صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس -…

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جاہل اور ظالم کی رافضی تقس

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 4

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول:’’ اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس امت میں سب سے افضل ، نیک دل، عمیق العلم اور تکلف و تصنع سے پاک تھے۔‘‘ایک جامع کلام ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حسن قصد و نیت اور دلوں کی نیکی کا بیان ہے۔ نیز یہ بھی بیان ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کمال معرفت و دقت اورگہرے علم کی نعمت سے سرفراز تھے۔ اور آپ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے : صحابہ کرام بلا علم بات کہنے اور تکلف کرنے سے بہت ہی دور اور پاک تھے۔‘‘

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مذکورہ بالا ارشاد اس جاہل مصنف کے ان دعاوی کے عین برعکس ہے کہ حضرات صحابہ طالب دنیا، جاہل اور حق کی تلاش سے قاصر تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ صحابہ کامل العلم اور نیک دل تھے، اور ان کا زمانہ سب زمانوں سے بہتر تھا۔یہ تواترکے ساتھ احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ بہترین زمانہ وہ ہے جس میں میں مبعوث کیا گیا ہوں ۔پھر اس کے بعد آنے والے ‘ پھر ان کے بعد آنے والے ۔‘‘ [اس کی تخریج گزر چکی ہے ۔]

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امت وسط کے بہترین لوگوں میں سے ہیں جو کہ سابقہ امتوں پر گواہی دیں گے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اختلاف میں راہ ِ حق کی طرف ہدایت دی۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے ۔ پس یہ جماعت نہ ان لوگوں میں سے تھی جو اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں او رجن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ؛ اورنہ ہی گمراہ اور جاہلین میں سے تھے۔ جس طرح کہ جاہل شیعہ نے انہیں گمراہوں اور سرکش باغیوں میں تقسیم کیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس یہ لوگ کمال علم اور جمال قصد کی نعمت سے مالا مال تھے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر اس سے یہ لازم آتا کہ نہ ہی یہ امت دوسری امتوں سے بہتر ہے‘اورنہ ہی خود بہترین امت ہے۔ یہ دونوں باتیں کتاب و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں ۔

مزید برآں عقلی قیاس بھی اس چیز پر دلالت کرتا ہے ۔ اس لیے کہ جوکوئی اگر امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال پر غورو فکر کرے اور اس کے ساتھ ہی یہود و نصاری ؛ مجوس و مشرکین اور صابئین کے احوال پر بھی نظر فکرو عبرت ڈالے تو اس کے لیے باقی امتوں پر اس امت کی فضیلت علم نافع کے اعتبار سے ؛ عمل صالح کے لحاظ سے دیگر ہر اعتبار سے واضح ہوجائے گی۔ یہ ایک لمبا موضوع ہے جس کی تفصیل بیان کرنے کا موقع یہ نہیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس امت کے کامل ترین لوگ ہیں ۔اس پر کتاب و سنت ‘ اجماع امت اور قیاس سے دلائل موجود ہیں ۔ اسی لیے آپ کو اکابرین امت میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ملے گا جواپنے آپ او راپنے امثال پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمتوں اور فضیلتوں اور برتری کا اعتراف نہ کرتا ہو۔ اور آپ دیکھیں گے کہ جو لوگ اس بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ۔ جیسے رافضی۔ وہ لوگوں میں سب سے بڑے جاہل ہیں ۔ اسی لیے آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ فقہ و حدیث ‘ زہد وعبادت میں کوئی امام ایسا نہیں ہے جس کی طرف رافضی رجوع کرتے ہوں ۔او رنہ ہی کوئی کامیاب مسلمان جرنیل یا حکمران رافضی ہوا ہے۔ کوئی مسلمان بادشاہ ایسا نہیں گزرا جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو‘ دین اسلام کی نصرت کی ہو‘ اور دین اسلام کو اللہ کی زمین پر نافذ کیا ہو‘ اور اس کا تعلق رافضیوں سے ہو ۔ اور نہ ہی وزراء میں کوئی اچھی سیرت و کردار کا حامل انسان ایسا گزرا ہے جو کہ رافضی ہو۔

آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ رافضہ میں اکثر لوگ یا تو زندیق ‘ منافق اور ملحد ہوتے ہیں ‘ یا پھر پرلے درجے کے جاہل جنہیں نہ ہی منقولات کا کوئی علم ہوتا ہے اور نہ ہی معقولات کا۔یہ لوگ وادیوں اورپہاڑی علاقوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں ۔مسلمانوں پر جبر و ستم کرتے ہیں ۔ اہل علم و دین سے مجلس نہیں کرتے؛ سوائے اس صورت کے کہ کوئی انہی جیسا خواہش پرست ہو جس سے انہیں کچھ امیدیں وابستہ ہوں ۔ یاپھر کسی کیساتھ اس لیے بیٹھتے ہیں کہ وہ ان کے نسب کا ہو؛ اور اس کے ساتھ نسبی تعصب کے لیے بیٹھتے ہیں ؛ جو کہ اہل جاہلیت کا طریقہ ہے۔

جو کوئی اہل علم و دین سے مجلس رکھنے والا مسلمان ہو‘ وہ رافضی نہیں ہوسکتا ۔ شیعہ مصنف کا یہ بیان اس کی جہالت و تشیع کی غمازی کرتا ہے۔ ہم اس سے محفوظ و مصؤن رہنے کے لیے بارگاہ ایزدی میں دست بدعا ہیں ، اس لیے کہ تشیع بد ترین فرقوں مثلاً: نصیریہ، اسماعیلیہ، ملاحدہ، اہل الجیل اور قرامطہ کا ملجا و ماویٰ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ فرقے علم سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے۔ ان[کی رگ رگ ] میں کذب ‘ خیانت ؛ وعدہ خلافی اور نفاق کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے :

’’ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تواس میں خیانت کرے۔‘‘[صحیح مسلم:کتاب الایمان ‘باب منافق کی نشانیوں کابیان؛ح:213]

اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی زیادہ ہیں :

’’ اور اگرچہ وہ روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔‘‘

اہل قبلہ میں سے یہ تین نشانیاں جس گروہ میں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں ‘ وہ رافضہ کا گروہ ہے۔

مزید برآں اس جھوٹے کذاب مصنف سے کہا جائے گا: ’’ تصور کیجیے کہ جن لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بیعت کی ؛ تووہ تمہارے قول کے مطابق یا تو دنیا کے طلب گار تھے؛ یا پھر جاہل ۔اور ان کے بعد کی صدیوں میں ایسے لوگ بھی آئے جو ان میں سے ہر ایک کی طہارت و ذکاوت کو جانتے تھے۔جیسے حضرت : سعید بن المسیب ؛ حسن البصری ؛ عطاء ابن ابی رباح ؛ ابراہیم النخعی؛ علقمہ ؛ اسود ؛ عبیدہ سلیمانی ؛ طاؤوس ؛ مجاہد ؛ سعید بن جبیر ؛ ابو الشعثاء ؛ جابر بن زید؛ علی بن زید؛ علی بن الحسین ؛ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ ؛ عروۃ ابن زبیر؛ قاسم بن محمد بن ابو بکر ؛ ابو بکر بن عبد الرحمن بن الحارث ؛ مطرف بن شخیر ؛ محمد بن واسع ؛حبیب العجمی ؛ مالک بن دینار؛ مکحول؛ حکم بن عتبہ ؛ یزید بن ابی حبیب رحمہم اللہ ؛اور ان کے علاوہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں جن کی صحیح گنتی کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔

صفحہ 2 از 4