہی طبقے میں رکھا ہے اور حافظ کے نزدیک صدوق کی منفرد روایت حسن لذاتہ ہوتی ہے۔
اس مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کہ ھنید بن قاسم بن عبدالرحمن کم از کم صدوق حسن الحدیث راوی ہے اور غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب نے جو امامین کی توثیق کو جس وجہ سے غیر صحیح قرار دیا تھا ہم نے اس کا بھی جواب دے دیا الحمدللہ۔
6: عامر بن عبد الله بن الزبير
حافظ شمس الدین ذہبیؒ ان کی بارے میں فرماتے ہیں:
ابن عبد الله بن الزبير بن العوام ، الإمام الربانی أبو الحارث الأسدی المدنی أحد العباد قلت: مجمع على ثقته۔
عامر بن عبداللہ بن زبیر بن عوام امام ربانی ابوحارث اسدی المدنی بہت بڑے عبادت گزار پھر آخر میں فرماتے ہیں میں کہتا ہوں ان کے ثقہ ہونے پر اجماع ہے۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 5 صفحہ، 220)
7: عبد الله بن الزبير بن العوام۔
صفحہ 2 از 3