قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین - ردِ…

قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 6

بخلاف لفظ ’’مَا‘‘کے کہ جب لفظ ’’ من ‘‘ موجود نہ ہو۔ جیسا کہ یہ قول ہے : ’’ مارأیت رجلاً۔‘‘’’ میں نے کسی مرد کو نہیں دیکھا۔ ظاہری طور پر یہاں بھی لفظ ’’ ما ‘‘ نفی جنس کے لیے آرہا ہے ؛ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مقصود نفی جنس نہ ہو بلکہ نفی عدد کی ہو۔ یعنی میں نے ایک آدمی نہیں دیکھا ۔ جیسا کہ سیبویہ کا قول ہے کہ یوں کہنا جائز ہے : : ’’ مارأیت رجلاً بل رجلین۔‘‘’’ میں نے ایک آدمی کو نہیں دیکھا ؛ بلکہ دو آدمی دیکھے ہیں ۔‘‘ اس سے ظاہر ہوا کہ اس سے ایک مراد لینا بھی جائز ہے اگرچہ یہ ظاہر میں جنس کی نفی کے لیے آتا ہے۔ 

اسی لیے کہتے ہیں : اگر کسی انسان نے اپنے غلاموں سے کہا :’’من أعطاني منکم ألفاً فہو حر ‘‘ تم میں سے جو کوئی مجھے ایک ہزار دیدے تووہ آزاد ہے ۔تو ہر ایک غلام اسے ایک ایک ہزار دیدے ؛ تووہ سب آزاد ہوجائیں گے۔

ایسے ہی اگر انسان اپنی بیویوں سے کہے : ’’من أبرأتني منکن من صداقہا فھي طالق ‘‘ تم میں سے جو کوئی مجھے اپنے مہر سے بری کردے ؛ اسے طلاق ہے۔پھراس کی سب بیویاں اسے مہر سے بری کردیں تو ان سب کو طلاق ہوجائے گی۔ اس لیے کہ لفظ ’’ من ‘‘ لگاکر حکم بیان کرنے کا مقصد جنس کا بیان ہے۔ نہ کہ یہ حکم بعض کے لیے ثابت کیا جائے اور بعض غلاموں یا بیویوں کے حق میں اس حکم کا انکار کیا جائے ۔ 

اگر کوئی انسان یہ کہے کہ : جیسے یہ بات ممتنع نہیں ہے کہ تمام لوگ اس صفت سے موصوف ہوں ‘ ایسے ہی یہ بھی واجب نہیں ہے کہ تمام لوگ ان صفات کے حامل ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ﴾ [النور۵۵]

’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ وعدہ فرما چکا ہے ۔‘‘

اس آیت کا تقاضا یہ بھی نہیں ہے کہ تمام لوگ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہوں ۔

[جواب] ان سے کہا جائے گا: ہاں ؛ ایسے ہی ہے ۔فقط ان الفاظ کی وجہ سے ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ تمام لوگ ایمان اور عمل صالح سے متصف ہیں ۔مگر یہاں پر ہمارے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ:لفظ ’’من ‘‘ اس کے منافی نہیں ہے کہ یہ وصف ان لوگوں کو بھی شامل ہو۔ کوئی یہ بات نہیں کہتا کہ : 

﴿ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآئُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآئُ بَیْنَہُمْ ﴾ (الفتح: ۲۹)

’’محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت آپس میں رحمدل ہیں ۔‘‘

اس آیت میں خطاب ِ تعریف ان تمام لوگوں کے لیے عام اور شامل ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ مدح ان صفات پر ہے جن کاتذکرہ کیا جاچکا۔ یعنی کفار پر سختی؛ آپس میں رحمت و شفقت ؛ رکوع اور سجدہ کرنا ؛ اللہ تعالیٰ کے فضل و رضامندی کی تلاش ؛ خصوصاً ان کے چہروں پر سجدوں کے اثرات ؛ او ریہ کہ انہوں نے کمزوری سے ابتداء کی اور بتدریج قوت و کمال حاصل کرتے گئے ۔جیسے کہ کاشتکاری میں ہوتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اوراجر عظیم کا وعدہ صرف ان صفات کی بنا پر نہیں ہے ‘ بلکہ ان کے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے ہے ۔ جس سے وہ وعدے کے مستحق ہوں اللہ تعالیٰ نے وہ ذکر کیا ہے اگرچہ وہ سب کے سب ان صفات سے متصف ہوں ۔ اگر ان چیزوں کا ذکر نہ کیا جاتا توخیال کیا جاسکتا تھا کہ فقط اس ذکر کی وجہ سے یہ لوگ مغفرت اور اجر عظیم کے مستحق ٹھہرے ہیں ۔ اور اس میں اس جزاء کا کوئی سبب بیان نہ ہوتا۔بخلاف اس کے کہ جب ایمان او رعمل صالح کا ذکر کیا جائے ۔ اس لیے کہ جب حکم کو کسی مناسب اسم مشتق کے ساتھ معلق بیان کیا جائے تو اس حکم میں اشتقاق کا سبب بھی پایا جاتا ہے ۔

٭[اشکال]: باقی رہا یہ سوال کہ منافق بھی اس دور میں بظاہر مسلم ہونے کے دعویٰ دار تھے؟

[جواب ]:اس کاجواب یہ ہے کہ منافقین میں کوئی اچھا وصف نہ تھا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین صحابہ میں کسی کی صحبت و رفاقت کا شرف حاصل نہ تھا،اورنہ ہی ان میں سے تھے۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل آیات قابل ملاحظہ ہیں :

﴿ فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عَنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ نٰدِمِیْنَ ٭وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْمَانِہِمْ اِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ﴾ [المائدۃ ۵۲۔۵۳]

’’بہت ممکن ہے کہ عنقریب اللہ تعالی فتح دیدے یا اپنے پاس سے کوئی اور چیز لائے پھر تو یہ اپنے دلوں میں چھپائی ہوئی باتوں پر( بے طرح)نادم ہونے لگیں گے۔اور ایماندار کہیں گے، کیا یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے مبالغہ سے اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ ان کے اعمال غارت ہوئے اور یہ ناکام ہوگئے۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

﴿مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللّٰہِ وَ لَئِنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ اَوَ لَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ(۱۰) وَ لَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ

’’اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو کہتا ہے ہم اللہ پر ایمان لائے، پھر جب اسے اللہ (کے معاملہ) میں تکلیف دی جائے تو لوگوں کے ستانے کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیتا ہے اور یقیناً اگر تیرے رب کی طرف سے کوئی مدد آجائے تو یقیناً ضرور کہیں گے ہم تو تمھارے ساتھ تھے، اور کیا اللہ اسے زیادہ جاننے والا نہیں جو سارے جہانوں کے سینوں میں ہے۔اور یقیناً اللہ ان لوگوں کو ضرور جان لے گاجو ایمان لائے اور یقیناً انھیں بھی ضرور جان لے گا جو منافق ہیں ۔‘‘[عنکبوت۱۰۔ ۱۱]

نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

صفحہ 4 از 6