قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین - ردِ…

قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 5 از 6

﴿ اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْکٰفِرِیْنَ فِیْ جَھَنَّمَ جَمِیْعَا٭ نِ الَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰہِ قَالُوْٓا اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ وَ اِنْ کَانَ لِلْکٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ قَالُوْٓا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَ نَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فَاللّٰہُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا﴾[النساء۱۴۰۔۱۴۱]

’’بے شک اللہ منافقوں اور کافروں ، سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔وہ جو تمھارے بارے میں انتظار کرتے ہیں ، پھر اگر تمھارے لیے اللہ کی طرف سے کوئی فتح ہو جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو کوئی حصہ مل جائے تو کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں ہوگئے تھے اور ہم نے تمھیں ایمان والوں سے نہیں بچایا تھا۔ پس اللہ تمھارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہر گز کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اِنَّ الْمُتٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَ لَنْ تَجِدَلَھُمْ نَصِیْرًاO اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰہِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَھُمْ لِلّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا﴾[نساء ۱۴۵۔۱۴۶] 

’’بیشک منافقین آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہونگے اور تو ہرگز ان کا کوئی مدد گار نہ پائے گا۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنا دین اللہ کے لیے خالص کر لیا تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ مومنوں کو جلد ہی بہت بڑا اجر دے گا۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ اِنَّھُمْ لَمِنْکُمْ وَمَا ھُمْ مِّنْکُمْ وَ لٰکِنَّھُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ﴾[توبہ]

’’اور وہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ بے شک وہ ضرور تم میں سے ہیں ، حالانکہ وہ تم میں سے نہیں اور لیکن وہ ایسے لوگ ہیں جو ڈرتے ہیں ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿اَلَمْ تَرَی اِِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مَا ہُمْ مِنْکُمْ وَلاَ مِنْہُمْ وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ ﴾[المجادلۃ ۱۴]

’’کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہو گیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے ہیں ۔‘‘

پس اللہ سبحانہ و تعالیٰ خبر دے رہے ہیں کہ منافقین کا شمار اہل ایمان یا اہل کتاب میں نہیں ہوتا۔ اور یہ لوگ اسلام کااظہار کرنے والے گروہوں میں سے کسی بھی گروہ میں روافض سے بڑھ کر نہیں پائے جاتے۔ رافضیت میں نفاق رچا بسا ہوا ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿ یَوْمَ لاَ یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ نُوْرُہُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَ بِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا اِِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ﴾ [تحریم۸]

’’جس دن اللہ نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہا ہو گا، وہ کہہ رہے ہوں گے اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہمارا نور پورا کر اور ہمیں بخش دے، یقیناً تو ہر چیز پر خوب قادر ہے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَائَکُمْ فَالْتَمِسُوا نُوْرًا﴾[الحدید ۱۳]

’’جس دن منافق مرد اور عورتیں ایمان وا لوں سے کہیں گے: ہمارا انتظار کرو کہ ہم تمھاری روشنی سے کچھ روشنی حاصل کر لیں ۔ کہا جائے گا اپنے پیچھے لوٹ جاؤ، پس کچھ روشنی تلاش کرو۔‘‘

پس یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ منافقین اہل ایمان میں داخل نہیں ہیں ۔ اور جو لوگ منافق تھے؛ ان میں سے کچھ نے توبہ کرلی ؛ اور نفاق سے باز آگیا؛ اوراکثر یہی ہوا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِھِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْھَآ اِلَّا قَلِیْلًا٭مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْاتَقْتِیْلًا﴾[الاحزاب ۶۰۔۶۱]

’’یقیناً اگر یہ منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی خبریں اڑانے والے لوگ باز نہ آئے تو ہم تجھے ضرور ہی ان پر مسلط کر دیں گے، پھر وہ اس میں تیرے پڑوس میں نہیں رہیں گے مگر کم۔اس حال میں کہ لعنت کیے ہوئے ہوں گے، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور ٹکڑے ٹکڑے کیے جائیں گے ،بری طرح ٹکڑے کیا جانا۔‘‘

جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر مسلط نہیں ؛اور نہ ہی انہیں بالکل قتل کیا گیا؛ بلکہ یہ لوگ مدینہ کے گرد و نواح میں آباد رہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ نفاق سے باز آگئے تھے۔

جو لوگ آپ کے ساتھ حدیبیہ میں تھے؛ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرلی تھی؛ سوائے جد بن قیس کے۔ وہ سرخ اونٹ کے پیچھے چھپ گیاتھا۔ اس کے بارے میں حدیث میں آتاہے:

صفحہ 5 از 6