امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اہتمام - دفاعِ اہلِ سنت |…

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

آپؓ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور اللہ کی یاد دلاتے اور آپؓ کے مواعظ و نصائح میں سے یہ ہے تاریکیاں پانچ ہیں، اور ان تاریکیوں کو دور کرنے والے چراغ بھی پانچ ہیں دنیا کی محبت تاریکی ہے، اس کے لیے چراغ تقویٰ ہے۔ گناہ تاریکی ہے اس کے لیے چراغ توبہ ہے۔ قبر تاریکی ہے اس کے لیے چراغ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ آخرت تاریکی ہے اس کے لیے چراغ عمل صالح ہے۔ پل صراط تاریکی ہے اس کے لیے چراغ یقین ہے۔

(فرائد الکلام للخلفاء الکرام، قاسم عاشور: صفحہ 29)

سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ جمعہ کے ذریعہ سے لوگوں کو سچائی، حیا اور آخرت کی تیاری پر ابھارتے اور غرور سے منع کرتے۔ اوسط بن اسماعیل رحمہ اللہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہﷺ کی وفات کے ایک سال بعد سیدنا ابوبکرؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپؓ نے فرمایا جہاں میں آج کھڑا ہوں رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکرؓ رونے لگے، آپؓ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، آنسوؤں کی وجہ سے بات نہ کر سکے۔ پھر فرمایا لوگو! اللہ سے عافیت طلب کرو، یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی خیر نہیں دی گئی ہے۔ سچائی کو لازم پکڑو، وہ نیکی کے ساتھ ہے، ان دونوں کا انجام جنت ہے۔ جھوٹ سے دور رہو، وہ برائی کے ساتھ ہے اور ان دونوں کا انجام جہنم ہے۔ آپس میں تعلقات منقطع نہ کرو، رشتے نہ توڑو، آپس میں بغض و دشمنی نہ رکھو، حسد نہ کرو۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہو جاؤ۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الصدیق: صفحہ 179)

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدنا ابوبکرؓ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت! اللہ عزوجل سے حیا کرو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب میں قضائے حاجت کے لیے جاتا ہوں تو اللہ سے حیا کرتے ہوئے اپنے آپ کو کپڑے سے ڈھانپ لیتا ہوں۔

(صحیح التوثیق فی سیرۃ و حیاۃ الصدیق: صفحہ 182)

سیدنا عبداللہ بن حکیمؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا

اما بعد! میں تمہیں اللہ سے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں اور تم اللہ کی اس قدر ثنا بیان کرو جس کا وہ اہل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکریا علیہ السلام اور ان کے اہل بیت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا

إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ

(سورۃ الانبیاء: آیت نمبر 90)

ترجمہ: یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں لالچ و طمع اور ڈر اور خوف سے پکارتے تھے اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے۔

فرمایا: اللہ کے بندو! اس حقیقت کو جانو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے عوض تمہاری جانوں کو رہن پر لیا۔

ہے اور اس پر تم سے عہد و پیمان لے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلیل فانی شے (دنیا) کو کثیر باقی رہنے والی شے (آخرت) کے عوض خرید لیا ہے۔ یہ اللہ کی کتاب تمہارے درمیان ہے، اس کے عجائبات ختم ہونے والے نہیں، اس کی روشنی بجھنے والی نہیں۔ لہٰذا اللہ کے فرمان کی تصدیق کرو، اس کی کتاب کی نصیحت قبول کرو، تاریکی کے دن (قیامت) کے لیے اس سے روشنی حاصل کرو، اس نے تم کو عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور کراماً کاتبین کو تمہارے ساتھ لگا دیا ہے، تم جو کچھ کرتے ہو ان کا اس کو علم ہے۔ پھر فرمایا: اللہ کے بندو! یاد رکھو، تم موت کے سایہ میں صبح و شام کرتے ہو، اس کا علم تم سے پوشیدہ رکھا گیا ہے، اگر تم سے یہ ہو سکے کہ جب موت آئے تو تم اللہ کے لیے کام کر رہے ہو تو کرو۔ اور اللہ کی مدد کے بغیر ایسا نہیں کر سکتے۔ لہٰذا فرصت کا جو وقت ملا ہے اس میں آگے بڑھو، قبل ازیں کہ تمہاری زندگی ختم ہو جائے، پھر تم اپنے برے اعمال کی طرف لوٹا دیے جاؤ۔ کچھ لوگوں نے اپنی زندگیاں دوسروں کے لیے وقف کیں اور اپنے آپ کو بھول گئے، میں تمہیں ان کے نقش قدم پر چلنے سے منع کرتا ہوں۔ جلدی کرو جلدی کرو، پھر آگے بڑھو آگے بڑھو۔ تمہارے پیچھے سے بڑی تیزی سے تمہارا تعاقب ہو رہا ہے۔ کہاں گئے بھائی و دوست جنہیں تم پہچانتے ہو؟ وہ اپنے کیے کو پہنچ گئے، انہوں نے ماضی میں جو کچھ کیا اس میں شقاوت و سعادت کے ساتھ داخل ہو گئے۔ وہ جابر و ظالم لوگ کہاں گئے جنہوں نے شہر بسائے، اس کے چہار جانب فصیلیں تعمیر کیں۔ آج وہ خود چٹانوں اور کنوؤں کے نیچے جا چکے۔ حسین چہرے والے، اپنی جوانی پر ریجھنے والے کہاں ہیں؟ ملوک وسلاطین کہاں گئے؟ اور کہاں گئے وہ لوگ جو جنگوں میں غلبہ و قوت حاصل کرتے تھے؟ دنیا نے ان کو ذلیل کر دیا اور وہ قبر کی تاریکیوں میں جا پڑے۔ اس بات میں کوئی خیر نہیں جس سے مقصود اللہ کی رضا نہ ہو، اس مال میں کوئی خیر نہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ نہ ہو، اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جس کی جہالت اس کی بردباری پر غالب ہو، اور اس شخص میں بھی کوئی خیر نہیں جو اللہ کے بارے میں ملامت گروں کی ملامت کا خوف کھائے۔

یقین جانو! اللہ اور مخلوق کے درمیان کوئی نسب و رشتہ نہیں جس کی وجہ سے کسی کو خیر عطا کرے اور برائی سے بچائے، اس کا معیار صرف اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم کی اتباع ہے۔ وہ خیر خیر نہیں جس کے بعد جہنم ہو اور وہ شر شر نہیں جس کے بعد جنت ہو۔ اور جان لو! جو کچھ تم نے اللہ کے لیے کیا تو تم نے اپنے رب کی اطاعت کی اور اپنے حق کی حفاظت کی۔

میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر حال میں اللہ سے تقویٰ اختیار کرو، اور اللہ کی شایان شان اس کی ثنا بیان کرو، اس سے استغفار کرو، وہ مغفرت فرمانے والا ہے۔ میں اپنی یہ بات کہتا ہوں اور اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 7 صفحہ 144 اسنادہ حسن لغیرہ، صحیح التوثیق فی سیرۃ وحیاۃ الصدیق: صفحہ 181)

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ معاشرہ کی سدھار و اصلاح کا اس طرح اہتمام فرماتے تھے، مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے، ان کو خیر پر ابھارتے، بھلائی کا حکم دیتے، برائی سے روکنے تھے۔ یہاں چند نمونوں پر اکتفا کیا گیا ہے ورنہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی سیرت اس سے بھری پڑی ہے۔


صفحہ 2 از 2