فصل: محبت علی رضی اللہ عنہ اور گناہ کی چھوٹ - ردِ رافضیت |…

فصل: محبت علی رضی اللہ عنہ اور گناہ کی چھوٹ

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 2

پھر یہ بات بھی معلوم ہے کہ اگر آپ کی محبت کا دعویٰ کرنے والے جنہوں نے آپ کو دیکھا تھا ‘ اور آپ کے ساتھ مل کر دوسرے لوگوں سے جنگیں کی تھی ۔وہ دوسرے لوگوں کی نسبت اپنے دعویٰ میں بہت بڑھ چڑھ کر تھے ؛ مگر حضرت علیؓ پھر بھی ان کی مذمت کیا کرتے اور ان پر عیب جوئی کیا کرتے تھے؛ ان پر طعن کرتے اور جو کچھ ان لوگوں نے آپ کے ساتھ کیا تھا اس سے برأت کا اظہار فرماتے تھے۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ ان کے بدلے میں انہیں انتہائی  برا حکمران دے دے اور ا ن برے ساتھیوں کے بدلے میں انہیں انتہائی اچھے ساتھی عطاء فرما دے۔ اور اگر ان شیعہ کا کوئی اور گناہ نہ بھی ہوتا تو صرف جنگوں میں جو ان لوگوں نے حضرت کو ذلیل کیا ‘ اور آپ کے احکام کی نافرمانی کی[یہی رسوائی ان لوگوں کے لیے کافی تھی]۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے زمانے کے بہترین شیعہ تھے ۔ اور حضرت علیؓ واضح فرماتے ہیں کہ:’’ ان لوگوں کے گناہ انہیں نقصان پہنچا رہے  ہیں ‘‘ ؛ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو شر و فساد میں اس دور کے شیعہ سے دو ہاتھ آگے ہیں ۔

خلاصہ کلام ! ایسی بات کہنا کفر ہے ۔ یہ کہنے والے سے توبہ کروانی چاہیے۔ اور اللہ اور اس کے رسول پر او رآخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسی بے ڈھنگ بات کہے ۔

ایسے ہی رافضی مصنف کا قول : ’’ حضرت علیؓ سے بغض رکھنا وہ برائی ہے جس کے ساتھ کوئی نیکی کام نہیں آتی۔‘‘

جواب : اگر آپ سے بغض رکھنے والا کافر ہے تو پھر یقیناً وہ اپنے کفر کی وجہ سے انتہائی بدبخت ہے ۔ اور اگر مؤمن ہے تو اسے اس کے ایمان سے فائدہ ضرور پہنچے گا بھلے وہ آپ سے بغض رکھنے کی غلطی کررہا ہو۔ [علیؓ کی محبت ایسی نیکی ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی برائی نقصان دہ نہیں ہے۔اور بغض علی ایسی برائی ہے جس کی موجود گی میں کوئی نیکی بھی فائدہ مند نہیں ہے۔‘‘ [الفضائل؍ شاذان بن جبرائیل القمی: 96( فی فضائل الامام علی علیہ السلام ] نیز آپ کی طرف یہ بھی منسوب کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ( حالانکہ آپ اس الزام سے بری ہیں ):’’۔ اگر تمام مخلوق علی بن أبی طالب کی محبت پر جمع ہو جاتی تو اﷲ تعالیٰ جہنم کو پیدا نہ فرماتے۔‘‘ [الفضائل؍ شاذان بن جبرائیل( خبر المقدسی )] اور ایک بہتان یہ بھی آپ کی طرف منسوب کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ کوئی بھی غلام یا باندی ایسے نہیں مرتے جن کے دل میں مثقال کے ایک ذرہ کے برابر بھی حضرت علیؓ  کی محبت ہوگی ؛ مگر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے ۔‘‘ الآمالي للطوسي صفحہ 330؛ ح: 107۔ بشارۃ المصطفی صفحہ 361؛ ح: 46۔ کشف الغمۃ 2؍23۔ فصل في ذکر مناقب شتی و أحادیث متفرقۃ۔]

رافضی مصنف کی ابن مسعودؓ  سے ذکر کردہ روایت کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے :’’ آل محمد سے ایک دن محبت کرنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔اور جس کا انتقال اس محبت پر ہوگیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

یہ روایت بھی موضوع ہے۔

اسی طرح یہ روایت :’’ میں اور علیؓ   اللہثکی مخلوق پر حجت ہیں ۔‘‘ کھلا ہوا کذب ہے۔

اہل علم پر ان دونوں روایات کا جھوٹ ہونا صاف واضح ہے ۔ایک سال کی عبادت میں ایمان ؛روزانہ کی پانچ نمازیں ‘ماہ رمضان کے روزے ہیں ۔ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ آل محمدﷺ  سے ایک ماہ کی محبت ان اعمال کے قائم مقام نہیں ہوسکتی تھی ؛تو پھر ایک دن کی محبت کیسے اس کے بدلے میں کافی ہوسکتی ہے؟

ایسے ہی بندوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت صرف اس کے رسولوں کے ذریعہ قائم ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :


صفحہ 2 از 2