قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین - ردِ…

قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 6 از 6

(( کلہم یدخل الجنۃ ِإلا صاحِب الجملِ الأحمرِ ۔))[یہ حدیث دوسرے الفاظ میں ملی ہے۔ رواہ مسلِم عن جابِرِ بنِ عبدِ اللہِ رضی اللّٰہ عنہ ؛ 4؍2144 ؛ کتاب صِفاتِ المنافِقِین وأحکامِہِم، الباب الأولِ؛ النووِی فِی شرحِہِ 17؍126 ۔ اس جد بن قیس کے بارے میں اکثر مؤرخین اور مفسرین نے ایسے ہی لکھاہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ نے الاصابہ میں اس کے حالات زندگی لکھے ہیں ۔ اس کا نام جد بن قیس بن صخر بن خنساء بن سنان بن عبید بن غنم بن کعب بن سلمہ ؛ الانصاری ؛ ابو عبداللہ ۔ یہ بنو سلمہ قبیلے کا سردار تھا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا ماموں تھا۔ اور وہ چھوٹا ہی تھا کہ اسے اٹھا کر بیعت حقبہ میں لایا گیا تھا۔ ابن حجر نے اس حدیث کی اسناد کو قوی لکھاہے۔ اوراس کے بارے میں یہ بھی کہا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ایام میں اس نے توبہ کرلی تھی؛ اور اچھا مسلمان بن گیاتھا۔]

’’سرخ اونٹ والے کے علاوہ سبھی لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔‘‘

خلاصہ کلام ! اس میں کوئی شک نہیں کہ منافقین چھپے ہوئے ؛ پست اور ذلیل لوگ تھے۔ بالخصوص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں ۔ اورغزوہ تبوک میں ۔ فرمان الٰہی ہے:

﴿یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَآ اِِلَی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّ وَلِلَّہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰـکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ﴾[المنافقون ۸ ]

’’وہ کہتے ہیں یقیناً اگر ہم مدینہ واپس گئے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورایمان والوں کے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔‘‘

یہ آیت اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہے کہ عزت اہل ایمان کے لیے ہے منافقین کے لیے نہیں ۔اور اصحاب محمد عزت و قوت سے بہرہ ور تھے، اور منافق ان کے درمیان ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ پس یہ بات ممتنع ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو کہ تمام مسلمانوں میں سب سے بڑھ کر عزت والے تھے ؛ ان کا شمار بھی منافقین میں سے ہو۔ بلکہ اس آیت کا تقاضا ہے کہ جو جتنی زیادہ عزت اور غلبہ والا ہو ‘ وہ اتنا ہی بڑا ایمان دار بھی ہو۔

[[مذکورۃ الصدرآیات میں ذکر کردہ صفات ایک ذلیل اور مقہور و مجبور قوم کی صفات ہی ہو سکتی ہیں ، اس کے عین برخلاف سابقین اولین مہاجرین و انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور بعد از وفات ہمیشہ باعزت زندگی بسر کرتے رہے، یہ آیات اس امر کی شاہد عدل ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باعزت صحابہ رضی اللہ عنہم کسی طرح بھی منافق اور ذلیل و رسوا نہ تھے ]]۔ اوریہ بات سبھی جانتے ہیں کہ سابقین اولین ‘ مہاجرین و انصار خلفاء راشدین اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والے تھے۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ منافقین اہل ایمان کے درمیان ذلیل و رسوا تھے۔ پس یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہوسکتا کہ عزت و غلبہ رکھنے والے صحابہ کرام کا شمار منافقین میں ہو۔ اگر یہ وصف کسی پر صادق آتا ہے تو وہ رافضی اور ان کے ہمنوادوسرے لوگ ہیں جو صحابہ کرام پر معترض رہتے ہیں ۔


صفحہ 6 از 6