قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین - ردِ…

قرآنی آیات سے مدح صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 6

پس قرآن کریم حضرات صحابہ حضرت ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ایمان اور ان کے پر امن دور خلافت وتمکنت میں جو لوگ ان کے ساتھ تھے ؛ ان کے ایمان پر دلالت کرتا ہے۔اور وہ لوگ جو اس خلافت و تمکین کے پر امن دور میں موجود تھے ‘ اور پھر انہوں نے فتنہ کے زمانہ کو پایا؛ جیسے :حضرت علی رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ اورعمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی اس آیت میں داخل ہیں ۔ اس لیے کہ انہوں نے زمانہ خلافت پایا ‘ قدرت و شوکت سے بہرہ ور ہوئے ‘ اور امن و امان قائم کیا۔

دوسری جانب اس تفریق اور فتنہ کے دور میں بدعات کا آغاز ہوا اور مختلف فرقے سر اٹھانے لگے؛مثلاً : روافض جنہوں نے اسلام میں نئی نئی چیزیں ایجاد کیں ۔ نیز خوارج جو کہ اسلام سے نکل گئے ۔انہیں یہ نص شامل نہیں ہے۔پس ان کا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوتا جنہیں اس آیت میں ایمان اور عمل صالح سے موصوف کیا گیا ہے ۔ اس لیے کہ اولاً : ان لوگوں کاشمار ان صحابہ میں نہیں ہوتا جو اس آیت میں مخاطب ہیں ۔ نیز ان کے لیے استخلاف و تمکین اور امن حاصل نہیں ہوسکا جیسا کہ صحابہ کرام کے مبارک دور میں ہوا تھا۔ بلکہ یہ ہمیشہ خوف و دہشت کا شکار اور افراتفری اور بے چینی میں رہے ۔

اگر کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا :

﴿وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْہُمْ ﴾ [الفتح۲۹]

’’ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اورنیک اعمال کیے ....‘‘

اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تمام اہل ایمان سے اس نے وعدہ کیا ہے ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ہے :

﴿وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ﴾ [النور ۵۵]

’’تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ وعدہ فرما چکا ہے ۔‘‘

[گزشتہ آیت میں ]ایسے نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم سب سے وعدہ کرتا ہے؛ جو لفظ’’مِنْ‘‘ بیان جنس کے لیے ہوتا ہے ‘اس کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ اسی لفظ کے ساتھ مجرور ہونے والا کلمہ اس سے باہر ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ ﴾ [الحج ۳۰]

’’ پس بچو گندگی سے جو کہ بتوں کی ہے ۔‘‘

تو اس کا تقاضا ہر گز یہ نہیں ہے کہ بتوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جوگندے اور پلید نہیں ہیں ۔ جب آپ کہیں :

’’ ثوب من حریر‘‘’’ ریشم میں سے لباس ۔‘‘ تو یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کہہ رہے ہوں : ’’ ثوب حریر‘‘ ’’ریشم کا لباس‘‘اس سے مقصود یہ نہیں کوئی ریشم ایسا بھی ہے جو مضاف الیہ نہ ہو۔

جب لفظ’’مِنْ‘‘بیان جنس کے لیے آتا ہے ؛ تو پھر جملہ مقدر یوں ہوگا کہ : ’’ تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالی وعدہ فرما چکا ہے ؛ جو اس جنس میں سے ہیں ۔‘‘یہ جنس تمام نیکو کار مؤمنین کی ہے ۔

اور ایسے ہی جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’’ان لوگوں سے جو ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کئے ہیں اللہ تعالی وعدہ فرما چکا ہے ۔‘‘یعنی اس جنس اور صنف کے جتنے بھی لوگ ہیں ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑے اجر کاوعدہ ہے ۔ جب کہ ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم سے یہ فرمایا گیا :

﴿وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْکُنَّ لِلّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِہَآ اَجْرَہَا مَرَّتَیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَہَا رِزْقًا کَرِیْمًا﴾ [الأحزاب ۳۱]

’’اور تم میں سے جوکوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک عمل کرے گی اسے ہم اس کا اجر دوبار دیں گے اور ہم نے اس کے لیے با عزت رزق تیار کر رکھا ہے۔‘‘

تواس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرتی ہو‘ او ر نیک اعمال بجا لاتی ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

﴿وَ اِذَا جَآئَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ اَنَّہٗ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْٓئً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ [الأنعام۵۴]

’’اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں توفرمادیجیے سلام ہے تم پر، تمھارے رب نے رحم کرنا اپنے آپ پر لازم کر لیا ہے ۔بے شک حقیقت یہ ہے کہ تم میں سے جو شخص جہالت سے کوئی برائی کرے، پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو یقیناً وہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘

تواس میں کوئی مانع نہیں ہے کہ ان میں سے ہر ایک اس صفت سے موصوف ہو۔ اور یہ کہنا جائز نہیں کہ اگر یہ جہالت سے کوئی برائی کاکام کردیں ‘ اور پھر اس کے بعد توبہ کریں او رنیک اعمال بجالائیں ‘ تو ان میں سے صرف چند ایک کی مغفرت ہوگی سب کی نہیں ۔ اسی لیے یہ لفظ ’’ من ‘‘جب نفی پر آتا ہے تو اس سے مراد جنس کی نفی ہوتیہے ۔ جیساکہ اس فرمان الٰہی ہے :

﴿ وَمَا اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ ﴾ [الطور۲۱]

’’ اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿وَ مَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ ﴾ [آل عمران ۶۲]

’’ اور کوئی بھی معبود برحق نہیں سوائے ایک اللہ کے ۔‘‘

نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَمَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنَ﴾ [الحاقۃ ۴۷]

’’پھر تم میں سے کوئی بھی( ہمیں ) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔‘‘

اسی لیے جب یہ لفظ کسی جملہ پرتحقیقی یا تقدیری نفی کے لیے داخل ہوتا ہے ‘ تو اس سے پوری جنس کی نفی مراد ہوتی ہے۔ تحقیق کی مثالیں تو وہ ہیں جو گزر چکی ہیں ۔ اور تقدیر کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

﴿لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ﴾ [الصافات ۳۵]

’’ اور کوئی بھی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے ۔‘‘

اور سورت بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ﴾

’’ اس کتاب کے سچا ہونے میں کوئی شک نہیں ۔‘‘ ان کے علاوہ بھی دیگر کئی مثالیں ہیں ۔

صفحہ 3 از 6