علامہ الکشی اور اس کی کتاب رجال الکشی کی اہل تشیع کے ہاں…

علامہ الکشی اور اس کی کتاب رجال الکشی کی اہل تشیع کے ہاں قدر و منزلت!

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

⬅️ مصنف اپنی ذمہ داری سے کتاب لکھتا ہے، اس میں روایات پر تحقیق کی جاتی ہے، کوئی قول ضعیف روایات کی روشنی میں ہو تو قابل التفات نہیں ہوتا۔لیکن اگر عالم صحیح روایات بیان کرے گا تو پھر اس کے مؤقف کو بغیر دیگر صحیح روایات اور قرائن کے یکسر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔

 

اسی لئے میں آپ کو آپشنز بتاتا آ رہا ہوں، شرائط میں بھی یہی باتیں مذکور ہیں۔ آپ کو میرے دلائل کا علمی رد بھی اسی طرح پیش کرنا ہے۔

  *یہ جواب دے کر آپ نے پھر   شرط 1 کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔*آپ نے بار  بار  ذاتیات پر حملے  کئے  ہیں ۔ کیا میں نے آپ کی شان میں کوئی گستاخی کی ہے؟ حالانکہ یہی الفاظ کہنے میں حق بجانب بھی ہوں گا۔

میں آپ کے اہم جوابات کے اسکرین شاٹ بھی محفوظ کرتا آ رہا ہوں، اس کے باوجود میرا فوکس صرف موضوع پر ہے۔

ایڈمنز سے گذارش ہے کہ  شیعہ مناظر کو پابند کریں کہ وہ شرائط کے مطابق گفتگو کرے۔۔ اگرچہ اس نے ہر ٹرن میں تین جوابات والی شرط کا بھی لحاظ نہیں رکھا لیکن گفتگو کی اہمیت کے پیش نظر میں نے انہیں زیادہ کچھ نہیں کہا، لیکن میں مجبور ہوں کہ اپنے جوابات بھی اسی طرح  ترتیب سے دوں۔

  سوال یہ ہے کہ کیوں لکھا ؟علامہ کشی کو اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

اور نہ صرف ایک عالم کشی نے لکھا بلکہ نوبختی نے بھی وہی عبارت لکھی، سعد بن عبداللہ القمی نے بھی وہی بات بیان کی۔۔۔۔ اور سب نے عبداللہ ابن سبا کی وہ تمام روایات بیان کر کے ہی یہ نقل کیا ہے، اس کے علاوہ اہل علم کا لفظ بذات خود یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے کوئی مجہول قول سن کر نقل نہیں کیا، سب نے تصدیق فرمائی ہے کہ دور قدیم کے اہل علم اشخاص کا یہ متفقہ نظریہ ہے کہ ابن سبا نے ان عقائد کی شروعات کی تھی۔ اگر کسی ایک کا قول ہوتا تو یہ گمان ہوتا کہ شاید اسے ابہام ہوا ہو،  یا اس اکیلے کی رائے پر نتیجہ کیسے نکالا جائے، لیکن یہاں اکثریت اہل علم کے نظریے کو بیان کیا گیا ہے، اور اس کے بعد ہر زمانے کے شیعہ جید علماء نے اس نظریے کو تسلیم کرتے ہوئے ان اقوال کو نقل در نقل کیا ہے۔ کیا ایسی مضبوط حقیقت جھٹلانا ممکن ہے؟

  صحیح روایات بیان کر کے تین متقدمین شیعہ علماء نے جو تشریح بیان کی ہے اس کی تردید ذاتی رائے سے ممکن نہیں ہے۔شرائط میں  بھی ہم نے یہی طئے کیا تھا۔

⬅️ کوئی مؤرخ یا محدث ضعیف روایت پر کوئی رائے دے تو آپ اعتراض وارد کر سکتے ہیں۔

صحیح روایات پر رائے دے تو اس کا علمی رد کرنے کے بھی مختلف طریقے ہیں،  مثال کے طور پر دوسری صحیح روایات، دوسرے علماء کے اقوال اور مختلف منطقی قرائن وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے، آپ کچھ پیش تو کریں۔

آپ تو ابھی تک ذاتی تاویلات کرتے آ رہے ہیں۔ کیا متقدمین جیّد علماء کے سامنے آپ کی ذاتی رائے قبول کی جائے؟ کمال ہے۔

اس کے بعد تو آپ نے حد کردی ہے۔  اپنے ہی ثقہ شیعہ عالم نوبختی کو متنازعہ مؤرخین  کی صف میں شامل کردیا ہے۔ کہاں مسعودی، ابن قتیبہ اور واقدی جیسے بدنام زمانہ مؤرخ  اور کہاں  شیعہ کے ہاں ثقہ صحیح العقیدہ  جیّد عالم نوبختی!


صفحہ 2 از 2