سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کے بارے میں کعب…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کے بارے میں کعب احبار کے موقف کی حقیقت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

گویا ابولؤلؤ کی دھمکی اور اس کی قاتلانہ کارروائی کے درمیان چند محدود گھڑیوں کا فاصلہ تھا، لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کعب احبار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کیسے اور کب گئے؟ اور جا کر کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ تین دنوں میں آپ مر جائیں گے۔ پھر کہتے ہیں کہ آج ایک دن گزر گیا، صرف دو دن اور باقی ہیں۔ پھر کہا: آج دو دن گزر گئے اب ایک دن اور ایک رات باقی ہے۔ اگر دھمکی شام کو دی اور صبح قاتلانہ کارروائی کر بیٹھا تو کعب کو یہ تین دن کہاں سے مل گئے؟ اس کے بعد سلسلہ وار متاخرین نے مثلاً سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں، عصامی نے ’’سمط النجوم العوالی‘‘ میں، شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اور ان کے صاحبزادے عبداللہ نے ’’مختصر سیرۃ الرسول‘‘ میں اور حسن ابراہیم حسن نے ’’تاریخ الإسلام السیاسی‘‘ میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کو ذکر کیا ہے لیکن کسی نے دور و نزدیک کسی اعتبار سے بھی کعب کا واقعہ نہیں چھیڑا۔ اگر اس کو جھوٹ تسلیم نہ کریں تو کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ محققین کے نزدیک اس واقعہ کا ذکر قطعاً اطمینان بخش نہیں ہے اور بعض لوگوں نے کعب کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت ڈالنے کے لیے یہ سازش کی ہے۔ یہی بات زیادہ سمجھ میں آتی ہے اور اسی پر دل کو اطمینان بھی حاصل ہوتا ہے۔ خاص طور سے اس لیے کہ وہ بہترین مسلمانوں میں سے تھے اور بہت سارے صحابہ کرامؓ کی نگاہوں میں ان کو بہت بڑا اعتماد حاصل تھا، یہاں تک کہ بعض صحابہ کرامؓ نے ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کی ہے۔

(جولۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 296)


صفحہ 3 از 3